
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے، وہیں ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی بیرونی سائبر حملوں کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف میڈیا چینلز اور ویب سائٹس پر ہونے والے سائبر حملے ایک سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے نتائج نہ صرف سکیورٹی کے لحاظ سے، بلکہ قومی دفاع کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہیں۔
سائبر حملوں کی نوعیت اور اثرات:
چند دنوں سے بیرونِ ملک سے پاکستانی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منظم کوششیں جاری تھیں۔ ان حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مختلف پاکستانی الیکٹرانک میڈیا چینلز اور ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر اشتعال انگیز پیغامات نشر کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نشریاتی نظام متاثر ہوا بلکہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے بھی گہرے خدشات پیدا ہوئے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ابتدائی طور پر یہ تسلیم کیا کہ یہ حملے بیرونی ذرائع سے کیے گئے ہیں، تاہم حتمی رائے تکنیکی تحقیقات کے بعد ہی دی جا سکے گی۔ حملوں کے دوران متعدد ٹی وی چینلز کی نشریات عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور براڈکاسٹ فیڈ میں غیرمجاز مداخلت ریکارڈ کی گئی۔ ان حملوں نے پاکستانی سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز کو بھی نشانہ بنایا، اور معروف سٹریمنگ پلیٹ فارم ’تماشا‘ کو ہیک کیا گیا۔
پاکستان کا ردعمل اور سائبر سکیورٹی اقدامات:
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان سائبر حملوں کے ردعمل میں پاکستان نے بھی انڈیا کے کچھ ٹی وی چینلز اور اسرائیل کی متعدد ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔ اس عمل کا مقصد نہ صرف جوابی کارروائی تھا بلکہ سائبر جنگ کے میدان میں پاکستان کی جانب سے ایک واضح پیغام بھی تھا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔
قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے ان سائبر حملوں کا باقاعدہ نوٹس لیا اور تحقیقات کا آغاز کیا۔ این سی ای آر ٹی نے متاثرہ سسٹمز کا فرانزک تجزیہ کرنا شروع کر دیا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ حملے کس نوعیت کے تھے اور انہیں کس ذریعے یا ذرائع سے انجام دیا گیا۔
این سی ای آر ٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بیشتر حملوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا تھا، لیکن بعض کیسز میں حملہ آور عارضی طور پر نشریاتی یا آن لائن سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کی رائے:
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق، ایسے حالات میں سرکاری ادارے، میڈیا ہاؤسز، بینکنگ نظام اور اہم قومی تنصیبات خاص طور پر ہدف بن سکتی ہیں۔ محمد اسد الرحمٰن، جو کہ سائبر سکیورٹی زون کے سی ای او ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی میں سائبر محاذ کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے، اور اس کے لیے پیشگی تیاری کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائبرڈ جنگ کے تناظر میں سپلائی چین حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور ایسے حملوں میں زیادہ تر سرکاری اداروں یا ان سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسد الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ ’جعل ساز کسی بڑے پلیٹ فارم یا سرکاری اداروں سے منسلک افراد کے اکاؤنٹس ہیک کر کے وہاں سے ایسا پیغام نشر کر سکتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہو۔‘
عام صارفین کی حفاظت:
اسد الرحمٰن نے سوشل میڈیا صارفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اپنی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے مصدقہ معلومات پر انحصار کرنا چاہیے اور اپنے اکاؤنٹس میں ٹو سٹیپ ویریفکیشن لازمی طور پر فعال رکھنی چاہیے تاکہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کر کے کوئی ان کی فالوونگ کا غلط استعمال نہ کر سکے۔‘
وی پی این کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وی پی این کا استعمال نہ صرف سائبر سکیورٹی کے حوالے سے مفید ہے بلکہ یہ آپ کی پرائیویسی کو بھی محفوظ بناتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ مستند اور قابلِ اعتماد وی پی این استعمال کرنا چاہیے، اور مفت یا غیر معروف وی پی این کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
رمضان اور عید کے موقع پر سائبر فراڈ:
پاکستان میں رمضان اور عید کے دوران جعلی لنکس اور پیغامات کے ذریعے جعل سازی کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔ سائبر سکیورٹی ماہر احمد حسین کے مطابق رمضان میں حکومت کی جانب سے مستحقین کے لیے مالی پیکیجز کے اعلان کے بعد جعل ساز جعلی پورٹل اور فارم بنا کر شہریوں سے قیمتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور عید کے موقع پر جعلی آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر کوئی بھی معلومات حاصل کرنے یا آن لائن خریداری کے لیے صرف آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور معتبر ویب سائٹس سے رجوع کرنا چاہیے۔‘
نتیجہ:
پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے حوالے سے موجودہ صورتِ حال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ اور کشیدگی کے دوران سائبر محاذ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سرکاری ادارے، میڈیا ہاؤسز، اور عام شہریوں کو اپنے آن لائن اقدامات میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔ اس کے لیے نہ صرف پیشگی تیاریاں اہم ہیں، بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی اپنے آن لائن اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے اور جعلی معلومات سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان حالات میں، سائبر سکیورٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہی ملک کے دفاع کے لیے اولین ضرورت ہے۔



