بین الاقوامیاہم خبریں

نیپال میں سیلاب سے تباہی، اقوام متحدہ کی 5 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل

اقوام متحدہ کے مطابق، ’’ملبے تلے اب بھی انسانی لاشیں اور ہزاروں مردہ مویشی موجود ہیں، جس سے متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد اقوام متحدہ نے پچاس ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔ سیلاب میں 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لاپتا ہیں۔
اقوام متحدہ نے جمعے کے روز نیپال میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے 84 ہزار سے زائد افراد کی امداد کے لیے تقریباً 5 کروڑ ڈالر کی فوری امداد کی اپیل کی ہے اور ساتھ ہی موسم سرما کی آمد سے خبردار کیا ہے۔
26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد پر ایک گلیشیئر کے انہدام کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے دونوں ممالک میں 1,300 سے زائد افراد کی جان لے لی جبکہ 5,600 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
نیپال میں اقوام متحدہ کے دفتر نے کہا، ’’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘‘ اس عالمی ادارے کے مطابق، ’’جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں، ان سے سیلاب نے روزمرہ زندگی ممکن بنانے والی تقریباً ہر چیز چھین لی ہے۔‘‘
سیلاب نے بالخصوص نیپال کے پہاڑی اضلاع کو بری طرح متاثر کیا، جس سے سڑکیں، پل اور پن بجلی کے متعدد منصوبے تباہ ہو گئے۔
اقوام متحدہ نے کہا، ’’نیپال میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار شدید متاثرہ افراد تک نقد امداد، خوراک، رہائش، صاف پانی، طبی سہولیات اور ہنگامی امداد پہنچانے کے لیے تقریباً 5 کروڑ ڈالر کی اپیل کر رہے ہیں۔‘‘
اپیل میں مزید کہا گیا کہ بے گھر افراد کے مراکز میں بخار اور اسہال کے کیسز پر صحت کے حکام پہلے ہی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، ’’ملبے تلے اب بھی انسانی لاشیں اور ہزاروں مردہ مویشی موجود ہیں، جس سے متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘‘ کئی متاثرہ علاقے اب بھی ملک کے دیگر حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ جن خاندانوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں انہیں ’’مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں کے اندر رہائش‘‘ کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی مالیت 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں اور انسانی امداد کے اخراجات شامل کیے جائیں تو مجموعی نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ نیپالی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ تعمیر نو پر آنے والی لاگت کئی ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button