صحت

اگست کے اختتام اور ستمبر کے آغاز میں وائرل انفیکشنز میں اضافہ، گلا خراب، خشک کھانسی اور بخار کی شکایات عام، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد زیادہ متاثر

گلے میں ایسی شدید خشکی اور خراش کی شکایت بھی بیان کی جا رہی ہے جسے وہ ماضی میں کورونا وائرس کے دوران محسوس ہونے والی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: اگست کے اختتام اور ستمبر کے آغاز کے دوران موسم میں تبدیلی کے باعث گلا خراب ہونے، فلو، خشک کھانسی اور بخار سمیت مختلف نوعیت کی سانس کی نالی کی بیماریوں اور وائرل انفیکشنز کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے گلے میں شدید خشکی، خراش، نگلنے میں تکلیف، کھانسی، جسم میں درد اور بخار جیسی علامات کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران مختلف وائرسز کا پھیلاؤ عام ہو سکتا ہے، جبکہ ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو، وہ انفیکشن کا نسبتاً جلد شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر گلے کی خرابی، کھانسی یا بخار کو ایک ہی وائرس سے منسلک کرنا درست نہیں، کیونکہ ان علامات کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں بعض مریضوں کی جانب سے گلے میں ایسی شدید خشکی اور خراش کی شکایت بھی بیان کی جا رہی ہے جسے وہ ماضی میں کورونا وائرس کے دوران محسوس ہونے والی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔

گلے میں شدید خشکی اور خراش کی شکایت

موسمی بیماریوں میں گلے کی خرابی ایک عام علامت ہے۔ بعض افراد کے مطابق گلے میں اتنی شدید خشکی اور خراش محسوس ہوتی ہے جیسے اندر کانٹے چبھ رہے ہوں، جبکہ خشک کھانسی اس کیفیت کو مزید تکلیف دہ بنا دیتی ہے۔

گلے میں خراش کے ساتھ بعض مریضوں کو نگلنے میں دشواری، آواز بیٹھنے، ناک بند ہونے یا بہنے، جسم میں درد اور بخار کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

ایسی علامات وائرس، الرجی، گلے کے بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن یا دیگر وجوہات کے باعث پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ مریض کو کون سا انفیکشن لاحق ہے۔

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد زیادہ محتاط رہیں

موسمی انفیکشنز کے دوران وہ افراد زیادہ احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو یا جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہوں۔

بزرگ افراد، چھوٹے بچے، بعض دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اور وہ لوگ جنہیں ڈاکٹر نے کمزور قوتِ مدافعت کے باعث خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہو، ان میں معمولی انفیکشن بھی بعض اوقات زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ایسے افراد میں بخار، سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی، پانی کی کمی، شدید کمزوری یا علامات میں تیزی سے اضافے کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے طبی معائنہ ضروری ہو جاتا ہے۔

ہر گلے کی خرابی کورونا نہیں

گلے میں شدید خراش یا خشک کھانسی کی کیفیت بعض لوگوں کو کورونا وائرس کے سابقہ تجربے کی یاد دلا سکتی ہے، تاہم صرف ان علامات کی بنیاد پر کورونا یا کسی مخصوص وائرس کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔

موسمی فلو، دیگر وائرل انفیکشنز، الرجی اور بعض بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن بھی ملتی جلتی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی لیے کسی بھی مریض کے لیے درست تشخیص اہم ہے، خصوصاً اس وقت جب بخار مسلسل رہے، علامات شدت اختیار کریں یا مریض پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہو۔

درد کش، اینٹی الرجی اور دیگر ادویات کا استعمال

موسمی انفیکشنز کے دوران بعض مریض گلے کے درد، جسمانی تکلیف، بخار، الرجی یا کھانسی کے لیے مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں۔

تاہم ہر مریض کے لیے ایک ہی دوا یا دوا کا ایک ہی مجموعہ موزوں نہیں ہوتا۔ بعض افراد کو مخصوص ادویات یا دوا کے کسی گروپ سے الرجی ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ ادویات دیگر بیماریوں یا پہلے سے استعمال کی جانے والی دواؤں کے ساتھ مسئلہ پیدا کر سکتی ہیں۔

اسی لیے کسی بھی دوا، بالخصوص اینٹی بائیوٹک یا دیگر نسخے والی ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے اور مریض کی طبی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

اینٹی بائیوٹک ہر وائرل انفیکشن کا علاج نہیں

ماہرین کے مطابق ایک اہم بات یہ ہے کہ وائرل انفیکشن اور بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن ایک جیسے نہیں ہوتے۔

اینٹی بائیوٹکس مخصوص بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور عام طور پر وائرس کے خلاف براہِ راست مؤثر نہیں ہوتیں۔ اس لیے گلے کی خرابی، فلو یا کھانسی کی ہر صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹک شروع کرنا مناسب نہیں۔

غیر ضروری اینٹی بائیوٹک استعمال سے دوا کے خلاف مزاحمت یعنی اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کا مسئلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹروں سے خصوصی رہنمائی اور موسمی پروٹوکول کی اپیل

حالیہ علامات اور مریضوں کے تجربات کے تناظر میں شہریوں کی جانب سے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے یہ اپیل بھی سامنے آ رہی ہے کہ موسم کی تبدیلی کے دوران عام ہونے والے وائرل اور سانس کے انفیکشنز کے حوالے سے عوام کو واضح رہنمائی فراہم کی جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مریضوں کو یہ بتایا جائے کہ کن علامات میں گھر پر بنیادی احتیاط کافی ہو سکتی ہے اور کن حالات میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح علاج تجویز کرتے وقت مریض کی عمر، سابقہ بیماریوں، استعمال ہونے والی ادویات اور کسی مخصوص دوا یا دوا کے گروپ سے ممکنہ الرجی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ذاتی تجربے میں ہسپتال کا ایک اور مشکل مرحلہ

موسمی بیماریوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرنے والی ایک شہری نے اپنے حالیہ طبی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آج اتفاق ہسپتال کے ایمرجنسی اسٹاف کو ان کے ہاتھ پر بنولہ لگانے کے لیے وین تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق ہسپتال میں مطلوبہ وین دستیاب نہ ہونے کے باعث اسے تلاش کرنے کی کوشش میں ہاتھ اور بازو پر تین مختلف مقامات پر سوجن پیدا ہو گئی۔

یہ صورتحال مریض کے لیے نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنی بلکہ اس دوران ذہنی دباؤ اور پریشانی میں بھی اضافہ ہوا۔

سوجن کے بعد فوری آئسنگ کی گئی

متاثرہ شہری کے مطابق اس موقع پر ساتھ موجود ایف ڈی پی پی کے عملے نے صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر آئسنگ کروائی۔

ان کے مطابق عملے کی جانب سے اس بات پر توجہ دلائی گئی کہ چونکہ انہیں شوگر کا مسئلہ ہے، اس لیے ہاتھ پر ہونے والی سوجن یا زخم کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے بروقت کور کرنا ضروری ہے۔

ماضی کے ایک تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں خبردار کیا گیا کہ اگر ایسی صورتحال کو بروقت سنبھالا نہ جائے تو مسئلہ سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں ہاتھ، پاؤں یا جسم کے کسی حصے پر زخم، سوجن یا انفیکشن کی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ایسی صورت میں طبی مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اضافی احتیاط ضروری

ذیابیطس کے مریضوں میں زخموں کی دیکھ بھال خصوصی توجہ کی متقاضی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی مریض کو ہاتھ یا بازو میں غیر معمولی سوجن، شدید درد، سرخی، گرمائش، پیپ، جلد کے رنگ میں تبدیلی یا بخار محسوس ہو تو اسے فوری طبی توجہ حاصل کرنی چاہیے۔

خاص طور پر اگر سوجن کسی انجیکشن، وین یا دوسرے طبی عمل کے بعد پیدا ہوئی ہو تو اس کی وجہ کا طبی جائزہ لینا ضروری ہے۔

صرف گھر پر برف لگانے یا کسی دوا کے استعمال پر انحصار کرنے کے بجائے علامات برقرار رہنے یا بڑھنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

موسمی تبدیلی اور صحت کے مسائل

اگست کے اختتام اور ستمبر کے آغاز میں درجہ حرارت، نمی اور روزمرہ کے ماحولیاتی حالات میں تبدیلی انسانی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اس دوران ایک طرف گرمی اور حبس برقرار رہ سکتا ہے جبکہ دوسری جانب بعض اوقات بارشوں، ٹھنڈی ہواؤں اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی کے باعث لوگوں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔

گھروں، دفاتر، اسکولوں اور دیگر بند مقامات پر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی بھی سانس کے ذریعے منتقل ہونے والے بعض انفیکشنز کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں

ماہرین کی عمومی ہدایات کے مطابق موسمی انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کی صفائی، مناسب آرام، مناسب مقدار میں پانی اور صحت بخش غذا پر توجہ دینا مفید ہو سکتا ہے۔

کھانسی یا چھینک آنے کی صورت میں منہ اور ناک کو ڈھانپنا، بیمار ہونے کی صورت میں غیر ضروری قریبی میل جول سے گریز کرنا اور علامات کی شدت کے مطابق طبی مشورہ لینا بھی اہم ہے۔

اگر کسی فرد کو مسلسل یا تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، شدید کمزوری، الجھن، پانی کی شدید کمی یا تیزی سے بگڑتی ہوئی طبیعت کا سامنا ہو تو فوری طبی امداد حاصل کی جانی چاہیے۔

خود تشخیص کے بجائے درست تشخیص پر زور

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ شہری ہر گلے کی خرابی یا بخار کو فوری طور پر کسی ایک مخصوص بیماری سے منسوب نہ کریں۔

ایک ہی علامت مختلف بیماریوں میں ظاہر ہو سکتی ہے، جبکہ بعض مریضوں میں بیک وقت ایک سے زیادہ مسائل بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح سوشل میڈیا یا ذاتی تجربات کی بنیاد پر کسی مخصوص دوا کو ہر مریض کے لیے موزوں سمجھنا بھی درست نہیں۔

طبی ماہرین کے لیے مریض کی مکمل تاریخ، علامات، جسمانی معائنہ اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ تشخیص کے اہم ذرائع ہوتے ہیں۔

ہسپتالوں میں موسمی بیماریوں کے لیے آگاہی اور رہنمائی کی ضرورت

موسمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر ہسپتالوں اور طبی مراکز میں مریضوں کے لیے واضح رہنمائی بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

خاص طور پر ایسے مریض جو گلے کی شدید خراش، خشک کھانسی، فلو اور بخار کے ساتھ ایمرجنسی یا او پی ڈی میں پہنچتے ہیں، انہیں علامات کی بنیاد پر مناسب رہنمائی، ضروری معائنہ اور بروقت علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی دوا سے الرجی، پہلے سے موجود بیماریوں اور زیرِ استعمال ادویات کی معلومات بھی علاج کا اہم حصہ ہیں۔

صحت کے نظام کے لیے ایک اہم پیغام

حالیہ تجربات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مریضوں کے لیے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات، مناسب وین کی دستیابی، تربیت یافتہ عملہ اور بروقت طبی معاونت بھی انتہائی اہم ہیں۔

خاص طور پر ایمرجنسی میں آنے والے مریض پہلے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تکلیف میں ہوتے ہیں، اس لیے انہیں غیر ضروری انتظار یا بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی سے مزید مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

مریضوں کی شکایات اور ذاتی تجربات کو طبی نظام میں بہتری کے لیے ایک اہم فیڈ بیک کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مجموعی صورتحال

اگست کے اختتام اور ستمبر کے آغاز میں گلے کی خرابی، فلو، خشک کھانسی اور بخار جیسی علامات شہریوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے یا جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہیں، انہیں اپنی صحت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ان علامات کی موجودگی کو خود بخود کورونا یا کسی ایک مخصوص وائرس سے جوڑنا درست نہیں۔ مختلف وائرل، بیکٹیریا سے ہونے والے اور الرجی سے متعلق مسائل ایک جیسی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح اینٹی بائیوٹک، اینٹی الرجی یا دیگر ادویات کا استعمال مریض کی حالت اور ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ کسی بھی دوا سے الرجی کی سابقہ تاریخ کو لازماً مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ہسپتال میں وین لگانے کے دوران ہاتھ اور بازو میں سوجن پیدا ہونے کا ذاتی تجربہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ طبی علاج کے دوران معمولی نظر آنے والے زخم یا سوجن کو بھی، خصوصاً ذیابیطس جیسے حالات میں، نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

موسم کی تبدیلی کے اس مرحلے پر شہریوں، ڈاکٹروں اور طبی اداروں کے درمیان بہتر آگاہی، بروقت تشخیص اور ذمہ دارانہ ادویاتی استعمال ہی موسمی بیماریوں کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button