
سیالکوٹ میڈیکل کالج ڈسکہ روڈ میں بین المذہبی ہم آہنگی کنونشن کا انعقاد
"یہ حکومت پنجاب کی طرف سے اقلیتیوں کے حقوق کی تسلیم کرنے کی علامت ہے۔"
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سیالکوٹ میڈیکل کالج ڈسکہ روڈ پر بین المذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک اہم کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے نمائندوں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس کنونشن میں صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جنہوں نے اپنے خطاب میں اقلیتیوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر روشنی ڈالی۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور کی اہم شرکت
کنونشن کا آغاز صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کی خصوصی موجودگی سے ہوا، جنہوں نے کہا کہ "وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا مشن ہے کہ اقلیتیوں کا احساس محرومی ختم کیا جائے اور ان کو مساوی حقوق دیے جائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اقلیتی امور کے لئے محکمہ کا بجٹ 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 8 ارب روپے کر دیا ہے، تاکہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکیں۔
صوبائی وزیر نے پاکستان کی اقلیتی برادری کے بارے میں کہا کہ "پاکستان کی اقلیتیں بھی پوری قوم کی طرح فوج کے ساتھ کھڑی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنے وطن کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔” انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے ایک لاکھ مینارٹی کارڈز کی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حکومت پنجاب کی طرف سے اقلیتیوں کے حقوق کی تسلیم کرنے کی علامت ہے۔”
دیگر اہم شخصیات کی شرکت
اس کنونشن میں وزیر مملکت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ چوہدری ارمغان سبحانی، رکن قومی اسمبلی و چیئرپرسن سٹیڈنگ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت سیدہ نوشین افتخار اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد نے بھی شرکت کی۔ کنونشن میں کمشنر گوجرانولہ سید نوید حیدر شیرازی، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی، پارلیمانی سیکرٹری سونیا عاشر، رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ آرتھر اور بشپ آف لاہور ندیم کامران سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
پاکستان کی اقلیتی برادری کے لیے حکومت کے اقدامات
وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاکستان کی اقلیتیں ہمارے سر کا تاج ہیں اور حکومت نے ہر سطح پر اس کا عملی ثبوت دیا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتیوں کو قومی دھارے میں شمولیت کے مکمل مواقع فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ وہ اپنے حقوق کا بھرپور استعمال کر سکیں۔
چوہدری ارمغان سبحانی نے کہا کہ "ملک میں بین المذہبی ہم آہنگی مثالی طور پر موجود ہے اور تمام اقلیتوں کو پاکستان میں برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ دین اسلام احترام آدمیت سیکھاتا ہے اور مذہبی رواداری کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی بحالی
صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ "حکومت پنجاب نے اقلیتیوں کی عبادت گاہوں کی بحالی اور تزئین و آرائش کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔ گوردوارہ باؤلی صاحب سیالکوٹ اور گوردوارہ فتح بھںڈر ڈسکہ کی بحالی کا کام جلد شروع ہو گا، تاکہ اقلیتی برادری کے افراد اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادات کر سکیں۔”
وزیر مملکت سیدہ نوشین افتخار کا پیغام
اس موقع پر سیدہ نوشین افتخار، رکن قومی اسمبلی اور چیئرپرسن سٹیڈنگ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ "ن لیگ کی قیادت اس تگ و دو میں ہے کہ اقلیتیں عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کریں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”
اقلیتی برادری کے کردار کا اعتراف
کمشنر گوجرانولہ سید نوید حیدر شیرازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "حال ہی میں ہونے والے ریسکیو و ریلیف آپریشنز میں اقلیتی برادری کے افراد نے فرنٹ لائن پر حصہ لیا اور اپنی خدمات فراہم کیں۔ یہ ان کی قومی ذمہ داری کا اظہار ہے۔”
مثالی بین المذہبی ہم آہنگی کا تذکرہ
کمشنر گوجرانولہ سید نوید حیدر شیرازی نے گوجرانولہ ڈویژن میں بین المذہبی ہم آہنگی کی موجودگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ "گوجرانولہ ڈویژن میں تمام مذاہب میں مثالی ہم آہنگی ہے اور یہ پاکستان کی اصل شناخت ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔”
اختتام
اس کنونشن کے دوران تمام شرکاء نے پاکستان میں بین المذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور اقلیتی برادری کے حقوق کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس طرح کے مواقع نہ صرف مختلف کمیونٹیز کے درمیان رابطے کو بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ یہ ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قومی یکجہتی کو فروغ دے سکتے ہیں۔



