
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات نے جہاں عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، وہیں ان مذاکرات کے گرد غیر معمولی رازداری نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین اور مبصرین اس صورتحال کو پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک منفرد پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ان مذاکرات کا غلغلہ دراصل اس وقت شروع ہوا تھا جب پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم اس بار جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ معلومات کا محدود اور کنٹرول شدہ اجرا ہے۔
عام طور پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب بھی کسی اہم بین الاقوامی وفد کی آمد ہوتی ہے تو سرکاری میڈیا فوری طور پر اس کی کوریج کرتا ہے، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی جاتی ہیں اور تفصیلات بھی جلد سامنے آ جاتی ہیں۔ مگر اس بار صورتحال اس کے برعکس نظر آئی۔
ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد کافی دیر تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع جاری نہیں کی گئی۔ بعد ازاں سرکاری ٹی وی نے محدود فوٹیج اور خبر نشر کی۔
اسی طرح امریکی وفد، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، کی آمد کی خبر بھی فوری طور پر منظر عام پر نہیں لائی گئی بلکہ کچھ تاخیر کے بعد اس کی تصدیق کی گئی۔
مزید برآں، ان مذاکرات کے حوالے سے ایک اور غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ تاحال مذاکرات کے مقام اور طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا دونوں فریقین براہ راست آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے یا پھر ثالثی کے ذریعے الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر پیغامات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
دنیا بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کے لیے اگرچہ جناح کنونشن سنٹر کو ایک جدید میڈیا سینٹر میں تبدیل کیا گیا ہے، تاہم وہاں موجود غیر ملکی میڈیا نمائندگان کی جانب سے بھی محدود معلومات ہی فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ معلومات کے بہاؤ کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں ہونے والے کسی بھی بڑے بین الاقوامی ایونٹ کے دوران نہ صرف مقام بلکہ ایجنڈا اور شیڈول بھی پہلے سے واضح کر دیا جاتا تھا، مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اس غیر معمولی رازداری نے نہ صرف میڈیا بلکہ عوامی حلقوں میں بھی تجسس پیدا کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ممکنہ طور پر سخت سکیورٹی پروٹوکولز اور حساس نوعیت کے معاملات کو خفیہ رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ چونکہ یہ مذاکرات نہایت اہم اور نازک نوعیت کے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی معلومات کا قبل از وقت افشا ہونا مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اس بار ایک نہایت محتاط اور کنٹرولڈ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے تحت ہر پہلو کو پس پردہ رکھتے ہوئے آگے بڑھا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل ملک میں ایک نئی روایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اہم بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔



