
بنوں میں نادرا آفس پر دہشتگرد حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کی مذمت
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
By www.vogurdunews.de
بنوں: صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشتگردوں نے نادرا کے دفتر پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے نادرا آفس کے باہر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل رفیع اللہ اور کانسٹیبل گل شاہ نور موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حملے کے بعد صورتحال اور پولیس کارروائی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
شہید اہلکاروں کی میتوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔
وزیراعظم کا اظہارِ افسوس اور عزم
وزیراعظم پاکستان نے واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے اور دشمن عناصر کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ کی مذمت
محسن نقوی، وفاقی وزیر داخلہ، نے بنوں میں نادرا آفس کے باہر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانسٹیبل رفیع اللہ اور گل شاہ نور نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
وزیر داخلہ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سکیورٹی صورتحال اور خدشات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیش نظر حساس تنصیبات اور سرکاری دفاتر کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے حملے ریاستی اداروں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں اور عوامی تعاون سے ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اہلکار مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اور قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔



