تازہ ترینصحت

امریکی پابندیوں، مہنگائی اور معاشی بحران نے ایرانی مریضوں کو ادویات کے حصول کی جنگ پر مجبور کر دیا

سینکڑوں ادویات کی قلت، قیمتوں میں کئی گنا اضافہ اور انشورنس کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے مساوی واجبات؛ کینسر، ذیابیطس اور دائمی امراض کے مریض علاج کم کرنے یا مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ

تہران: ایران میں امریکی پابندیوں، جنگی حالات، شدید مہنگائی، کمزور ہوتی کرنسی اور ادویات کی سپلائی چین میں بڑھتی رکاوٹوں نے صحت کے شعبے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ملک میں مریضوں کو نہ صرف زندگی بچانے والی اور مخصوص ادویات تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ دستیاب دواؤں کی قیمتوں میں اضافے نے بھی علاج جاری رکھنا بہت سے خاندانوں کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔

ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں تقریباً 800 ادویاتی مصنوعات کی قلت رپورٹ ہوئی ہے، جن میں درجنوں ایسی ادویات شامل ہیں جنہیں ضروری یا زندگی بچانے والی قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں سرکاری طور پر بعض ادویات کی قلت کی تعداد اس سے کہیں کم بتائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ادارے قلت کی پیمائش کے لیے مختلف معیار اور اوقات استعمال کر رہے ہیں۔

سیما کی کہانی، ایران کے مریضوں کی بڑھتی مشکلات کی ایک مثال

تہران کی 35 سالہ سیما کے لیے دوا کی تلاش روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اپنے گردوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ضروری دوا حاصل کرنے کے لیے اسے شہر کے ایک امیر علاقے میں کئی فارمیسیوں کا رخ کرنا پڑا۔

بالآخر ساتویں فارمیسی میں مطلوبہ دوا مل گئی، مگر مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ دوا کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو چکا تھا۔

سیما کے مطابق اس صورتحال نے اسے اپنی زندگی بچانے والی دوا کی خوراک کم کرنے جیسے انتہائی مشکل فیصلے پر مجبور کیا ہے۔

ایسے واقعات ایران میں ادویات کے بحران کے انسانی پہلو کو واضح کرتے ہیں، جہاں مسئلہ صرف دوا کے دستیاب نہ ہونے کا نہیں بلکہ دوا دستیاب ہونے کے باوجود اسے خریدنے کی استطاعت کا بھی بنتا جا رہا ہے۔

کینسر اور دائمی امراض کے مریض سب سے زیادہ متاثر

ایران میں کینسر، ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو مسلسل علاج اور باقاعدہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے مریضوں کے لیے دوا کی ایک خوراک کا چھوٹ جانا بھی عام نوعیت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ علاج میں تاخیر بیماری کی شدت بڑھا سکتی ہے اور بعض حالات میں طبی پیچیدگیاں ناقابلِ واپسی ہو سکتی ہیں۔

حالیہ رپورٹس میں ایرانی مریضوں کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لوگوں نے علاج جاری رکھنے کے لیے گھریلو سامان فروخت کیا، ادویات کی خوراک کم کی یا کئی فارمیسیوں میں تلاش کے بعد دوا حاصل کی۔

ایک 55 سالہ کینسر مریضہ نے بتایا کہ وہ بیرون ملک سے ایران آنے والے لوگوں سے اپنی ضروری ادویات لانے کی درخواست کرنے پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ بعض دوائیں مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں یا ان تک رسائی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

800 ادویات کی قلت کا دعویٰ

ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان ہادی احمدی کے مطابق تقریباً 800 ادویاتی مصنوعات کی قلت نے ملک بھر میں سپلائی چین کے مسائل کو نمایاں کر دیا ہے۔

ایرانی مقامی میڈیا میں ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ خام مال کی قلت، درآمدی رکاوٹیں، غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی، انشورنس کمپنیوں کے واجبات اور بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کی مشکلات نے دوا ساز صنعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ان کے مطابق متبادل راستوں سے خام مال اور ادویات حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور زیادہ اخراجات آتے ہیں، جس سے بعض ادویات کی قیمت تین گنا تک بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

لیکن ایرانی حکومت کے اعدادوشمار مختلف ہیں

ادویات کی قلت کے حوالے سے ایران کے سرکاری اعدادوشمار اور فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے اعداد میں فرق بھی سامنے آیا ہے۔

ایرانی وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے 14 ستمبر کو کہا کہ اس وقت 32 اقسام کی ادویات کی قلت ہے، جن میں درآمد شدہ ادویات کے ساتھ ایسی ادویات بھی شامل ہیں جن کے مقامی متبادل موجود ہیں۔

مقامی رپورٹس کے مطابق جنگ سے پہلے قلت کی تعداد 63 اشیا تک پہنچ گئی تھی، جو جنگ کے دوران 43 تک بڑھی اور بعد میں 32 تک کم ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

دوسری جانب فارماسسٹ ایسوسی ایشن تقریباً 800 ادویاتی مصنوعات کی قلت کی بات کر رہی ہے۔

یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرکاری طور پر ’قلت‘ شمار کرنے کا طریقہ اور مارکیٹ میں مریضوں یا فارمیسیوں کو درپیش حقیقی دستیابی کا مسئلہ ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔

ایران 97 سے 99 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، پھر بحران کیوں؟

ایران کی ادویاتی صنعت کے حوالے سے ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ملک بڑی مقدار میں تیار شدہ ادویات مقامی طور پر تیار کرتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ادویات کا 97 فیصد سے زیادہ حجم ملک کے اندر تیار کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر حالیہ ایرانی اعدادوشمار تقریباً 99 فیصد حجم کی مقامی پیداوار کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران مکمل طور پر ادویاتی خود کفالت حاصل کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی دوا ساز کمپنیاں بھی خام مال، مخصوص کیمیائی اجزا، جدید آلات، ٹیکنالوجی اور بعض خصوصی ادویات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتی ہیں۔

فلینڈرز یونیورسٹی کے سینئر لیکچرر اور ایران میں ادویات پر پابندیوں کے اثرات کے محقق پیوند بستانی کے مطابق مقامی پیداوار کی بلند شرح کو مکمل خود کفالت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ مقامی مینوفیکچرنگ بھی درآمدی مواد اور ٹیکنالوجی پر منحصر رہ سکتی ہے۔

اصل مسئلہ خام مال اور غیر ملکی کرنسی بھی ہے

ایران کی دوا ساز صنعت کو درپیش بحران میں ایک بنیادی مسئلہ غیر ملکی زرمبادلہ کی دستیابی ہے۔

فارماسیوٹیکل شعبے کو ادویات اور خام مال کی خریداری کے لیے غیر ملکی کرنسی درکار ہوتی ہے۔ ایران پر عائد مالی پابندیاں، بین الاقوامی بینکنگ نظام تک محدود رسائی اور کمزور ہوتی ایرانی کرنسی نے اس عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال ادویات اور خام مال کے لیے تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی درکار ہے، مگر ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کے مطابق اب تک اس ضرورت کا تقریباً نصف ہی فراہم ہو سکا ہے۔

مقامی دوا بھی مہنگی، درآمدی دوا بھی مشکل

ایران میں موجودہ بحران کی ایک پیچیدگی یہ ہے کہ صرف درآمدی ادویات ہی متاثر نہیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض مقامی ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تازہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران بعض بنیادی ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ مثال کے طور پر پیراسیٹامول میں 375 فیصد، اموکسی سلین میں 285 فیصد اور فلوکسیٹین میں 100 فیصد تک اضافے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جبکہ انسولین کی قیمت بعض صورتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی متبادل دستیاب ہونے کے باوجود مریض کے لیے علاج لازماً سستا نہیں رہتا۔

انشورنس کمپنیوں کے واجبات نے بحران مزید گہرا کر دیا

ادویات کی سپلائی میں ایک اور اہم مسئلہ ایرانی انشورنس نظام کے مالی دباؤ سے متعلق ہے۔

ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 18 ہزار سے زیادہ نجی فارمیسیوں کو انشورنس کمپنیوں سے ادائیگیوں کا انتظار ہے۔

ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث فارمیسیوں کے لیے نئی ادویات خریدنا اور اپنی انوینٹری برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی رپورٹس کے مطابق بعض انشورنس واجبات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ فارمیسیوں کی نقدی کی گردش متاثر ہو رہی ہے۔

ستمبر کی ایک رپورٹ میں فارماسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے بتایا کہ انشورنس ادائیگیوں میں تاخیر بعض صورتوں میں 10 ماہ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ادویات سے متعلق واجبات بھی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

بیمہ شدہ مریض بھی جیب سے ادائیگی پر مجبور

ایران میں انشورنس کا مقصد علاج کی لاگت کا بڑا حصہ کم کرنا ہے، مگر جب انشورنس کمپنی فارمیسی کو بروقت ادائیگی نہ کرے یا دوا کی قیمت تیزی سے بڑھ جائے تو اس نظام کا اثر مریض پر منتقل ہو جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی مریضوں کو بیمہ شدہ نسخہ لے کر فارمیسی جانے کے باوجود مکمل دوا نہیں ملتی یا انہیں اضافی رقم اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے۔

ایران کی صحت عامہ کے شعبے کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں صحت کے 70 فیصد سے زیادہ اخراجات مریض براہِ راست اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔

امریکی پابندیاں اور ایران کا مالیاتی نظام

ایران پر امریکی پابندیوں نے طویل عرصے سے ملک کے بینکنگ، تیل، تجارت اور غیر ملکی زرمبادلہ کے نظام کو متاثر کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ CNN کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف مزید مالی دباؤ، بینکنگ تعلقات محدود کرنے اور دیگر اقتصادی اقدامات پر زور دیا ہے۔

ایسے ماحول میں ایران کے لیے خام مال، خصوصی ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے لیے بین الاقوامی ادائیگیاں کرنا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ فرق اہم ہے کہ امریکی پابندیوں میں انسانی اور طبی اشیا کے لیے بعض قانونی استثنا موجود ہوتے ہیں، مگر مالیاتی پابندیاں، بینکاری رکاوٹیں، شپنگ مسائل اور ادائیگی کے خطرات عملی طور پر طبی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

جنگ اور بحری رکاوٹوں نے سپلائی چین پر مزید دباؤ ڈالا

ایران کے موجودہ بحران کو صرف پابندیوں سے جوڑنا بھی مکمل تصویر نہیں دیتا۔

حالیہ جنگ، نقل و حمل میں رکاوٹیں، سمندری تجارت پر دباؤ، ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور مقامی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات نے بھی ادویات کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔

ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے فارماسیوٹیکل شعبے کو ایک ہی وقت میں پابندیوں، مہنگائی، کمزور ریال، شپنگ رکاوٹوں اور انشورنس ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہے۔

دل، شوگر اور درد کی ادویات بھی متاثر

تہران میں فارمیسیوں سے متعلق رپورٹس میں مختلف شعبوں کی ادویات میں قلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

کچھ مریضوں کو دل کے امراض کی مخصوص ادویات کے بجائے مقامی جنیرک ادویات استعمال کرنا پڑ رہی ہیں، جبکہ کولیسٹرول کم کرنے والی بعض ادویات دستیاب تو ہیں لیکن قیمت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

دردِ شقیقہ سمیت بعض ادویات کے مکمل طور پر مارکیٹ سے غائب ہونے کی بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بحران صرف انتہائی مہنگی یا نایاب ادویات تک محدود نہیں بلکہ عام استعمال کی ادویات تک بھی پھیل سکتا ہے۔

انسولین کا بحران، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

انسولین کی دستیابی اور قیمت میں اضافہ ایران کے صحت کے بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انسولین ایسی دوا ہے جسے طویل عرصے تک باقاعدگی سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس کی قیمت میں بڑا اضافہ یا عارضی قلت بھی مریضوں کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔

حالیہ رپورٹس میں ایران میں انسولین کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں بعض صورتوں میں تقریباً چھ گنا تک بڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

ویکسینز کی فراہمی پر بھی تشویش

ادویات کے بحران کے ساتھ ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔

ایرانی طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ویکسین کی درآمد یا تقسیم متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف انفرادی مریضوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوامی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹس میں روٹا وائرس ویکسین کی درآمد میں رکاوٹ اور موسمی فلو ویکسین کی فراہمی کے بارے میں تشویش کا ذکر کیا گیا ہے۔

مریضوں کے لیے ’دوا موجود ہے مگر خرید نہیں سکتے‘ کی صورتحال

ایران کے موجودہ بحران کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ قلت اور استطاعت کا بحران ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔

کسی دوا کا مارکیٹ میں موجود ہونا اس وقت کافی نہیں جب اس کی قیمت مریض کی آمدنی سے کہیں زیادہ بڑھ جائے۔

اسی طرح اگر دوا کی قیمت نسبتاً کم ہو مگر فارمیسی کے پاس وہ دوا موجود ہی نہ ہو تو مریض کے لیے نتیجہ ایک جیسا ہو سکتا ہے۔

ایرانی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر دائمی بیماریوں، بزرگ افراد اور مہنگی یا درآمدی ادویات پر انحصار کرنے والے مریضوں کو متاثر کرتی ہے۔

علاج ادھورا چھوڑنے کا خطرہ

ایران کی پارلیمانی صحت کمیٹی سے وابستہ حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ معاشی دباؤ کے باعث کچھ مریض علاج ادھورا چھوڑ رہے ہیں یا ڈاکٹروں سے رجوع کم کر رہے ہیں۔

یہ رجحان طویل مدت میں بیماریوں کے بوجھ میں اضافہ کر سکتا ہے، کیونکہ دل، کینسر، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کا علاج عموماً مسلسل نگرانی اور باقاعدہ دوا کا تقاضا کرتا ہے۔

بحران کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری پر

ایران کی معیشت پہلے ہی طویل عرصے سے افراط زر، کرنسی کی قدر میں کمی اور پابندیوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

موجودہ حالات میں خوراک، رہائش اور علاج سمیت بنیادی ضروریات کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے صحت کے اخراجات برداشت کرنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔

CNN کی حالیہ رپورٹنگ میں بھی ایران میں بڑھتی مہنگائی اور ادویات سمیت بنیادی اشیا کی قلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

حکومت کے لیے دوہرا چیلنج

ایرانی حکومت کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج ہیں۔

پہلا یہ کہ مقامی دوا ساز صنعت کے لیے خام مال، غیر ملکی کرنسی اور ضروری ٹیکنالوجی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

دوسرا یہ کہ انشورنس نظام کو اس قابل رکھا جائے کہ بڑھتی ہوئی ادویات کی قیمتوں کے ساتھ مریضوں کے اخراجات بھی قابل برداشت رہیں۔

اگر فارمیسیوں کو ادائیگی میں تاخیر جاری رہی تو ان کے لیے ادویات خریدنے کی صلاحیت مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قلت اور قیمتوں میں اضافے کا ایک نیا چکر شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

پابندیاں بمقابلہ انسانی صحت

ایران کا موجودہ بحران ایک بڑے بین الاقوامی سوال کو بھی دوبارہ سامنے لاتا ہے: ایسی معاشی پابندیوں کے انسانی اثرات کس حد تک عام شہریوں تک منتقل ہوتے ہیں جو بنیادی طور پر حکومت یا ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے عائد کی جاتی ہیں؟

امریکی حکام پابندیوں کو ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ایک ذریعہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام اور بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کے اثرات بالآخر عام شہریوں، کاروباروں اور صحت کے نظام تک پہنچتے ہیں۔

تاہم ایران کے اندر موجود معاشی اور انتظامی مسائل، انشورنس کمپنیوں کے واجبات، کرنسی پالیسی اور مقامی سپلائی چین کی کمزوریاں بھی موجودہ بحران کے اہم عوامل ہیں۔ اس لیے ادویات کی قلت کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

آگے کا راستہ

ایران میں ادویات کی صورتحال آنے والے مہینوں میں کئی عوامل پر منحصر ہوگی: غیر ملکی کرنسی کی دستیابی، خام مال کی درآمد، بین الاقوامی شپنگ، انشورنس کمپنیوں کی ادائیگیاں، ایرانی ریال کی قدر اور جنگی و سیاسی صورتحال۔

اگر سپلائی چین معمول پر آتی ہے تو بعض ادویات کی قلت کم ہو سکتی ہے، لیکن قیمتوں کا مسئلہ اس وقت تک برقرار رہنے کا امکان ہے جب تک پیداوار اور درآمد کی لاگت، کرنسی کی قدر اور انشورنس کی ادائیگیوں کے درمیان توازن پیدا نہیں ہوتا۔

انسانی بحران کی اصل تصویر

ایران میں ادویات کا موجودہ بحران محض فارمیسی کی شیلف پر خالی جگہوں کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں جنگ، پابندیاں، مہنگائی، کرنسی کا بحران، خام مال کی کمی اور انشورنس کے واجبات ایک دوسرے سے جڑ کر مریض تک پہنچ رہے ہیں۔

ایک طرف ایران بڑی مقدار میں ادویات مقامی طور پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن دوسری طرف جدید اور خصوصی علاج کے لیے ضروری خام مال اور ٹیکنالوجی کی بیرونی انحصاری ضرورت ختم نہیں ہوئی۔

نتیجتاً کینسر، ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے اصل سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ دوا کہاں ملے گی؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا وہ اسے خرید سکیں گے اور علاج مسلسل جاری رکھ سکیں گے؟

موجودہ بحران کے انسانی اثرات کا سب سے واضح پیمانہ یہی ہوگا کہ آنے والے عرصے میں ایران کے مریضوں کو ضروری علاج تک کتنی باقاعدگی، کتنی قیمت اور کتنی آسانی سے رسائی حاصل رہتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button