
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعلیٰ بلوچستان آفس کے ساتھ
کوئٹہ میں حالیہ دنوں شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے منظم اور بیک وقت دہشتگرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے شہر بھر میں سرچ اور کامبنگ آپریشن مزید تیز کر دیے ہیں۔ دہشتگردی، سہولت کاری اور حملوں کے دوران ہونے والی لوٹ مار میں ملوث ہونے کے شبہ میں اب تک 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ بھاری مقدار میں غیرقانونی اسلحہ اور لوٹا گیا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون کی تصدیق
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں جاری سرچ آپریشن کے دوران 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض گرفتار افراد کے قبضے سے بھاری اور غیرقانونی اسلحہ برآمد ہوا ہے، جس کی بنیاد پر ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ حملوں کے دوران تھانوں میں لوٹ مار کرنے والے افراد کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن میں بظاہر عام سویلین شامل ہیں، اور ان کی شناخت کے بعد باقاعدہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے
کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے مغربی بائی پاس، مشرقی بائی پاس، سریاب، نیو سریاب، ہزار گنجی، شالکوٹ، کسٹم، گاہی خان چوک، سریاب مل، کلی بنگلزئی، موسیٰ کالونی، سیٹلائٹ ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ان کارروائیوں میں کوئٹہ پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، فرنٹیئر کور اور دیگر حساس ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
31 جنوری کے بیک وقت دہشتگرد حملے
یاد رہے کہ 31 جنوری کو درجنوں شدت پسندوں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں شالکوٹ پولیس تھانہ، نیو سریاب پولیس تھانہ، عبدالخالق شہید تھانہ، نیو پولیس لائن، پولیس ٹریننگ کالج، زرعی مرکز میں قائم ایف سی کیمپ، ایف سی کی مختلف چوکیاں اور پولیس و ایف سی کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ دستی بم، راکٹ لانچر اور خودکش دھماکوں کا بھی استعمال کیا۔
گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی سکیورٹی پر خودکش حملہ
ان حملوں کے دوران گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی خودکش کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 31 سے تجاوز کر گئی تھی۔
سرکاری املاک کو نقصان، گاڑیاں نذرِ آتش
مسلح افراد نے پولیس تھانہ عبدالخالق شہید اور اس سے ملحقہ نیو پولیس لائن کی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ وہاں اور اطراف میں کھڑی درجنوں سرکاری اور نجی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی، جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔
حملوں کے دوران لوٹ مار کے واقعات
شہر کے مختلف علاقوں میں افراتفری کے دوران لوٹ مار کے متعدد واقعات بھی پیش آئے۔ پولیس کے مطابق بعض افراد نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھانوں میں موجود ضبط شدہ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور رکشے چوری کر لیے۔ یہ گاڑیاں مختلف مقدمات میں بطور کیس پراپرٹی تھانوں میں کھڑی تھیں۔
اسی طرح ہزار گنجی سبزی منڈی میں قائم پانچ بینکوں کے دفاتر سے فرنیچر، الیکٹرانکس سامان، کمپیوٹرز اور جنریٹر بھی لوٹ لیے گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بعض افراد کو ایک موٹر سائیکل پر دوسری موٹر سائیکل باندھ کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
لوٹا گیا سامان واپس کرنے کی مہلت
پولیس نے لوٹی گئی اشیا واپس کرنے کے لیے شہریوں کو 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ مقررہ وقت میں سامان واپس نہ کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اسے دہشتگردی کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم پولیس کے مطابق زیادہ تر افراد نے مہلت ختم ہونے کے باوجود سامان واپس نہیں کیا، جبکہ کچھ اشیا مختلف مقامات سے لاوارث حالت میں برآمد ہوئیں۔
لوٹ مار میں ملوث درجنوں افراد گرفتار
پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی، پولیس اور حساس اداروں نے لوٹ مار میں ملوث درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے قبضے سے 100 سے زائد موٹر سائیکلیں اور دیگر قیمتی اشیا برآمد ہوئی ہیں۔ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
حملہ آوروں کی زیر استعمال گاڑیاں برآمد
شالکوٹ پولیس کے مطابق ہزار گنجی مری کیمپ کے قریب پہاڑی علاقے سے دو مشکوک گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں، جنہیں سی ٹی ڈی نے تحویل میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گاڑیاں حملہ آوروں کے زیر استعمال رہی تھیں۔
تحقیقات کے لیے جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی فوٹیجز
پولیس افسر کے مطابق حملوں کی تحقیقات کے لیے متاثرہ علاقوں کی جیو فینسنگ کی جا رہی ہے۔ سیف سٹی کیمروں اور قریبی عمارتوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کر کے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے نادرا سے بھی مدد لی جا رہی ہے، جبکہ گرفتار افراد کی نشاندہی پر مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت کارروائی کا امکان
پولیس اور سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف بھی انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ حملوں میں براہ راست ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے مزید آپریشنز کی تیاری جاری ہے۔
صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ
بلوچستان حکومت نے حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، چہرہ ڈھانپنے، اسلحے کی نمائش، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے استعمال اور پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔
انٹرنیٹ سروس کی مرحلہ وار بحالی
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چھ دنوں سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق جمعرات کی رات سے کوئٹہ میں مرحلہ وار انٹرنیٹ سروس کی بحالی شروع کی جائے گی، تاہم جن علاقوں میں سکیورٹی آپریشن جاری ہوں گے وہاں انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر متاثر رہ سکتی ہے۔



