یورپتازہ ترین

جرمنی میں برلن اور میکلن برگ فورپومیرن کے انتخابات، چانسلر میرس پر دباؤ

دو ہفتے قبل سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں اے ایف ڈی نے سی ڈی یو کو واضح شکست دی تھی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
جواد احمد-ادارت

جرمنی میں برلن اور میکلن برگ فورپومیرن میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) کی حالیہ انتخابی کامیابی کے بعد چانسلر فریڈرش میرس اور ان کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین  (سی ڈی یو) پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

میکلن برگ فورپومیرن میں اے ایف ڈی کے وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار ایرک ہولم  اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے
سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی واضح کامیابی نے جرمنی کے حکمران اتحاد کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیںتصویر: Annegret Hilse/REUTERS

میرس نے دونوں ریاستوں سے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی جماعت کی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا اپنا طہ شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے تاکہ انتخابات کے ممکنہ سیاسی اثرات سے نمٹ سکیں۔

دو ہفتے قبل سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں اے ایف ڈی نے سی ڈی یو کو واضح شکست دی تھی۔ اس کے بعد میرس کی قیادت اور ان کی جماعت میں داخلی حمایت کے بارے میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

میکلن برگ فورپومیرن میں اصل مقابلہ حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، ایس پی ڈی اور اے ایف ڈی کے درمیان ہے، جبکہ سی ڈی یو پانچ فیصد کی پارلیمانی حد عبور کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے۔

میکلن برگ فورپومیرن میں ایس پی ڈی کی امیدوار مانوئلا شویزیگ   اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے
میکلن برگ فورپومیرن میں اصل مقابلہ حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی اور اے ایف ڈی کے درمیان ہےتصویر: Lisi Niesner/REUTERS

دوسری جانب برلن میں سی ڈی یو اور بائیں بازو کی جماعت دی لنکے کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ شہر میں رہائش اور کرایوں کا بحران انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔

میرس نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالتے وقت جرمنی کی معیشت کو بحال کرنے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور غیر قانونی ہجرت کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم کمزور معاشی کارکردگی، توانائی اور رہائش کے بڑھتے اخراجات اور حکومت کی اصلاحات میں مشکلات نے ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔

اے ایف ڈی کی حمایت میں حالیہ اضافے کے باعث یہ دونوں انتخابات وفاقی حکومت کے لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ تاہم انتخابی نتائج کو براہِ راست وفاقی حکومت کی آئینی یا پارلیمانی تبدیلی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا، جبکہ یہ دونوں الگ ریاستی انتخابات ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button