پاکستاناہم خبریں

پاکستان نے یو اے ای کے مالیاتی ڈیپازٹس سے متعلق گمراہ کن خبروں کی تردید کر دی

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اب ان ڈیپازٹس کی واپسی کا عمل جاری ہے، جو کہ پہلے سے طے شدہ شرائط کے مطابق ہو رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے مالیاتی ڈیپازٹس سے متعلق حالیہ خبروں اور تبصروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’گمراہ کن‘‘ اور ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔
ہفتہ کے روز جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی کہ یہ ڈیپازٹس دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مالیاتی اور تجارتی انتظامات کے تحت رکھے گئے تھے، اور ان کا مقصد پاکستان کے معاشی استحکام کو سہارا دینا تھا۔ بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کی معیشت کے لیے مسلسل حمایت اور اعتماد کا اظہار ہے۔
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اب ان ڈیپازٹس کی واپسی کا عمل جاری ہے، جو کہ پہلے سے طے شدہ شرائط کے مطابق ہو رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان اسٹیٹ بینک کے ذریعے میچور ہونے والی رقم یو اے ای کو واپس کر رہی ہے، اور یہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے جسے کسی بحران یا دباؤ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ایسے معاملات کو غلط انداز میں پیش کرنے سے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے بارے میں غلط فہمیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ روابط قائم ہیں، جو باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ یہ تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی عوام متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان مرحوم کے پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات اور خصوصی محبت کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
حکام کے مطابق یو اے ای کی جانب سے مالی تعاون اور سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے اہم رہی ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط انسانی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور ایک مشترکہ خوش حال مستقبل کے لیے تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ڈیپازٹس کی واپسی ایک معمول کا مالیاتی عمل ہے اور اسے کسی قسم کے مالیاتی بحران یا سفارتی کشیدگی سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button