پاکستاناہم خبریں

وزیرِ اعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات: امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی تعاون پر اتفاق

صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانی چاہئیں,وزیرِ اعظم

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ناگزیر قرار

وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانی چاہئیں۔


امن و امان: صوبائی حکومت کی کوششوں میں اضافے پر زور

ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کی کوششوں میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیرِ اعظم کے مطابق دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے، جس کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق، صوبے کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔


صحت، تعلیم اور عوامی فلاح صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری

وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئینی طور پر بااختیار ہے اور صحت، تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبوں میں صوبے کے عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو دستیاب وسائل کو عوامی بہتری کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔


وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے لیے تعاون کا اعادہ

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ سے کوشاں رہی ہے اور آئندہ بھی اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور اس کے عوام کی خوشحالی قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے اہداف کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری انتہائی ضروری ہے۔


ترقیاتی منصوبے، روزگار اور بنیادی ڈھانچہ

ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مطابق باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔


بلوچستان واقعے کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بتایا کہ گفتگو کا آغاز بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعے سے ہوا، جس کی بھرپور مذمت کی گئی۔

انہوں نے کہا:

"دہشت گردی کا کوئی صوبہ، ملک یا مذہب نہیں ہوتا۔ ہم نے پہلے بھی دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”


این ایف سی، این ایچ سی اور وفاقی بقایہ جات پر بات چیت

سہیل آفریدی کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کے ساتھ ساتھ صوبے کے این ایف سی، این ایچ سی اور وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے دیگر بقایہ جات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے صوبے کے معاشی مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور دیگر متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔


دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت قبائلی اضلاع پر اپنی جیب سے اب تک 26 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔


قبائلی عوام کی قربانیوں کا اعتراف

سہیل آفریدی نے چار ارب روپے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ، باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں کے عوام جو قربانیاں دے رہے ہیں، ان کے مقابلے میں یہ رقم کچھ بھی نہیں۔

ان کا کہنا تھا:

"یہ لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ایسے بیانات سامنے نہیں آنے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔”


ملاقات سیاسی نہیں، عوامی مفاد میں تھی: وزیراعلیٰ

ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ وزیراعظم سے ملاقات ان کے عہدے کا تقاضا تھی، بطور سیاسی ورکر شاید وہ ایسا نہ کرتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ:

"خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے حقوق کے لیے یہ ملاقات ضروری تھی۔ دہشت گردی کے حوالے سے مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی۔”


بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے متعلق سوال

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات نہ ہونے دینے کے معاملے پر کوئی بات ہوئی، تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔


مجموعی تاثر

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اور خیبر پختونخوا میں ترقی و استحکام کے لیے باہمی تعاون کی ایک اہم کڑی ہے۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاس ہے کہ وفاق اور صوبہ مل کر قومی سلامتی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف کے حصول کے لیے آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button