
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر کے رہنماؤں، عالمی اداروں اور علاقائی طاقتوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے کو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس عمل میں پاکستان کے فعال اور مؤثر ثالثی کردار کو بھی غیر معمولی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سب سے پہلے اس معاہدے کے ابتدائی خدوخال کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد عالمی دارالحکومتوں میں اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرات کم ہوں گے بلکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ مکمل طور پر فعال ہونے، عالمی تجارت کی بحالی اور تیل کی قیمتوں میں استحکام آنے کی بھی امید پیدا ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کا پاکستان سمیت ثالث ممالک کو خراج تحسین
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امریکہ اور ایران کو امن معاہدے پر مبارک باد دیتے ہوئے اسے تنازعے کے پرامن حل کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا:
"یہ تنازعے کے پرامن حل کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔”
گوٹیرش نے مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے والے ممالک کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی شراکت داروں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا۔
چین نے پاکستانی سفارت کاری کو سراہ دیا
چین نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے کی گئی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل رہی۔
نریندر مودی کا خیر مقدم، مگر پاکستان کا ذکر نہیں
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس تنازعے نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور مختلف ممالک میں جانی نقصان کا سبب بنا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے گا اور عالمی تجارت و جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنائے گا۔
تاہم بھارتی وزیراعظم نے اپنے بیان میں پاکستان کے ثالثی کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا، جس پر سیاسی مبصرین نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیاور وزیر خارجہ پینی وونگ نے مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور موجودہ معاہدہ اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔
صدر ایردوان کی پاکستان کو خصوصی خراج تحسین
ترکی کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں بالخصوص پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بحران کے دوران تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات کو فروغ دے کر اہم کردار ادا کیا۔
ایردوان نے قطر اور سعودی عرب کے تعاون کو بھی امن عمل کی کامیابی کا اہم عنصر قرار دیا۔
قطر نے پاکستان کو ’’برادر ملک‘‘ قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا
قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے خصوصی بیان میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہمارے بھائیوں‘‘ نے امن مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بیان کے مطابق پاکستان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، علاقائی سلامتی اور اقتصادی استحکام سے متعلق مفاہمتی نکات کو حتمی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
یورپ کی بڑی طاقتوں کی جانب سے خیر مقدم
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک وسیع سفارتی عمل کا نتیجہ ہے جس میں کئی ممالک اور شراکت داروں نے حصہ لیا۔
انہوں نے زور دیا کہ معاہدے پر فوری اور مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ اس کے ثمرات جلد از جلد سامنے آسکیں۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اس معاہدے کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معیشت کو نئی توانائی مل سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ مزید محفوظ خطہ بن سکتا ہے۔
جاپان اور برطانیہ کی جانب سے حمایت
جاپان کی وزیراعظم سائیں تاکائیچی نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت بحران کے حل کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور اس کا سہرا ان تمام ممالک کو جاتا ہے جنہوں نے مستقل سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اس معاہدے کو جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے امریکی صدر، پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے ایک بڑے بحران کو عالمی تنازعے میں تبدیل ہونے سے روک دیا۔
برطانوی ہائی کمشنر کا خصوصی پیغام
پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنرجین میریٹ نے پاکستان کے کردار کو ’’مستقل، صبر آزما اور متاثر کن‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں بھی مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور امن کے فروغ کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔
کینیڈا، اٹلی، فن لینڈ اور کویت کی حمایت
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں نے مذاکرات میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے تمام ثالث ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاص طور پر پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھی پاکستان سمیت تمام ثالث ممالک کو مبارک باد پیش کی۔
اسی طرح کویت کی وزارت خارجہ اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو عالمی امن اور اقتصادی استحکام کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی سے عالمی معیشت کو ریلیف
اقتصادی ماہرین کے مطابق امریکہ ایران تنازعے کے دوران آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
دنیا کی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے جنگ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
معاہدے کے بعد:
- تیل کی عالمی سپلائی بحال ہونے کی توقع ہے۔
- توانائی کی قیمتوں میں استحکام آسکتا ہے۔
- عالمی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
- خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
- عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ کا اہم ترین لمحہ
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران جیسے دو متحارب ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کی حالیہ سفارتی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 19 جون کو جنیوا میں معاہدے پر باقاعدہ دستخط کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مؤثر، ذمہ دار اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر مزید مضبوط مقام بھی حاصل ہوگا۔
عالمی رہنماؤں کے مسلسل مثبت ردعمل نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازعے کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سفارت کاری، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کی ایک اہم کامیابی کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔



