پاکستاناہم خبریں

ایران کا پاکستان کی ثالثی کوششوں پر اظہارِ تشکر، مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے سے کبھی انکار نہیں کیا: عباس عراقچی

"ہمیں جس چیز کی پرواہ ہے وہ اس جنگ کے حتمی اور مستقل خاتمے کی شرائط ہیں، اور اس حوالے سے ہمارے مؤقف کو مسخ کیا جا رہا ہے۔"

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کا ’’تہہ دل سے شکر گزار‘‘ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح اس ’’مسلط کردہ غیر قانونی جنگ‘‘ کا مکمل اور دیرپا خاتمہ ہے۔

انہوں نے کہا:
"ہمیں جس چیز کی پرواہ ہے وہ اس جنگ کے حتمی اور مستقل خاتمے کی شرائط ہیں، اور اس حوالے سے ہمارے مؤقف کو مسخ کیا جا رہا ہے۔”

سفارتی کوششیں اور تعطل کا شکار مذاکرات

عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں دو مواقع پر تعطل کا شکار ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لیے کی جانے والی پیش رفت آخری لمحات میں ملتوی کر دی گئی، جس کی وجہ دونوں جانب اندرونی مشاورت بتائی جا رہی ہے۔

پاکستان اس دوران ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے اور اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اسحاق ڈار کا ردعمل

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ’’پیارے برادر‘‘ کے وضاحتی بیان کو سراہتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

غلط معلومات کی تردید

سکیورٹی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کا بیان ایک ایسی مبینہ غلط معلوماتی مہم کا جواب ہے جو بعض مغربی اور بھارتی میڈیا اداروں کی جانب سے چلائی جا رہی تھی۔ ان رپورٹس میں ایران کی سفارتی عمل میں شمولیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع نے کہا کہ اس وضاحت سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران سفارتی عمل سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ وہ ایک باوقار اور پائیدار حل کا خواہاں ہے۔

دفتر خارجہ کی وضاحت

اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی میڈیا میں گردش کرنے والی بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد سرکاری ذرائع سے منسوب بیانات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور اس میں ان حساس معاملات پر کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔ ترجمان نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کرے۔

بیک چینل سفارتکاری اور خفیہ رابطے

ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل سفارتکاری کے ذریعے رابطے بحال رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک ممکنہ اعلیٰ سطحی امریکی وفد، جس کی قیادت جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، کی اسلام آباد آمد کی تیاری بھی کی گئی تھی۔

تاہم، متعدد بار شیڈول کیے جانے کے باوجود یہ ملاقاتیں آخری لمحات میں ملتوی ہوتی رہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کی اندرونی مشاورت اور خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا:
"کوششیں جاری ہیں، اور سفارتی آپشنز ابھی بھی زیر غور ہیں۔ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور تمام فریق محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔”

علاقائی سفارتی سرگرمیاں

پاکستان نے حالیہ دنوں میں خطے میں امن کے قیام کے لیے دیگر اہم ممالک کے ساتھ بھی مشاورت کی ہے۔ اس سلسلے میں ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں جاری کشیدگی اور اس کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور سمندری تجارت کی بحالی پر غور کیا گیا، کیونکہ اس راستے کی بندش عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

نتیجہ

ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران سفارتی حل کا خواہاں ہے اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایک غیر جانبدار اور فعال سفارتی کردار خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دے رہا ہے۔

تاہم، امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور بار بار تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں امن کا قیام ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

مبصرین کے مطابق، اگر پاکستان کی ثالثی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button