
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 20 کی سینیئر افسر ڈاکٹر انیلہ سلمان کو طویل غیر حاضری اور منظور شدہ چھٹی کی مدت ختم ہونے کے باوجود ڈیوٹی پر واپس نہ آنے پر حکومتِ پاکستان نے جبری طور پر ریٹائر کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، جس کے ساتھ ہی ان کی سرکاری ملازمت کا خاتمہ عمل میں آ گیا۔
سرکاری فیصلے کے مطابق ڈاکٹر انیلہ سلمان کے خلاف سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020ء کے تحت باقاعدہ انضباطی کارروائی کی گئی۔ ان کے خلاف انکوائری کا آغاز 9 فروری 2026ء کو کیا گیا تھا، جبکہ کارروائی مکمل ہونے اور الزامات ثابت ہونے کے بعد انہیں میجر پینلٹی یعنی بڑی تادیبی سزا کے طور پر جبری ریٹائرمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت سول بیوروکریسی میں نظم و ضبط، حاضری، سرکاری ذمہ داریوں اور بیرونِ ملک طویل قیام سے متعلق قواعد پر عمل درآمد سخت کرنے کی پالیسی پر زور دے رہی ہے۔
منظور شدہ چھٹی ختم ہونے کے بعد بھی ڈیوٹی پر واپسی نہ ہوئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق ڈاکٹر انیلہ سلمان کو ایک طویل عرصے کے لیے بغیر تنخواہ غیر معمولی چھٹی کی اجازت دی گئی تھی اور وہ اس دوران بیرونِ ملک مقیم رہیں۔ بعد ازاں اکتوبر 2024ء میں ان کی چھٹی میں مزید نو ماہ کی توسیع بھی کی گئی۔
تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ اضافی چھٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر انیلہ سلمان نے پاکستان واپس آکر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں اپنی حاضری رپورٹ جمع نہیں کرائی اور نہ ہی اپنی سرکاری ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں۔

حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی سرکاری افسر کو منظور شدہ چھٹی کی مدت کے دوران بیرونِ ملک رہنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن چھٹی ختم ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آنا یا قواعد کے مطابق مزید چھٹی کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس معاملے میں بنیادی اعتراض یہی تھا کہ چھٹی کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود افسر نے نہ تو سروس جوائن کی اور نہ ہی مزید غیر حاضری کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کی۔
امریکہ سے کینیڈا منتقل ہونے کا دعویٰ
دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر انیلہ سلمان پہلے امریکہ میں مقیم رہیں اور بعد ازاں امریکہ سے کینیڈا منتقل ہو گئیں۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان کی جانب سے سروس میں دوبارہ واپسی کے لیے کوئی مؤثر کوشش سامنے نہیں آئی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اسی طویل غیر حاضری اور سروس رولز کی خلاف ورزی کو انضباطی کارروائی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق سرکاری افسران کو بیرونِ ملک قیام، مطالعاتی چھٹی، طبی چھٹی یا دیگر مخصوص مقاصد کے لیے چھٹی دی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے متعلقہ قواعد اور مجاز اتھارٹی کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔
اگر منظور شدہ مدت ختم ہو جائے تو افسر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ یا تو ڈیوٹی پر واپس آئے یا مزید چھٹی کے لیے باقاعدہ منظوری حاصل کرے۔
9 فروری 2026ء کو باضابطہ انکوائری شروع ہوئی
سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈاکٹر انیلہ سلمان کے خلاف 9 فروری 2026ء کو سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020ء کے تحت باضابطہ انکوائری شروع کی گئی۔
انضباطی کارروائی میں ان کی طویل غیر حاضری، منظور شدہ چھٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد سروس پر واپس نہ آنا اور متعلقہ سرکاری قواعد کی خلاف ورزی جیسے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
انکوائری مکمل ہونے کے بعد الزامات ثابت قرار دیے گئے اور کیس کو مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔
چونکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے خلاف بڑی تادیبی کارروائی کے معاملات میں وزیراعظم مجاز اتھارٹی کا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ڈاکٹر انیلہ سلمان کا کیس حتمی فیصلے کے لیے وزیراعظم کو بھیجا گیا۔
وزیراعظم کی منظوری کے بعد جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ نافذ کر دیا گیا۔
میجر پینلٹی کیا ہوتی ہے؟
سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کے خلاف مختلف نوعیت کی تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عمومی طور پر ان سزاؤں کو مائنر پینلٹی اور میجر پینلٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مائنر پینلٹی نسبتاً کم سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں پر عائد کی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ملازم کو ملازمت سے فارغ کیے بغیر اس کے طرزِ عمل یا کارکردگی میں بہتری لانا ہوتا ہے۔
اس نوعیت کی کارروائی میں تحریری سرزنش، ترقی یا سالانہ انکریمنٹ روکنے اور بعض حالات میں مالی نقصان کی وصولی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس میجر پینلٹی سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں کے معاملات میں عائد کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں افسر کے عہدے، گریڈ، سروس اور مستقبل کے سرکاری کیریئر پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
بڑی سزا میں نچلے گریڈ میں تنزلی، جبری ریٹائرمنٹ، ملازمت سے برطرفی اور بعض سنگین صورتوں میں ایسی برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں متعلقہ شخص مستقبل میں سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر انیلہ سلمان کے معاملے میں حکومت نے جبری ریٹائرمنٹ کو میجر پینلٹی کے طور پر نافذ کیا ہے۔
طویل غیر حاضری کو حکومت نے سنگین خلاف ورزی کیوں سمجھا؟
سرکاری ملازمت میں چھٹی ایک باقاعدہ حق ضرور ہے، تاہم یہ حق قواعد و ضوابط سے مشروط ہوتا ہے۔ کسی افسر کو جتنی مدت کی چھٹی منظور کی جاتی ہے، اس مدت کے اختتام پر اسے اپنی ڈیوٹی پر واپس آنا ہوتا ہے۔
اگر افسر مزید چھٹی چاہتا ہو تو اسے مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواست دینا اور مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ منظور شدہ چھٹی کے بعد بھی بغیر اجازت بیرونِ ملک قیام جاری رکھنا سرکاری نظم و ضبط کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر انیلہ سلمان کے کیس میں صرف غیر حاضری نہیں بلکہ چھٹی کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی سروس جوائن نہ کرنے کو انضباطی کارروائی کی بنیاد بنایا گیا۔
سابق ایف بی آر ممبر شریف اعوان کی رائے
اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے گریڈ 21 کے ریٹائرڈ افسر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق ممبر شریف اعوان سے گفتگو کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سول بیوروکریٹس کو مختلف مقاصد کے لیے چھٹی لینے کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق مکمل طور پر غیر مشروط نہیں۔
ان کے مطابق اگر کوئی افسر منظور شدہ چھٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی بغیر اجازت بیرونِ ملک مقیم رہے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
شریف اعوان کے مطابق چھٹی تعلیم، طبی ضرورت یا دیگر مجاز مقاصد کے لیے لی جا سکتی ہے اور اگر چھٹی طویل ہو جائے تو بعض حالات میں اسے بغیر تنخواہ چھٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے قواعد کے مطابق منظوری ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ڈاکٹر انیلہ سلمان کے کیس میں باقاعدہ انکوائری کی گئی ہے، اس لیے بظاہر حکومت نے غیر مجاز غیر حاضری کو ثابت شدہ خلاف ورزی سمجھتے ہوئے میجر پینلٹی عائد کی ہے۔
جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا کیا ہوگا؟
ڈاکٹر انیلہ سلمان کی جبری ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اہم سوال ان کی پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے۔
شریف اعوان کے مطابق جبری ریٹائرمنٹ کی صورت میں اگر کسی افسر کی قابلِ شمار سرکاری سروس 25 سال یا اس سے زائد ہو تو بعض حالات میں پنشن کے حق کا معاملہ پیدا ہو سکتا ہے، تاہم کسی مخصوص افسر کے حتمی مالی و ریٹائرمنٹ فوائد کا تعین مکمل سروس ریکارڈ اور متعلقہ قواعد کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے ڈاکٹر انیلہ سلمان کے پنشن اور دیگر مراعات کے بارے میں حتمی صورتِ حال مکمل سرکاری سروس ریکارڈ اور متعلقہ قواعد کا جائزہ لینے کے بعد ہی واضح ہو گی۔
ڈاکٹر انیلہ سلمان کو اپیل کا حق حاصل ہے
جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ہونے کے باوجود معاملہ قانونی طور پر مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، کیونکہ متعلقہ افسر کو قواعد کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر انیلہ سلمان مقررہ مدت، یعنی 30 روز کے اندر متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتی ہیں۔
سروس سے متعلق معاملات میں افسران کو سروسز ٹربیونل سے رجوع کرنے کا قانونی راستہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اگر اپیل میں فیصلہ افسر کے حق میں آتا ہے تو معطل یا روکے گئے بعض حقوق، مراعات یا دیگر سروس فوائد کی بحالی کا معاملہ پیدا ہو سکتا ہے۔
شریف اعوان کے مطابق اگر سروسز ٹربیونل کا فیصلہ افسر کے حق میں آئے تو متعلقہ محکمہ قانون کے مطابق مزید قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتا ہے۔
یوں ڈاکٹر انیلہ سلمان کے پاس اس فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا راستہ موجود ہے۔
حکومت کی بیوروکریسی کے خلاف سخت پالیسی
ڈاکٹر انیلہ سلمان کی جبری ریٹائرمنٹ کو وفاقی بیوروکریسی میں نظم و ضبط سخت کرنے کی حکومتی پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حکومت ایسے افسران کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے جو طویل عرصے کے لیے بیرونِ ملک چھٹی پر جاتے ہیں اور مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان واپس نہیں آتے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاست افسران کی بھرتی، تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد پر خطیر وسائل خرچ کرتی ہے۔ اس لیے کسی افسر کی جانب سے سروس رولز کی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنا انتظامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں دیگر افسران کے خلاف بھی انضباطی کارروائیوں اور انکوائریوں کا سلسلہ جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سول بیوروکریسی میں اصلاحات کا وسیع تناظر
یہ معاملہ صرف ایک افسر کی غیر حاضری تک محدود نہیں بلکہ سول بیوروکریسی میں نظم و ضبط، احتساب اور کارکردگی سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان میں سول سروس ریاستی انتظامی نظام کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں کے نفاذ، انتظامی امور، ٹیکس وصولی، ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمات اور حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد میں بیوروکریسی کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔
ایسے میں حکومتیں عام طور پر یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر موجود افسران سے زیادہ ذمہ داری اور قواعد کی پابندی کی توقع کی جاتی ہے۔
اگر ایک افسر طویل عرصے تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے تو اس کا اثر صرف متعلقہ عہدے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادارے کے کام، انتظامی تسلسل اور عوامی خدمات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
گریڈ 20 کی افسر کے خلاف کارروائی کی اہمیت
ڈاکٹر انیلہ سلمان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 20 کی سینیئر افسر تھیں۔ ان کے خلاف کارروائی اس لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اعلیٰ گریڈ کے افسران کے خلاف تادیبی فیصلے سول بیوروکریسی میں ایک واضح انتظامی پیغام دیتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس اقدام سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سروس کے قواعد افسر کے عہدے یا گریڈ سے بالاتر ہو کر لاگو کیے جائیں گے۔
تاہم، کسی بھی تادیبی کارروائی میں قانونی طریقہ کار، انکوائری کے شفاف مراحل، متعلقہ افسر کو صفائی کا موقع اور اپیل کے حق کی اہمیت بھی برقرار رہتی ہے۔
اس معاملے میں ڈاکٹر انیلہ سلمان کے پاس بھی قانونی فورم پر فیصلے کو چیلنج کرنے کا راستہ موجود ہے۔
سول سروس میں حاضری اور جواب دہی کا معاملہ
ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں میں چھٹی اور غیر حاضری کے معاملات ہمیشہ سے انتظامی نظم و ضبط کا اہم حصہ رہے ہیں۔
ایک طرف سرکاری افسران کو ذاتی، طبی، تعلیمی اور دیگر جائز ضروریات کے لیے چھٹی کی سہولت حاصل ہونی چاہیے، لیکن دوسری طرف ریاستی اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ افسران مقررہ قواعد کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
خاص طور پر اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افسران کی غیر حاضری کسی ادارے کی فیصلہ سازی اور انتظامی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی لیے حکومت کی جانب سے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کو سول سروس کے اندر احتساب اور نظم و ضبط کے عمل کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے لیے ایک بڑا انتظامی پیغام
ڈاکٹر انیلہ سلمان کی جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ وفاقی بیوروکریسی کے لیے ایک اہم انتظامی پیغام بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سرکاری چھٹی ایک باقاعدہ قانونی سہولت ہے، لیکن چھٹی ختم ہونے کے بعد غیر مجاز طور پر ڈیوٹی سے دور رہنا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
اسی طرح بیرونِ ملک قیام کے لیے بھی متعلقہ اجازت اور مقررہ مدت کی پابندی ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
اگر حکومت دیگر ایسے کیسز میں بھی کارروائی آگے بڑھاتی ہے تو اس سے سول بیوروکریسی میں حاضری، سروس ڈسپلن اور بیرونِ ملک طویل قیام سے متعلق قواعد پر عمل درآمد مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
قانونی جنگ کا امکان
اگر ڈاکٹر انیلہ سلمان مقررہ مدت میں فیصلے کے خلاف اپیل کرتی ہیں تو اس معاملے کا اگلا مرحلہ قانونی فورمز پر طے ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں انکوائری کا ریکارڈ، الزامات، افسر کا دفاع، مجاز اتھارٹی کا فیصلہ اور متعلقہ سروس رولز اہمیت اختیار کریں گے۔
اگر قانونی فورم یہ قرار دیتا ہے کہ انکوائری یا تادیبی کارروائی میں قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے تو فیصلے پر نظرثانی یا دیگر قانونی ریلیف کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر حکومتی کارروائی قواعد کے مطابق قرار پاتی ہے تو جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر کیا پیغام گیا؟
ڈاکٹر انیلہ سلمان کے خلاف کارروائی نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری افسران کی غیر حاضری، بیرونِ ملک قیام اور طویل چھٹیوں کے معاملات میں حکومت کس حد تک سختی اختیار کرے گی۔
حکومت کے لیے یہ معاملہ سول سروس میں احتساب اور نظم و ضبط کے نفاذ کی مثال بن سکتا ہے، جبکہ سول بیوروکریسی کے لیے یہ واضح پیغام بھی ہے کہ منظور شدہ چھٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد سروس پر واپسی یا مزید چھٹی کی باقاعدہ منظوری بنیادی ذمہ داری ہے۔
تاہم، اس فیصلے کے قانونی اور انتظامی اثرات کا حتمی تعین ڈاکٹر انیلہ سلمان کی ممکنہ اپیل، متعلقہ سروس فورمز کے فیصلے اور مکمل سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
فی الحال سرکاری فیصلہ یہی ہے کہ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020ء کے تحت ہونے والی انکوائری میں الزامات ثابت ہونے کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 20 کی سینیئر افسر ڈاکٹر انیلہ سلمان کو میجر پینلٹی کے طور پر جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے، اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔



