
ڈبلیو ٹی او وزارتی کانفرنس: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی متحرک سفارتی سرگرمیاں، زرعی مذاکرات میں اہم کردار
دنیا کو ایک مستحکم، شفاف اور مکمل طور پر فعال تنازعات کے حل کے نظام کی اشد ضرورت ہے، جو قواعد پر مبنی عالمی تجارتی نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
مخدوم حسین.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے، نے یاؤندے میں منعقدہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی 14ویں وزارتی کانفرنس کے دوران بھرپور اور مصروف سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے عالمی تجارتی نظام، زرعی مذاکرات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔
ایم پی آئی اے سیشن کی مشترکہ میزبانی
وزیر مملکت نے اپنے دن کا آغاز یورپی یونین، سنگاپور اور کولمبیا کے وزرائے تجارت کے ہمراہ کثیر فریقی عبوری انتظام برائے ثالثی (MPIA) کے سیشن کی مشترکہ میزبانی سے کیا۔ یہ پلیٹ فارم عالمی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل اپیلیٹ میکانزم کے طور پر کام کر رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب روایتی تنازعاتی نظام کو چیلنجز درپیش ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے اس موقع پر نئے اراکین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ MPIA کی بڑھتی ہوئی رکنیت اس بات کی عکاس ہے کہ دنیا کو ایک مستحکم، شفاف اور مکمل طور پر فعال تنازعات کے حل کے نظام کی اشد ضرورت ہے، جو قواعد پر مبنی عالمی تجارتی نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
زرعی مذاکرات میں کلیدی کردار
کانفرنس کے دوران وزیر کیانی کا زیادہ تر وقت زرعی مذاکرات میں بطور سہولت کار گزرا، جہاں انہوں نے زراعت، تجارت اور عالمی غذائی تحفظ سے متعلق وزارتی اعلامیہ کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے زرعی شعبے میں نمایاں حیثیت رکھنے والے رکن ممالک کے ساتھ متعدد چھوٹے گروپ اجلاسوں اور دوطرفہ ملاقاتوں کا انعقاد کیا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ نکات (Landing Zones) کی نشاندہی اور مجوزہ متن پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ پیش کردہ متن میں تمام اراکین کی ترجیحات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور شرکاء سے اپیل کی کہ وہ لچک اور باہمی اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر MC14 میں زرعی شعبے میں پیش رفت حاصل ہوتی ہے تو اس سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ساکھ اور مؤثر نتائج دینے کی صلاحیت پر عالمی اعتماد بحال ہوگا۔
توسیعی اجلاس اور عالمی مکالمہ
شام کے وقت وزیر کیانی نے زرعی موضوع پر ایک توسیعی اجلاس کی صدارت کی، جس میں 76 رکن ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتی اعلامیے کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زرعی مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے نئے طریقہ کار اور لچکدار تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اگرچہ مکمل اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکا، تاہم اکثریتی ممالک نے مسودہ متن کی حمایت کی اور اسے ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دیا۔ مختلف ممالک کے درمیان خوراک کی سلامتی، کسانوں کی روزی روٹی، ماحولیاتی پائیداری، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ترقیاتی ترجیحات جیسے معاملات پر مختلف آراء سامنے آئیں۔
دوطرفہ تعلقات کا فروغ
زرعی مذاکرات کے علاوہ وزیر مملکت نے ایک اعلیٰ سطحی جرمن وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے موجودہ چیلنجز کا جائزہ لیا اور تجارت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔
سفارتی معاونت
اس موقع پر علی سرفراز حسین، جو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں پاکستان کے مستقل نمائندہ (PR) ہیں، نے وزیر کیانی کی ملاقاتوں اور مذاکرات میں معاونت فراہم کی۔
نتیجہ
ڈبلیو ٹی او کی 14ویں وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی فعال شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ ملک عالمی تجارتی نظام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی سفارتی سرگرمیوں، خصوصاً زرعی مذاکرات میں قیادت، نہ صرف پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تجارتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔




