بین الاقوامیاہم خبریںتازہ ترین

ایران امریکہ کے ساتھ ’کھیل‘ نہ کھیلے، جے ڈی وینس کی وارننگ

ے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اسے امید ہے کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی

By www.vogurdunews.de
جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’’کھیل‘‘ نہ کھیلے، بصورت دیگر نتائج اس کے لیے سازگار نہیں ہوں گے۔ یہ بیان انہوں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد روانگی کے دوران دیا، جہاں وہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر، جو ماضی میں بیرون ملک جنگوں اور فوجی مداخلتوں کے ناقد رہے ہیں، اس وقت ایک اہم سفارتی مشن پر ہیں جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنا اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ تنازع تقریباً چھ ہفتے قبل شروع ہوا تھا جس کے بعد خطے میں عدم استحکام بڑھ گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی جے ڈی وینس کو اس حساس معاملے کی ذمہ داری سونپی ہے، کیونکہ وہ ایران کے حوالے سے نسبتاً محتاط اور سفارتی حل کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وینس اب اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں امریکی مؤقف پیش کریں گے، جہاں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد روانگی کے دوران ایئر فورس ٹو پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اسے امید ہے کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا، “ہم مذاکرات کے منتظر ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ مثبت ہوں گے، تاہم دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
انہوں نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوتا ہے تو امریکہ بھی کھلے دل کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات کے عمل میں کسی قسم کی چالاکی یا دھوکہ دہی کی کوشش کی تو امریکی ٹیم اس پر سخت ردعمل دے گی اور کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔
جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے واضح رہنما اصول فراہم کیے ہیں، تاہم انہوں نے ان اصولوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے ہمراہ موجود صحافیوں کے مزید سوالات کا جواب دینے سے بھی معذرت کی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ جے ڈی وینس ماضی میں امریکہ کی بیرون ملک جنگوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دینے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت میں ہونے والے یہ مذاکرات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ یہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ خطے میں وسیع تر امن و استحکام کے لیے بھی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں پاکستان ایک بار پھر ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا دارومدار دونوں فریقین کی سنجیدگی، لچک اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button