
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
اسلام آباد: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے منسلک عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کے 663 جنگجو ہلاک جبکہ 887 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے زیر استعمال متعدد عسکری تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق کارروائیوں میں دہشت گردوں کی 249 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 44 پوسٹس پر قبضہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے زیر استعمال 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے بھی تباہ کر دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کے 70 سے زائد اہم ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو بھی فضائی کارروائیوں کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان ٹھکانوں میں لاجسٹک اڈے، تربیتی کیمپ اور اسلحہ ڈپو شامل تھے جنہیں دہشت گرد پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق 12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں کابل، پکتیا اور قندھار کے علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے مراکز اور معاون انفراسٹرکچر کو ٹارگٹ کیا گیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق کارروائیوں میں جدید فضائی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کا استعمال کیا گیا جس کے باعث دہشت گردوں کے اہم نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں دہشت گردوں کے لاجسٹک بیس، اسلحہ کے ذخائر اور تربیتی کیمپ شامل تھے جہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
جاری کردہ ویڈیوز اور شواہد میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ کارروائیوں کے دوران کسی شہری آبادی یا سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
حکام کے مطابق افغانستان کی بعض سرکاری شخصیات اور بعض میڈیا حلقوں کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہیں جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ملک کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔



