
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال کے درمیان چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بیجنگ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کے افغان امور کے خصوصی مندوب نے حالیہ مہلک سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کا دورہ کیا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور فوری جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کےخصوصی مندوب نے 7 سے 14 مارچ کے درمیان پاکستان اور افغانستان کا ایک ہفتہ طویل دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر کے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔
سرحدی جھڑپوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حالیہ بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب 26 فروری کو پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی گئی۔ اس کے جواب میں افغان طالبان نے سرحدی علاقوں میں جوابی کارروائی شروع کر دی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔
پاکستان نے اس صورتحال کے بعد طالبان حکام کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اگلے ہی روز کابل کے اطراف میں فضائی حملے کیے، جسے بعض حلقوں نے خطے میں ایک بڑی عسکری کشیدگی قرار دیا۔
پاکستان کے الزامات
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں موجود حکام اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور دہشت گرد گروہ صوبہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کے جنگجو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہیں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق ان گروہوں نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں کئی خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے اور مؤقف اختیار کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
چین کا متوازن سفارتی کردار
اگرچہ پاکستان کو خطے میں چین کا سب سے قریبی اسٹریٹجک شراکت دار سمجھا جاتا ہے، تاہم بیجنگ نے افغانستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے بیجنگ میں معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ چین دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی چینلز کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کے مطابق چین خطے میں امن و استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اسی مقصد کے تحت ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کابل اور اسلام آباد میں ملاقاتیں
چینی مندوب کے دورے کے دوران افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
انہوں نے افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی اور وزیر تجارت سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔
اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انہوں نے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام سے ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی استحکام جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
چین کے وزیر خارجہ کا بھی رابطہ
بیجنگ کی سفارتی سرگرمیوں کے تسلسل میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے بھی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
وانگ ای نے واضح کیا کہ طاقت کا استعمال مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور اس سے پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ردعمل
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھی چینی مندوب کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کے دوران افغانستان سمیت علاقائی امن و استحکام کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔
چین کے اقتصادی مفادات
چین کی اس ثالثی کے پیچھے خطے میں اس کے اہم اقتصادی مفادات بھی ہیں۔
بیجنگ نے Belt and Road Initiative کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا حصہ China–Pakistan Economic Corridor ہے جس کے ذریعے چین پاکستان میں انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
چین کے لیے یہ ضروری ہے کہ خطے میں امن قائم رہے تاکہ ان منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے۔
افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات
سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد چین نے افغانستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بڑھایا ہے۔
بیجنگ افغانستان کو ایک اہم پڑوسی ملک کے طور پر دیکھتا ہے اور وہاں اقتصادی اور معدنی وسائل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔
اسی لیے چین خطے میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کو کم کیا جا سکے۔
علاقائی امن کے لیے اہم لمحہ
ماہرین کے مطابق چین کی ثالثی اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے چین کی سفارتی کوششوں کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔



