
مصنف: کرسٹوف اشٹرک
شہر کے محکمہ انٹیگریشن اور ڈائیورسٹی کی سربراہ سلویا کلین کے مطابق ایرلانگن مختلف ثقافتوں، زبانوں اور مذاہب کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔
ایرلانگن کی یونیورسٹی میں اس وقت بھارت سے آنے والے دو ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہندو طلبہ کی تنظیم ‘ہندو ٹیمپل فرینکن‘ کا کہنا ہے کہ بھارتی کمیونٹی اس شہر میں غیر جرمن آبادی کا سب سے بڑا گروہ بن چکی ہے۔
یہ تنظیم عطیات، اپنے ذاتی مالی وسائل اور ایک قرض کی مدد سے زمین خریدنے میں کامیاب ہوئی ہے، اور توقع ہے کہ اس مندر کی تعمیر کا کام زیادہ سے زیادہ 2027 تک شروع ہو جائے گا۔

مذہبی تنوع کی مثال
ایرلانگن شہر اس بات کی واضح مثال ہے کہ جرمنی میں مذہبی تنوع اب شہری منظرنامے میں نمایاں طور پر نظر آنے لگا ہے۔ روایتی گرجا گھر اب بھی موجود ہیں، جن میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عبادت گاہیں شامل ہیں، جبکہ ایک یونانی آرتھوڈوکس اور ایک روسی آرتھوڈوکس چرچ بھی موجود ہے۔
تین سال قبل شہر کے بروک ضلع میں واقع ایک سابق کیتھولک چرچ کو ایک قبطی چرچ نے لے لیا اور اب اسے قبطی آرتھوڈوکس چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
قبطی چرچ کے ایک اہلکار رگائی ایڈورڈ ماٹا نے بتایا، ”ماضی میں ہمارے پاس 18 خاندان تھے جن کے کل ارکان تقریباً50 یا 60 تھے۔ آج یہ تعداد تقریباً 60 خاندانوں اور لگ بھگ 200 افراد تک پہنچ چکی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس عبادت گاہ سے تقریباً 40 طلبہ بھی وابستہ ہیں۔
اس کے برعکس جرمنی کے بڑے مسیحی گرجا گھروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ چند سال پہلے تک جرمنی کی نصف سے زیادہ آبادی خود کو عیسائی قرار دیتی تھی، لیکن آج تقریباً 36.6 ملین افراد کیتھولک یا پروٹسٹنٹ چرچ سے وابستہ ہیں، جو ملک کی 83.5 ملین آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے رجحان کے مطابق کیتھولک اور پروٹسٹنٹ گرجا گھروں کو بند کیا جا رہا ہے، ان کا استعمال تبدیل کیا جا رہا ہے یا انہیں محدود کر دیا گیا ہے۔
جرمنی کے وفاقی دفتر برائے پناہ گزین اور تارکین وطن کے مطابق 2020 تک ملک میں 5.3 ملین سے زائد مسلمان رہ رہے تھے۔ جب کہ ایونجیلیکل چرچ کے 2024 کے ایک سروے کے مطابق جرمنی میں تقریباً 3.8 ملین آرتھوڈوکس عیسائی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ جرمنی میں یہودی، بدھ مت کے پیروکار، بہائی، اور ہندو بھی رہتے ہیں۔ تاہم ان تمام گروہوں کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار زیادہ تر تخمینوں پر مبنی ہیں۔

جرمن شہروں میں نئی عبادت گاہیں
ایک بات واضح ہے کہ جرمنی کے شہروں میں مذہبی منظرنامہ تیزی سے زیادہ متنوع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی نئی عبادت گاہوں کی تعمیر میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، تاہم ایسے مقامات کی درست تعداد کا تعین کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
2024 کے موسمِ گرما میں بدھ مت کی راہبات نےبرلن کے علاقے برلن-مِٹے میں ایک نیا مندر کھولا۔ اس وقت پورے جرمنی میں تقریباً 20 بدھ مت خانقاہیں موجود ہیں۔
جون 2026 میں جرمنی کا سب سے بڑا ہندو مندر بھی برلن میں کھولے جانے کی توقع ہے۔ اس کی منصوبہ بندی نجی افراد نے 2004 میں شروع کی تھی اور تقریباً 2010 میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
اس منصوبے کے مرکزی محرک ولواناتھن کرشنامورتی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم ایک بڑھتی ہوئی کمیونٹی ہیں۔‘‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان برلن میں بھارتی شہریت رکھنے والے افراد کی تعداد دس گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی اور یہ 41 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
جرمنی میں ہندو مندروں کی تعمیر اب زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے۔ کرشنامورتی کے مطابق بھارت میں رہنے والے بہت سے والدین کے لیے مندر کی موجودگی اطمینان کا باعث بنتی ہے اور انہیں اپنے بچوں کے وطن سے دور رہنے کے حوالے سے کچھ سکون ملتا ہے۔
ترک اسلامی یونین برائے مذہبی امور کے مطابق اس تنظیم کے تحت جرمنی میں 862 مساجد کی جماعتیں کام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیم ترکی کے طاقتور ادارے’پریزیڈینسی آف ریلیجیئس افیئرز‘ کے ماتحت ہے، جو براہِ راست ترکی کے صدر کے زیرِ نگرانی کام کرتا ہے۔
تاہم جرمنی میں بعض نئے تعمیراتی منصوبے رکے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر کریفلیڈ میں زیر تعمیر مسجد، جسے کبھی ملک کی تیسری سب سے بڑی مسجد قرار دیا گیا تھا، کئی سالوں سے نامکمل پڑی ہوئی ہے۔
پاکستان میں مبینہ طور پر بعض اوقات مظالم کا سامنا کرنے والی احمدیہ برداری بھی جرمنی میں ہر سال کئی نئی مساجد تعمیر کر رہی ہے۔ حال ہی میں فروری کے وسط میں ایرفرٹ میں ایک نئی مسجد کھولی گئی۔ اس کمیونٹی کے ترجمان سلیمان ملک کے مطابق گزشتہ دسمبر میں بھی ایک عمارت کھولی گئی، جب کہ شمالی جرمن شہر ہوسوم میں بھی تعمیراتی کام جاری ہے۔
ہر نیا منصوبہ نئی عمارت کی صورت میں نہیں ہوتا، بعض اوقات مذہبی کمیونٹیز ایسے مقامات بھی حاصل کر لیتی ہیں جو پہلے چرچ یا دیگر مذہبی اداروں کی ملکیت میں ہوتے تھے۔
نئی مساجد میں ایرلانگن کی ‘مسجد امن‘ بھی شامل ہے، جو اپنی توسیع کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ یہاں آنے والے افراد مختلف مسلم ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور خطبات جرمن زبان میں دیے جاتے ہیں
یہودی برادری کی جانب سے بھی نئے تعمیراتی منصوبے سامنے آ رہے ہیں۔ 2023 میں میگڈے برگ اور 2024 میں پوسڈام میں نئے کنیساؤں کے افتتاح کے بعد اب جرمنی کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں یہودی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مزید منصوبے بھی جاری ہیں۔
جرمنی میں شامی، یونانی، روسی، رومانیائی اور سربیائی آرتھوڈوکس کمیونٹیز بھی خالی پڑے چرچوں کو سنبھال رہی ہیں۔


