کالمزناصف اعوان

اندھیرا چھٹ رہا ہے روشنی پھیل رہی ہے….ناصف اعوان

عجیب حال ہے ہمارے کرتا دھرتاؤں کا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اذیت دے رہے ہیں ہر ماہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیتے ہیں ۔ تیل کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جاتا ہے

اس وقت بجلی کی پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں لہذا لوڈ شیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے ۔شارٹ فال پانچ ہزار میگا واٹ تک جا پہنچا ہے۔ جس سے قومی معیشت سخت متاثر ہو رہی ہے نجی سطح پر بھی کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔بجلی کی کمی بارے کہا جا رہا ہے کہ جنگ کی وجہ سے تیل کی ترسیل بہت کم ہو رہی ہے لہذا اس سے جو بجلی گھر چل رہے تھے وہ بند ہو گئے ہیں۔ توانائی کے وزیر اویس لغاری کا کہنا ہے کہ جنگ بند ہونے کے بعد اگر لوڈ شیڈنگ ہوئی تو اُس کے زمہ دار وہ ہوں گے“۔
جہاں تک ہماری معلومات ہیں ان کے مطابق ایران نے پاکستان کا تیل نہیں روکا جتنے جہاز آئے وہ منزل پر پہنچ گئے مگر جب امریکا نے گھیرا ڈالا تب شاید دو تین جہاز رکے۔ اسی لئے بجلی گھر بند ہو گئے یا وہ بجلی کم بنانے لگے سوال یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں کبھی بھی بجلی کا تسلسل جاری نہیں رہتا بیس پچیس برس سے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ۔یہ گھنٹہ والی لوڈ شیڈنگ بھی اکثر ہوتی رہی ہے ۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ جنگ بند ہونے پر یہ ختم ہوتی ہے یا نہیں ختم ہو بھی جاتی ہے تو ہو سکتا ہے غریب لوگ خود بھی لوڈ شیڈنگ کرنے لگیں کیونکہ بجلی کو اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ اب محنت مزدوری کرنے والے لوگ ایک پنکھا چلاتے وقت بھی سوچیں گے ۔ عجیب حال ہے ہمارے کرتا دھرتاؤں کا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اذیت دے رہے ہیں ہر ماہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیتے ہیں ۔ تیل کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جاتا ہے ۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوتی ہے مگر یہاں بڑھا دی جاتی ہے جب حکومت سے پوچھا جائے تو وہ کہتی ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف نے حکم دیا ہے اگر ہم اس کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے تو وہ قرضہ دینا بند کر دے گا جس سے معیشت کمزور ہو جائے گی عام آدمی کی زندگی ابتر ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے ہاتھ کچھ نہیں جو بھی ہو رہا ہے اس کا زمہ دار آئی ایم ایف ہے ۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آئی ایم ایف نے ہی ہماری معیشت چلانی ہے تو وزیر مشیر کس لئے ہیں کہ جو اپنی مرضی سے کوئی بھی عوامی فلاح کا کام نہیں کر سکتے ۔ عوام نے تو آئی ایم ایف کو نہیں کچھ کہنا انہیں تو اپنے نمائندوں سے پوچھنا ہے کہ جناب انتخابات کے وقت تو انہوں نے کہا تھا کہ بجلی تین سو یونٹس تک مفت ہو گی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی تو پھر یہ سب اس کے اُلٹ کیوں ہے۔
بہرحال لگ یہ رہا ہے کہ ہماری حکومتیں عوام کو سچ بتانے سے قاصر ہیں ان پر ہمیشہ کوئی جانا انجانا دباؤ ہوتا ہے کیونکہ وہ اقتدار میں کسی کی آشیر باد سے آتی ہیں لہذا انہیں عوام کی کیا فکر ہو گی اور ان کو کیا سہولتیں دے سکیں گی مگر ہو سکتا ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل قریب میں روایتی سیاست معاشرت اور معیشت کا انداز بدل جائے گا کیونکہ ایران امریکا جنگ سے وہ تصور یا حقیقت کہ امریکا سپر پاور ہے اور اس کے سامنے کوئی بھی ملک کھڑا نہیں ہو سکتا دھندلا چکا ہےاب امریکا کے بجائے چین نے اس کی جگہ لے لی ہے کیونکہ ایران نے اسے للکارا ہے اس کے جو اڈے خلیجی ریاستوں میں تھے ان کو تباہ کر دیا ہے اس کے بغل بچے کو بھی دن میں تارے دکھائے ہیں اس کے باوجود امریکا خود کو بڑی طاقت سمجھ رہا ہے تو حیرانی ہوتی ہے ۔چین نے اس پر واضح کر دیا ہے کہ اب وہ سپر پاور نہیں رہا اگر وہ سپر پاور ہوتا تو آبنائے ہرمز میں سے گزرنے والے اس کے تیل بردار جہاز نہ گزرنے دیتا لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان بہت جلد عالمی مالیاتی اداروں اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے چُنگل سے آزاد ہو جائے گا ۔ اٹھہتر برس میں اس سے کیا حاصل ہوا ہےِ؟
کچھ بھی نہیں بلکہ نقصان ہی اٹھایا ہے یہ کیسی بات ہے کہ وہ ہمیں ڈکٹیٹ کرے کہ فلاں ملک سے تعلق رکھنا ہے اور فلاں سے نہیں اس سے تجارت کرنی ہے یا نہیں اندازہ کیجئیے کہ ہمیں یہ اجازت نہیں تھی کہ ایران سے تیل گیس لے سکیں ستم مزید یہ کہ ہم اپنے ملک میں موجود بے بہا تیل گیس نہیں نکال سکے ۔ ہمیں تو خود کفیل ہونے نہیں دیا گیا صنعتوں کے قیام کی اس کے ذیلی اداروں نے کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ بس ہم قرضے لیتے رہیں تیار مال خریدتے رہیں اور ان کے دست نگر رہیں ۔ اِس نے ایران پرجو حملہ کیا جس میں اسرائیل بھی شامل تھا اس کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ سپر پاور ہے لہذا سب اس کے غلام ہیں مگر صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکا کو یورپ اور دیگر ممالک سب چھوڑ چکے ہیں کیونکہ انہوں ںے دیکھ لیا کہ اسے صرف اپنے مفادات عزیز ہیں دوسروں کے نہیں لہذا وہ کیوں اس کی ہاں میں ہاں ملائیں انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ اس کا بغل بچہ اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر امریکا نے اسے نہیں روکا اب وہ بری طرح سے الجھ گیا ہے ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جو امن کا پرچم لے کر اٹھے ہیں اس کے تحت وہ ایران امریکا مزاکرات کے ذریعے جنگ بندی کا معاہدہ کروانے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ان کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی ہیں ۔اگرچہ پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے مگر دوسرے راؤنڈ میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے لہذا جب یہ امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پھر ہم پر امریکا کا حکم بھی نہیں چل سکتا ایران سے تیل خریدیں روس سے خریدیں یا کسی اور ملک سے ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جو آج تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اس کی وجہ سے بجلی گھر پیداوار کم یا بالکل نہیں دے رہے چالو ہو جائیں گے لہذا لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی مگر اب آئی ایم ایف کے قرضے بھی تھوڑے بہت معاف کروائے جا سکتے ہیں اسے صاف بتا دیا جائے کہ اب ہم اور اس کی ڈکٹیشن نہیں لے سکتے نہ ہی اس کے بھاری قرضے ادا کر سکتے ہیں کیونکہ عوام کی حالت انتہائی خراب بلکہ تشویش ناک ہے وہ ایسا کر وا سکتے ہیں کیونکہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو چکا ہے امریکا کو ماننا پڑے گا نہیں بھی مانتا تو جلد مان جائے گا۔
حرف آخر یہ کہ عوام کو وزیر توانائی کی بات پر یقین کرنا ہو گا کیونکہ وہ بدلتی صورت حال کے پیشِ نظر کہہ رہے ہیں کہ اگر جنگ کے بعد بھی لوڈ شیڈنگ جاری رہتی ہے تو اس کے زمہ دار وہ ہوں کہ گے انہیں یقین ہے کہ اب پاکستان تجارت کے قریب تر پہنچ گیا ہے اور اسے کوئی ڈکٹیٹ بھی نہیں کر سکے گا ہر شرط ماننا اور اس پر عمل کرنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ اندھیرا چھٹ رہا ہے روشنی پھیل رہی ہے!

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button