سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “کلچر آف پیس” کے ایجنڈا آئٹم کے تحت “بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ، امن، مفاہمت اور تعاون” سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران پاکستان نے بھارتی مندوب کے بیانات کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے جنرل اسمبلی میں اپنے جوابِ حق میں کہا کہ بھارت نے ایک متفقہ اور مثبت عالمی پیغام کو سیاسی رنگ دے کر نہ صرف قرارداد کی روح کو متاثر کرنے کی کوشش کی بلکہ ایک بار پھر جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے حوالے سے عالمی اتفاق رائے کو متنازع بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔
“بھارت کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں”
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور حقائق سے عاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دراصل اپنی داخلی ناکامیوں اور خطے میں حالیہ سفارتی و عسکری دباؤ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ بھارت کی حالیہ بیان بازی مئی میں پیش آنے والی “شرمناک اور ذلت آمیز فوجی شکست” کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جس کے بعد بھارتی قیادت مسلسل اشتعال انگیز مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
کرتارپور راہداری کو پاکستان کی مذہبی رواداری کی مثال قرار
پاکستان نے جنرل اسمبلی میں اپنے مؤقف کے دوران گرودوارہ دربار صاحب کرتارپور اور کرتارپور راہداری کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے احترام کی واضح مثال ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ کرتارپور راہداری کے قیام کے بعد دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری مکمل آزادی، تحفظ اور احترام کے ساتھ اپنے مقدس مقام کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی سکھ برادری کی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2024 میں اس راہداری سے متعلق معاہدے کی مزید پانچ سال کے لیے توسیع کرکے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تعریف کا حوالہ
پاکستان نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کرتارپور راہداری کو “امید کی راہداری” قرار دیا تھا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ عالمی برادری، بالخصوص سکھ کمیونٹی نے اس اقدام کو سراہا اور اسے مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کی عملی مثال قرار دیا۔
بھارت پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا الزام
پاکستان نے اپنے جواب میں بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں مذہبی عدم برداشت اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی بدترین مثال بھارت میں دیکھی جا سکتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت مختلف مذہبی اقلیتوں کو نفرت انگیز جرائم، عبادت گاہوں کی بے حرمتی، ہجوم کے تشدد، امتیازی قوانین اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے بہت سے واقعات صرف انتہا پسند گروہوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان نے کہا کہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتیں بھی عدم تحفظ اور امتیازی رویوں کا شکار ہیں۔
عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت، تشدد اور امتیازی پالیسیوں کی سرپرستی بند کرے اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ اس کی عملی کارکردگی کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، نہ کہ بین الاقوامی فورمز پر دیے جانے والے بیانات کی بنیاد پر۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت اور حکام عالمی میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی صورتحال پر ہونے والی تنقید سے مسلسل بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی، مکالمے اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور مشترکہ انسانی اقدار کی ضرورت ہے، اور اقوام متحدہ کو ایسے پلیٹ فارمز کو سیاسی تنازعات سے دور رکھتے ہوئے اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔



