
مشرق وسطیٰ کی جنگ سے عرب ممالک کی معیشتوں کو 186 ارب ڈالر کا نقصان، اقوام متحدہ
خلیجی ممالک اس معاشی بوجھ کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں، جہاں مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) میں نقصان 168 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ تقریباﹰ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جانے کے باعث عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبداللہ الدرداری نے عمان میں صحافیوں کو بتایا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ لڑائی کل ہی رک جائے، کیونکہ ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کی لڑائی کے نتیجے میں عرب خطے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 6 فیصد کمی ہوئی ہے، جو کہ 186 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے۔
الدرداری کے مطابق خلیجی ممالک اس معاشی بوجھ کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں، جہاں مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) میں نقصان 168 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ لیونت کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر جوابی بھی حملے کیے، جبکہ لبنان اور عراق بھی اس تنازعے میں شامل ہو گئے جہاں ایران نواز گروہوں نے اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی معیشتوں کا تیل پر انحصار ایک بڑا خطرہ ہے اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران نے معیشتوں کو متنوع بنانے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ جنگ سے پہلے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
الدرداری نے کہا کہ عرب معیشت بنیادی طور پر ایک ہی شے یعنی تیل پر انحصار کرتی ہے، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جو تیل برآمد نہیں کرتے، وہ تیل برآمد کرنے والے ممالک سے ترسیلات زر اور امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس تنازعے کے نتیجے میں تقریباً 37 لاکھ ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں، جبکہ لگ بھگ 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں یا جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ حالات نے عرب دنیا کی معیشت کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے اور یہ ماڈل طویل مدت کے لیے پائیدار نہیں ہے۔



