پاکستاناہم خبریں

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب، جبری گمشدگیوں میں نمایاں کمی، عدالتی اصلاحات ناگزیر

’’سرخ لکیر‘‘ عبور کرنے والوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ,’’یہ کیسی جمہوریت ہے؟‘‘

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومت اس حساس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لاپتہ افراد کے کیسز کی مؤثر جانچ پڑتال اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک نئی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔

لاہور میں منعقدہ چھٹی عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کے معاملے کو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کے انسانی، قانونی اور سماجی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔


جبری گمشدگیوں کے اعداد و شمار: چار گنا کمی

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حالیہ برسوں میں جبری گمشدگیوں کی رپورٹ شدہ تعداد تقریباً 10 ہزار سے کم ہو کر 2,600 کے قریب آ چکی ہے، جو بظاہر ایک نمایاں کمی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کے تناظر میں یہ تعداد اب بھی "ناقابل قبول” ہے اور حکومت کا ہدف صفر جبری گمشدگیاں ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست کو اس مسئلے پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے مزید شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔


لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے عبوری ریلیف پیکج

وفاقی وزیر قانون نے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے متعارف کرائے گئے عبوری ریلیف پیکج کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق یہ پالیسی فریم ورک 18 ماہ کی مشاورت اور تیاری کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔

یہ پیکج صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ اس میں درج ذیل قانونی سہولتیں بھی شامل ہیں:

  • وراثتی تنازعات کے حل کے لیے قانونی راستے

  • لاپتہ افراد کے نام پر موجود بینک اکاؤنٹس کے استعمال کی اجازت

  • سرکاری ریکارڈ اور شناختی مسائل کے حل کے لیے خصوصی میکنزم

وزیر قانون کے مطابق اس پیکج کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو عملی زندگی میں درپیش مشکلات سے نکالنا ہے۔


لاپتہ افراد کے کیسز میں پیچیدگیاں

اعظم نذیر تارڑ نے اس تاثر کو بھی چیلنج کیا کہ تمام لاپتہ افراد ریاستی تحویل میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض افراد، جو لاپتہ کے طور پر رپورٹ ہوئے، رضاکارانہ طور پر کالعدم عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہو گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کچھ افراد دہشت گردوں کے ساتھ پولیس مقابلوں میں مارے گئے، جس سے لاپتہ افراد کے کیسز مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔


26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا دفاع

وزیر قانون نے اپنی تقریر میں حالیہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ عدالتی حد سے تجاوز کو روکنے کے لیے ناگزیر تھیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے بعض اوقات اپنی آئینی حدود سے تجاوز کیا، قانون کی نئی تشریحات کیں اور جمہوری طور پر منتخب وزرائے اعظم کو برطرف کیا۔

ان کے مطابق، وفاقی آئینی بینچوں کا قیام ایک دیرینہ جمہوری مطالبہ تھا اور یہ میثاقِ جمہوریت کا بنیادی حصہ رہا ہے۔


سول سوسائٹی اور اقلیتوں کی نمائندگی شامل

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ نئے تشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں اب سول سوسائٹی اور اقلیتی نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ججوں کی تقرری اور تبادلوں کے عمل میں زیادہ شفافیت اور تنوع پیدا ہو۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ اور بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں کے عوام کو اعلیٰ معیار کی عدالتی نگرانی کا حق حاصل نہیں؟ ان کے مطابق صرف چند صوبوں کے ججوں کو قومی سیاست کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا ناانصافی ہے۔


فوجی عدالتیں اور سویلینز کا ٹرائل

وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ اگر کوئی عام شہری ریاستی سلامتی کی سرخ لکیر عبور کرے، مثلاً فوجی تنصیبات پر حملہ کرے، تو اس کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے، جس میں شامل ہیں:

  • غیر حاضری میں ٹرائل پر پابندی

  • عدالتی ریکارڈ تک رسائی

  • پسند کے وکیل کا حق

  • عدالتی نظرثانی کی صورت میں اپیل

انہوں نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں میں اپیل کے حق کو مزید واضح بنانے پر کام جاری ہے اور پارلیمنٹ جلد اس پر فیصلہ کرے گی۔


فوجی عدالتوں کی سزائیں نسبتاً نرم؟

اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ فوجی عدالتوں نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کام کرنے والی سویلین عدالتوں کے مقابلے میں نسبتاً کم سخت سزائیں سنائی ہیں، جس پر کانفرنس میں موجود کئی شرکاء نے تحفظات کا اظہار کیا۔


قانونی ماہرین کا سخت ردعمل

وزیر قانون کے بیانات کے برعکس، کانفرنس میں شریک متعدد ممتاز قانونی ماہرین نے ملک میں جمہوری اقدار کے مستقبل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

سینئر وکیل اختر حسین نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت کے اپنے وزراء اسے "ہائبرڈ حکومت” یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ "شراکت داری” قرار دیتے ہیں تو اسے مکمل جمہوریت کیسے کہا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم اور پیکا ایکٹ نے عدالتی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


28ویں ترمیم پر خطرے کی گھنٹی

سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے خلاف خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم 1973 کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مستقل طور پر تبدیل کر دے گی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بار ایسوسی ایشنز، جو کبھی آئینی بالادستی کی علامت تھیں، اب سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button