
انتہائی طاقتور ایل نینو کا خطرہ، دنیا بھر میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی کی وارننگ
سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں یہ تبدیلی دنیا کے مختلف حصوں کے فضائی دباؤ، ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔
مدثر احمد-ادارت
جنیوا/نیویارک — اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے دنیا بھر کے لیے ایک اہم موسمیاتی انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ایل نینو آنے والے مہینوں میں غیر معمولی طور پر طاقتور سطح اختیار کرسکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق ایل نینو پہلے ہی مکمل طور پر تشکیل پا چکا ہے اور رواں سال کے اختتام کے قریب اپنی زیادہ سے زیادہ شدت تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے اثرات کم از کم فروری تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی موسمیاتی عمل کے اثرات صرف چند ماہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں درجہ حرارت، بارشوں اور خشک موسم کے معمولات میں تبدیلی کی صورت میں ان کے اثرات 2027 تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو کے نتیجے میں بعض علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارشیں اور سیلاب آسکتے ہیں، جبکہ دوسرے خطے شدید خشک سالی، بلند درجہ حرارت اور پانی کی قلت کا سامنا کرسکتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث زراعت، آبی وسائل، خوراک کی پیداوار، صحت عامہ اور انسانی آبادیوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ایل نینو کیا ہے؟
ایل نینو بحرالکاہل کے خطے میں رونما ہونے والا ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے، جس کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں یہ تبدیلی دنیا کے مختلف حصوں کے فضائی دباؤ، ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔
اگرچہ ایل نینو کسی ایک ملک یا خطے تک محدود رہنے والا موسمیاتی واقعہ نہیں، لیکن اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
کسی خطے میں یہ زیادہ بارش اور سیلاب کا سبب بن سکتا ہے جبکہ دوسرے خطے میں خشک سالی یا غیر معمولی گرمی پیدا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی سائنس دان ایل نینو کو عالمی موسمی نظام پر اثر انداز ہونے والے اہم قدرتی عوامل میں شمار کرتے ہیں۔
رواں ایل نینو کیوں تشویش کا باعث ہے؟
ڈبلیو ایم او کے مطابق موجودہ ایل نینو پہلے ہی مکمل طور پر بن چکا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل ’’انتہائی طاقتور‘‘ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر ایل نینو اپنی متوقع بلند ترین شدت تک پہنچتا ہے تو دنیا کے مختلف علاقوں میں موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔
اس دوران بعض خطوں میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دیگر علاقوں کو طویل خشک سالی اور شدید گرمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دنیا پہلے ہی بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں ایک طاقتور ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ
سائنس دانوں کے مطابق ایل نینو بذات خود موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عمل نہیں ہے۔ یہ بحرالکاہل میں قدرتی طور پر رونما ہونے والا موسمیاتی چکر ہے۔
تاہم اس کا اثر ایک ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب انسانی سرگرمیوں، فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے باعث زمین پہلے ہی صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوچکی ہے۔
اس لیے ایک طاقتور ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں عارضی طور پر مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قدرتی موسمیاتی عوامل اور انسانی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے الگ عوامل ہیں، لیکن جب دونوں ایک ہی وقت میں شدت اختیار کریں تو انتہائی موسمی واقعات کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تشویش
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل نینو غیر معمولی طور پر طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق دنیا پہلے ہی سمندری درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا مشاہدہ کر رہی ہے اور شدید موسمی واقعات کا ایک خطرناک مرحلہ سامنے آچکا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث دنیا کو زیادہ شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور دیگر موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
موجودہ ایل نینو ان خطرات کو بعض خطوں میں مزید شدت دے سکتا ہے۔
سمندروں کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت
موجودہ صورتحال میں سمندری درجہ حرارت میں اضافہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
سمندر دنیا کے موسمیاتی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بڑی مقدار میں حرارت جذب کرتے ہیں اور عالمی ماحول کے درجہ حرارت کو متاثر کرتے ہیں۔
جب سمندری سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف سمندر تک محدود نہیں رہتے بلکہ فضا، بارشوں، طوفانوں اور ہواؤں کے نظام پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سمندروں کا گرم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی نظام میں طویل مدتی تبدیلیاں جاری ہیں۔
سیلاب کا بڑھتا ہوا خطرہ
ایل نینو کے دوران دنیا کے بعض حصوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اگر بارشیں قلیل مدت میں انتہائی زیادہ مقدار میں ہوں تو دریاؤں میں طغیانی، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک، جہاں نکاسی آب کا نظام محدود اور سیلاب سے بچاؤ کے وسائل کم ہیں، وہاں اس طرح کے واقعات کے اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سڑکیں، پل، بجلی کا نظام اور مواصلاتی انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
خشک سالی اور پانی کا بحران
ایل نینو کے اثرات صرف بارشوں میں اضافے تک محدود نہیں ہوتے۔ دنیا کے کئی خطوں میں اس کے برعکس بارشوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
طویل خشک موسم کے نتیجے میں دریاؤں، جھیلوں اور زیر زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی کم ہونے سے پیداوار میں کمی کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اگر خشک سالی طویل عرصے تک برقرار رہے تو خوراک کی قیمتیں بڑھنے، دیہی آبادیوں کے معاشی مسائل میں اضافے اور پانی کے وسائل پر مقامی تنازعات کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
شدید گرمی کا نیا خطرہ
موسمیاتی ماہرین کے مطابق طاقتور ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے امکانات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
شدید گرمی خصوصاً ان علاقوں میں خطرناک ہوسکتی ہے جہاں پہلے ہی درجہ حرارت بلند رہتا ہے۔
ہیٹ ویوز کے دوران بزرگ افراد، بچے، بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد اور کمزور طبقات کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
شدید گرمی بجلی کی طلب میں بھی اضافہ کرسکتی ہے کیونکہ ایئر کنڈیشننگ اور کولنگ سسٹمز کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں توانائی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
زراعت پر ممکنہ اثرات
دنیا کے کئی ممالک کی معیشت اور خوراک کا نظام موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
بارشوں کے معمول میں تبدیلی، غیر معمولی گرمی اور خشک سالی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کرسکتے ہیں۔
کچھ علاقوں میں زیادہ بارش فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ خشک علاقوں میں پانی کی کمی فصلوں کی بوائی اور پیداوار دونوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
اگر بڑے زرعی خطوں میں بیک وقت موسمیاتی دباؤ بڑھتا ہے تو عالمی خوراک کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات
ایل نینو کے عالمی اثرات کے باعث پاکستان جیسے موسمیاتی حساس ملک کے لیے بھی صورتحال اہم ہے۔
پاکستان پہلے ہی شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمی خطرات کا سامنا کرتا رہا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں موسمی حالات میں تبدیلی زراعت، پانی کے ذخائر، دریائی نظام اور شہری آبادیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
خاص طور پر مون سون بارشوں کے معمول میں تبدیلی پاکستان کے لیے اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ اگر بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو سیلاب اور شہری نکاسی آب کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں بارشوں میں کمی زرعی پیداوار اور پانی کی دستیابی کو متاثر کرسکتی ہے۔
اس لیے موسمیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان کو ممکنہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، موسمی پیش گوئی کے نظام اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
جنوبی ایشیا پر اثرات
جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔
بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ممالک میں بڑی آبادی زراعت، دریاؤں اور مون سون بارشوں پر انحصار کرتی ہے۔
ایل نینو کی وجہ سے اگر بارشوں کے معمول میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو پورے خطے میں زرعی پیداوار اور پانی کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔
شدید گرمی اور ہیٹ ویوز بھی خطے کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
جنگلات کی آگ اور ماحولیاتی خطرات
خشک اور گرم موسم بعض علاقوں میں جنگلات کی آگ کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
اگر زمین اور نباتات میں نمی کم ہوجائے اور درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند ہو تو آگ کے پھیلاؤ کے لیے حالات سازگار ہوجاتے ہیں۔
جنگلات کی آگ نہ صرف قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
اس کے نتیجے میں انسانی صحت اور ماحول دونوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
موسمیاتی تبدیلی اور انتہائی موسمی واقعات کے معاشی اثرات بھی بہت وسیع ہوسکتے ہیں۔
سیلاب سے سڑکیں، پل، رہائشی علاقے اور صنعتی مراکز متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ خشک سالی زرعی پیداوار اور خوراک کی سپلائی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
شدید گرمی کے باعث توانائی کی طلب میں اضافہ اور مزدوروں کی پیداواری صلاحیت میں کمی بھی معیشت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
ان حالات میں حکومتوں کو ہنگامی امداد، انفراسٹرکچر کی بحالی اور زرعی شعبے کی معاونت پر اضافی وسائل خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی میں فرق
موسمیاتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایل نینو اور عالمی موسمیاتی تبدیلی کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو بحرالکاہل میں رونما ہوتا ہے اور وقتاً فوقتاً دنیا کے موسمی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے برعکس موجودہ عالمی حدت بنیادی طور پر طویل مدتی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج، سے منسلک ہے۔
تاہم دونوں عوامل ایک ساتھ موجود ہوں تو انتہائی درجہ حرارت اور دیگر موسمیاتی اثرات کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
حکومتوں کے لیے پیشگی تیاری کیوں ضروری ہے؟
ڈبلیو ایم او کی وارننگ کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ ممکنہ شدید موسمی حالات کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمی پیش گوئی کے نظام کو مضبوط بنانا، سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات بہتر کرنا، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کے وسائل کا مؤثر انتظام اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی مہمات ضروری ہیں۔
اسی طرح کسانوں کو موسمی حالات سے متعلق بروقت معلومات فراہم کرنا بھی اہم ہے تاکہ وہ فصلوں کی بوائی، آبپاشی اور کٹائی سے متعلق بہتر فیصلے کرسکیں۔
2027 تک اثرات محسوس ہونے کا امکان
ڈبلیو ایم او کے مطابق موجودہ ایل نینو کے اثرات فروری تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے موسمی اثرات 2027 تک بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بھر میں مسلسل غیر معمولی موسم جاری رہے گا، بلکہ مختلف خطوں میں اس کے اثرات مختلف اوقات اور مختلف شدت کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔
کسی علاقے میں بارشوں کا دورانیہ تبدیل ہوسکتا ہے، کہیں خشک سالی بڑھ سکتی ہے اور کہیں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔
اسی لیے موسمیاتی ادارے عالمی سطح پر مسلسل نگرانی اور بروقت پیش گوئی کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
دنیا کے لیے ایک اور موسمیاتی امتحان
موجودہ ایل نینو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے متعدد اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔
گرم ہوتی زمین، بڑھتے ہوئے سمندری درجہ حرارت، شدید ہیٹ ویوز، غیر معمولی بارشوں اور سیلابوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں موسمیاتی خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔
ایسے میں ایک طاقتور ایل نینو عالمی موسمیاتی نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک مرتبہ پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات بھی ضروری ہیں۔
نتیجہ
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی جانب سے موجودہ ایل نینو کے ممکنہ طور پر ’’انتہائی طاقتور‘‘ ہونے کی وارننگ نے دنیا بھر میں موسمیاتی خطرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔
رواں ایل نینو بحرالکاہل میں ایک قدرتی موسمیاتی عمل کے طور پر وجود میں آیا ہے، لیکن ایک ایسے وقت میں اس کی شدت بڑھ رہی ہے جب انسانی سرگرمیوں کے باعث زمین پہلے ہی غیر معمولی حد تک گرم ہوچکی ہے۔
اس امتزاج کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور زرعی مشکلات جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کی جانب سے بڑھتے ہوئے سمندری درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات پر تشویش اس وسیع تر عالمی چیلنج کی عکاسی کرتی ہے۔
اب دنیا کے سامنے اصل امتحان صرف ایل نینو کی شدت کو مانیٹر کرنا نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ہے۔ حکومتوں، موسمیاتی اداروں اور عالمی برادری کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے ممکنہ خطرات سے پہلے ہی نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کریں۔
کیونکہ اگر موجودہ ایل نینو واقعی غیر معمولی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، پانی، صحت، زراعت، توانائی، معیشت اور انسانی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔



