مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کا امریکی فوجی اڈوں پر بڑا حملہ، خلیج میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

تہران نے ان کارروائیوں کو ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے جوابی اقدامات جاری رکھے گا۔

ایرانی ایجنسی کے ساتھ

تہران/واشنگٹن/کویت — ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی ایک مرتبہ پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے جمعرات کے روز کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے بعد خلیج اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے ساتھ ساتھ سفارتی اور اقتصادی دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایرانی حملوں کے بعد کویتی حکام نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائی کی گئی۔ کویتی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے آنے والے متعدد خطرات کو روکنے کی کوشش کی، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے تصدیق کی کہ تہران نے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا نے ان حملوں کو امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی حالیہ فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔

امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی وار

حالیہ کشیدگی کا نیا مرحلہ اتوار کے روز شروع ہوا، جب امریکہ نے کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایران کے مختلف اہداف پر دوبارہ فضائی حملے کیے۔ واشنگٹن کی جانب سے ان حملوں کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایرانی کوششوں کو روکنا بتائی گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔ تہران نے ان کارروائیوں کو ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے جوابی اقدامات جاری رکھے گا۔

امریکی حملوں کے بعد ایران نے صرف ایک مقام تک محدود رہنے کے بجائے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ایرانی حملوں کا دائرہ کویت کے علاوہ اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عراق کے خودمختار کردستان خطے تک پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس صورتحال نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، فضائی دفاعی نظام اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

کویت میں امریکی فوجی اڈے نشانے پر

کویت میں امریکی فوجی موجودگی خطے میں واشنگٹن کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے براہِ راست خلیجی ریاستیں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے اگلے محاذ میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

کویتی فوج کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی تصدیق کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی حفاظتی اقدامات سخت کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

خلیجی ممالک پہلے ہی اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کا دائرہ ان کی سرزمین تک نہ پھیل جائے۔ تازہ واقعات نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے۔

ایران نے ’’نئی حکمت عملی‘‘ اختیار کرلی، محسن رضائی کا دعویٰ

ایرانی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے موجودہ جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران نے ایک ’’نئی حکمت عملی‘‘ اختیار کر لی ہے۔

ان کے مطابق ایران کی نئی حکمت عملی امریکہ کے لیے انتہائی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حکمت عملی امریکی مفادات اور خطے میں اس کی موجودگی کی ’’بنیادیں ہلا دے گی‘‘۔

ایرانی قیادت کی جانب سے اس قسم کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران موجودہ تنازع کو صرف محدود جوابی حملوں تک رکھنے کے بجائے امریکہ پر وسیع تر سیاسی، فوجی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا سخت انتباہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران پر ’’جب چاہے‘‘ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے دوبارہ حملے کی کھلی دھمکی نے جنگ بندی یا مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں اور سمندری راستوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

آبنائے ہرمز؛ عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ

ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ تنازع میں آبنائے ہرمز مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل کے لیے بنیادی گزرگاہ کا کردار ادا کرتا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول اور بندش برقرار رکھنے کی اطلاعات نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔

اگر یہ راستہ طویل عرصے تک مکمل یا جزوی طور پر بند رہتا ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی رسد متاثر ہونے، شپنگ اخراجات بڑھنے اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی وجہ سے ایران اور امریکہ کی جنگ اب صرف دو ممالک کے درمیان فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور سپلائی چین تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

امریکہ کی ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ناکہ بندی

ایران کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ واشنگٹن کی حکمت عملی میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کی مالی اور تجارتی صلاحیت کو محدود کرنا اس دباؤ کا بنیادی مقصد ہے تاکہ ایران کو اپنی فوجی سرگرمیوں اور علاقائی کارروائیوں میں کمی پر مجبور کیا جاسکے۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق ایران کے اقتصادی اور تجارتی شراکت داروں کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ تہران پر ’’انتہائی زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اس پالیسی کے نتیجے میں ایران کے لیے بین الاقوامی تجارت، توانائی کی برآمدات، مالیاتی لین دین اور علاقائی اقتصادی روابط مزید مشکل ہونے کا امکان ہے۔

آئل ٹینکروں پر حملے، عالمی شپنگ کے لیے خطرے کی گھنٹی

موجودہ بحران کے دوران دو آئل ٹینکروں کو بھی ایسے حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جن کی ذمہ داری ابھی تک کسی فریق نے قبول نہیں کی۔

ایک سعودی شپنگ کمپنی کے مطابق ایک حملے میں دو فلپائنی ملاح بھی ہلاک ہوئے۔ ان واقعات نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کردیے ہیں۔

اگر تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو شپنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر متبادل راستوں، اضافی انشورنس اور زیادہ سکیورٹی انتظامات کی طرف جاسکتی ہیں، جس سے عالمی تجارت کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

جنگ بندی کے امکانات اور سفارتی کوششیں

فوجی محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ بندی سے متعلق بنیادی معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی ممکنہ سمجھوتے کی کوششیں بھی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’’اہم پیش رفت‘‘ کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے بنیادی نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، تاہم ایسے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی جنگ بندی کے لیے صرف میزائل حملوں کو روکنا کافی نہیں ہوگا بلکہ آبنائے ہرمز، سمندری ناکہ بندی، پابندیوں، ایران کے جوہری اور دفاعی معاملات اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی جیسے پیچیدہ معاملات پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

خلیجی ممالک کے لیے مشکل صورتحال

ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کو خلیجی ممالک میں نشانہ بنانے کی حکمت عملی نے عرب ریاستوں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔

کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک خطے میں امریکی دفاعی موجودگی سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں فریق بننے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی حملوں کا دائرہ اگر مزید وسیع ہوتا ہے تو ان ممالک کو اپنی سرزمین، فضائی حدود، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا نام ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز بھی پیش کی۔

بعد میں ان کے بیانات سے یہ اشارہ ملا کہ وہ اس معاملے میں مکمل طور پر سنجیدہ نہیں تھے، تاہم اس تجویز نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی۔

موجودہ جنگ کے تناظر میں صدر ٹرمپ کی یہ تجویز محض ایک سیاسی بیان سے زیادہ بھی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔

جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں اور امریکہ کی جانب سے مزید کارروائی کے لیے تیاری کے اعلانات کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ موجودہ بحران کس سمت جائے گا۔

اگر دونوں ممالک مزید براہِ راست حملوں کی طرف بڑھتے ہیں تو جنگ کا دائرہ خلیج فارس سے نکل کر پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈے، توانائی کی تنصیبات، بندرگاہیں اور تجارتی بحری جہاز مزید خطرے میں آسکتے ہیں۔

دوسری جانب اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو جنگ بندی کے ذریعے صورتحال کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔

فی الحال دونوں امکانات موجود ہیں، لیکن تازہ میزائل اور ڈرون حملوں نے واضح کردیا ہے کہ خطے میں فوجی تصادم ختم ہونے کے بجائے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

عالمی سطح پر ممکنہ اثرات

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے مزید پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات کئی شعبوں میں مرتب ہوسکتے ہیں:

  • عالمی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
  • آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ
  • عالمی شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ
  • خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو خطرات
  • امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی موجودگی میں اضافہ
  • ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں
  • عالمی سپلائی چین پر دباؤ
  • مشرق وسطیٰ میں نئی عسکری صف بندی
  • سفارتی کوششوں اور جنگ بندی مذاکرات پر شدید دباؤ

نتیجہ

ایران کی جانب سے کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا اس جنگ کا ایک اہم اور خطرناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ پہلے ہی ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا اختیار اور تیاری ظاہر کر چکا ہے، جبکہ ایران بھی اپنی نئی حکمت عملی کے ذریعے امریکی فوجی اور اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اس پورے تنازع کا سب سے حساس مرکز بن چکا ہے۔ اگر یہ اہم بحری راستہ طویل عرصے تک متاثر رہتا ہے تو بحران کے اثرات صرف ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

ایسے میں جنگ بندی اور مذاکرات کی کامیابی خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں سے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی خلیج ابھی بہت وسیع ہے اور آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر انتہائی غیر یقینی اور خطرناک صورتحال کا سامنا کرسکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button