
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاک فوج اور مصری افواج کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشتگردی مشق "تھنڈر-ٹو” کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو مزید نکھارنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ دو ہفتوں پر محیط اہم عسکری مشق 6 اپریل 2026 کو سپیشل آپریشنز سکول چیراٹ میں شروع ہوئی۔ اس مشق میں پاک فوج کے ایلیٹ دستے سپیشل سروسز گروپ اور مصری فوج کی اسپیشل فورسز بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔
افتتاحی تقریب میں سپیشل آپریشنز سکول چیراٹ کے کمانڈنٹ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو سراہتے ہوئے اس مشق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی مشترکہ مشقیں نہ صرف باہمی اعتماد کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق "تھنڈر-ٹو” مشق کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں دونوں افواج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، جدید حربی تکنیکوں کا تبادلہ کرنا اور حقیقی جنگی حالات سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ مشق کے دوران شہری اور پہاڑی علاقوں میں کارروائیوں، یرغمالیوں کی بازیابی، اور دہشتگردوں کے خلاف موثر آپریشنز کی مشقیں کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق اس مشق میں شریک دستے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور حکمت عملیوں کا عملی مظاہرہ بھی کریں گے، جس سے دونوں افواج کی آپریشنل تیاری میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور مصر کے درمیان بڑھتا ہوا عسکری تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ "تھنڈر-ٹو” جیسی مشترکہ مشقیں نہ صرف دہشتگردی کے خلاف عالمی کوششوں کو تقویت دیتی ہیں بلکہ دوست ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات کو بھی نئی جہت دیتی ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان پہلے بھی مختلف دوست ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کرتا رہا ہے، جن کا مقصد پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور عالمی سطح پر سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ "تھنڈر-ٹو” اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔





