پاکستاناہم خبریں

چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘

یہ بات چیت چین کے شمال مغربی شہر ارومچی میں جاری ہے۔ یہ مقام اس لحاظ سے اہم ہے کہ چین جغرافیائی طور پر دونوں ممالک کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے اور علاقائی استحکام میں اس کا براہ راست مفاد بھی وابستہ ہے۔

By www.vogurdunews.de
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات “مستقل مزاجی” کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، جو خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ چین دونوں پڑوسی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور وہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان دونوں بیجنگ کی ثالثی کی کوششوں کو اہمیت دے رہے ہیں اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادہ ہیں، جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
اگرچہ چینی ترجمان نے مذاکرات کے مقام کی واضح طور پر نشاندہی نہیں کی، تاہم اس سے ایک روز قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی تھی کہ یہ بات چیت چین کے شمال مغربی شہر ارومچی میں جاری ہے۔ یہ مقام اس لحاظ سے اہم ہے کہ چین جغرافیائی طور پر دونوں ممالک کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے اور علاقائی استحکام میں اس کا براہ راست مفاد بھی وابستہ ہے۔
حالیہ مہینوں میں چین ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مارچ کے دوران چینی حکام نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے اور ایک خصوصی ایلچی کے ذریعے مفاہمت کا پیغام بھی پہنچایا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بیجنگ کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیا جائے اور سرحدی کشیدگی کو کم کیا جائے۔
یاد رہے کہ 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی خدشات، سرحدی تنازعات اور باہمی الزامات نے تعلقات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر سے دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، اور اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں افغان شہریوں کا جانی نقصان زیادہ رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی بلکہ خطے کے مجموعی امن کے لیے بھی خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر ان عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ دوسری جانب کابل حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مذاکرات کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ترجمان ماؤ ننگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں اس عمل کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آئے گی اور ممکنہ طور پر اعتماد سازی کے مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر چین کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی سیکیورٹی چیلنجز اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button