
صدر وولودیمیر زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ روس نے ’وعدہ خلافی‘ کرتے ہوئے گزشتہ رات یوکرین پر بڑا حملہ کیا۔ دونوں ممالک کے نمائندے چار سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے والے ہیں۔
ابو ظہبی میں امن مذاکرات بدھ اور جمعرات کو ہونے والے ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق یہ کارروائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کا خاص ہدف بجلی کا نظام تھا، جو کییف کے بقول شہریوں کو سرد ترین موسم میں روشنی، حرارت اور پانی سے محروم کرنے کی ماسکو کی جاری مہم کا حصہ ہے۔
ان حملوں میں سینکڑوں ڈرونز اور 32 بیلسٹک میزائل شامل تھے، جن سے کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔
زیلنسکی نے کہا، ’’سردیوں کے انتہائی سرد ترین دنوں میں لوگوں کو دہشت زدہ کرنا روس کے لیے سفارت کاری سے زیادہ اہم ہے۔‘‘
کییف میں رات کے وقت درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا اور منگل کو منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
اس دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے حمایت کے اظہار کے طور پر کییف کا دورہ کیا۔ زیلنسکی نے ان سے ملاقات کی اور اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی سامان فراہم کرنے اور روس پر اس کی مکمل جارحیت ختم کرانے کے لیے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالنے کی اپیل کی۔
حکام کے مطابق ماسکو اور کییف کے وفود کے درمیان حالیہ بات چیت تعمیری رہی ہے، لیکن ایک سال کی کوششوں کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ اہم نکات پر پیش رفت کی تلاش میں ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین لڑائی ختم کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن کوئی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔‘‘




