
بلوچستان میں دہشت گردی: بھارتی سرپرستی کے شواہد، وزیر دفاع خواجہ آصف کا سنگین انکشاف
ایک بی ایل اے دہشت گرد کے پاس موجود ہتھیاروں کی مالیت پانچ سالہ اوسط بھارتی آمدن سے زیادہ، پاکستان کا بھارت پر براہِ راست الزام
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے پس پردہ بھارتی سرپرستی کو ایک بار پھر بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے بلکہ کالعدم تنظیموں کو جدید اور مہنگا اسلحہ فراہم کر کے دہشت گردی کو منظم انداز میں فروغ دے رہا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق ایک اوسط ہندوستانی حمایت یافتہ بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) دہشت گرد کے زیرِ استعمال ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ بھارت میں ایک عام شہری کی پانچ سالہ اوسط آمدن سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت بذاتِ خود اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دہشت گردی کسی مقامی یا خود رو تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والا منصوبہ ہے۔
جدید اسلحہ اور مالی معاونت کے شواہد
وزیر دفاع نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں سے جو اسلحہ، کمیونیکیشن آلات اور دیگر جنگی سازوسامان برآمد ہوا ہے، وہ نہایت جدید، مہنگا اور بین الاقوامی معیار کا ہے۔ اس میں نائٹ وژن ڈیوائسز، جدید رائفلز، اسنائپر ہتھیار، سیٹلائٹ فونز، بارودی مواد اور جدید کمیونیکیشن سسٹمز شامل ہیں، جن کی فراہمی کسی غیر ریاستی گروہ کے لیے بغیر بیرونی مدد کے ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اسلحہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اس کی مسلسل فراہمی ایک منظم مالی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے، جو بھارت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے حساس اور اسٹریٹجک صوبے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
بلوچستان کو عدم استحکام کا نشانہ بنانے کی کوشش
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو نقصان پہنچایا جائے اور صوبے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے ریاستی رٹ کو کمزور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں، سرکاری تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں ہونے والے مربوط دہشت گرد حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دشمن عناصر نے اپنی سرگرمیوں میں شدت پیدا کر دی ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کو شواہد فراہم کرنے کا عزم
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جن میں گرفتار دہشت گردوں کے اعترافی بیانات، برآمد شدہ اسلحہ، مالی لین دین کے ریکارڈ اور سرحد پار روابط کے ثبوت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شواہد مناسب فورمز پر عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ بھارت کے کردار کو بے نقاب کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، اور اگر اس کے ریاستی سرپرستوں کا احتساب نہ کیا گیا تو خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
قومی عزم اور سیکیورٹی اداروں کا کردار
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی قربانیاں دے چکا ہے اور اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر حصے میں امن و استحکام قائم کیا جائے گا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر دفاع کے یہ انکشافات نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ اس بیانیے کو بھی تقویت دیتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔
نتیجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دہشت گرد کے پاس موجود اسلحے کی مالیت کا ایک عام بھارتی شہری کی کئی سالہ آمدن سے زیادہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ دہشت گردی خود ساختہ نہیں بلکہ منظم اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی کارروائی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عوام کی حفاظت کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دہشت گردی کے سرپرستوں کو بے نقاب کرتا رہے گا۔



