
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے حالیہ تبادلے کے بعد سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج کی مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان عناصر تورخم بارڈر کے اطراف اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پسپا ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز نے فوری اور منظم ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں سرحد پار موجود مورچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد سرحدی خودمختاری کا تحفظ اور چیک پوسٹوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔
تورخم بارڈر پر کشیدگی
تورخم بارڈر پر کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغان جانب سے اچانک فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا۔
ذرائع کے مطابق شدید جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان کے اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر ٹرکوں پر سامان لاد کر علاقے سے نکل گئے۔ اطلاعات کے مطابق پسپائی جلد بازی میں کی گئی، جس کے شواہد سرحدی علاقوں میں دیکھے گئے۔
پاکستانی افواج کا عزم
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور کسی بھی سرحدی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ افواج ہمہ وقت چوکس ہیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، “پاکستانی فورسز نے نہ صرف دشمن کی پیش قدمی روکی بلکہ اسے اپنی پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔”
ہائی الرٹ اور نگرانی میں اضافہ
ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ فضائی اور زمینی نگرانی کے ذریعے کسی بھی مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر فورسز کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا جارحیت کو فوری طور پر ناکام بنایا جا سکے۔
عوام سے اپیل
حکام نے سرحدی علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔ ذرائع کے مطابق بعض عناصر کی جانب سے گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
صورتحال کا جائزہ
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق تورخم بارڈر پر حالیہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ سرحدی ماحول انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں معمولی اشتعال انگیزی بھی وسیع تر کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم پاکستانی فورسز کی فوری اور مربوط کارروائی نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔
فی الوقت تورخم بارڈر پر حالات قابو میں بتائے جا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز بدستور چوکسی کی حالت میں موجود ہیں اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔



