
جواد احمد-ادارت
جرمنی میں برلن اور میکلن برگ فورپومیرن میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) کی حالیہ انتخابی کامیابی کے بعد چانسلر فریڈرش میرس اور ان کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

میرس نے دونوں ریاستوں سے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی جماعت کی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا اپنا طہ شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے تاکہ انتخابات کے ممکنہ سیاسی اثرات سے نمٹ سکیں۔
دو ہفتے قبل سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں اے ایف ڈی نے سی ڈی یو کو واضح شکست دی تھی۔ اس کے بعد میرس کی قیادت اور ان کی جماعت میں داخلی حمایت کے بارے میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میکلن برگ فورپومیرن میں اصل مقابلہ حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، ایس پی ڈی اور اے ایف ڈی کے درمیان ہے، جبکہ سی ڈی یو پانچ فیصد کی پارلیمانی حد عبور کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے۔

دوسری جانب برلن میں سی ڈی یو اور بائیں بازو کی جماعت دی لنکے کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ شہر میں رہائش اور کرایوں کا بحران انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
میرس نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالتے وقت جرمنی کی معیشت کو بحال کرنے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور غیر قانونی ہجرت کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم کمزور معاشی کارکردگی، توانائی اور رہائش کے بڑھتے اخراجات اور حکومت کی اصلاحات میں مشکلات نے ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔
اے ایف ڈی کی حمایت میں حالیہ اضافے کے باعث یہ دونوں انتخابات وفاقی حکومت کے لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ تاہم انتخابی نتائج کو براہِ راست وفاقی حکومت کی آئینی یا پارلیمانی تبدیلی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا، جبکہ یہ دونوں الگ ریاستی انتخابات ہیں۔



