کالمزناصف اعوان

امریکا بڑے پن کا مظاہرہ کرے اور حقائق کو تسلیم کر لے !………ناصف اعوان

بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا اسرائیل اور امریکا کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی خود مختار آزاد ریاست کو ڈکٹیٹ کرے اس سے پوچھا جا سکتا ہے

امریکا اور اسرائیل کے مطابق ترقی پزیر اور کمزور ملکوں کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ غیر زمہ داری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں یعنی وہ ان کی سینہ زوری کے آگے کھڑا ہونے کے قابل ہو سکتے ہیں جو انہیں منظور نہیں کیونکہ وہ خود کو ہی زمہ دار سمجھتے ہیں لہذا انہیں ہی جدید ٹیکنالوجی اور جوہری اسلحہ رکھنے کا حق ہے تاکہ وہ کمزور ملکوں کو ڈرا دھمکا کر ان پر حکمرانی اور ان کے کے وسائل پر قبضہ کر سکیں؟
اب تک کی تاریخ سے یہی ثابت کہ اسرائیل نے غزہ اور عربوں کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا ہے اور مستقبل میں وہ گریٹر اسرائیل کے خواب کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے ۔اُدھر امریکا ہر غریب ملک کو اپنی ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کی بدولت اپنے مطابق چلانا چاہتا ہے۔
ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ہمیں واضح طور سے نظر آئے گا کہ ہر کمزور ملک پر امریکا نے غضب ڈھایا۔ دور کیوں جائیں عراق شام لیبیا اور افغانستان کو دیکھ لیں انہیں ادھیڑ کر رکھ دیا گیا۔ سوائے افغانستان کے وہ سب بڑے خوشحال تھے تعلیم اور صحت کی سہولتیں عوام کو قریباً مفت حاصل تھیں مگر اسے یہ پسند نہیں تھا۔ امریکا کسی بھی ملک کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا جو بھی آگے بڑھا چھپ چھپا کر ہی بڑھا وہ تو قرضوں پر انحصار کرنے والی معیشت کی ترغیب دیتا رہا ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی رہا ہے۔ اس وقت ہم اس کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف کے مقروض ہیں یہ سوچ کر کہ بھاری قرضے کیسے ادا ہوں گے دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ پیداواری ذرائع تو ہیں نہیں کہ جن سے کوئی آمدن ہو ۔
بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا اسرائیل اور امریکا کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی خود مختار آزاد ریاست کو ڈکٹیٹ کرے اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل بھی تو جوہری طاقت ہے اور اس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں پہلے اس کے سارے پروگراموں کو ختم کیا جائے پھر اس کی توسیع پسندانہ سوچ کو تبدیل کیا جائے تو کوئی بھی ملک اس پر حملہ آور نہیں ہو گا مگر یہ کام ٹرمپ نہیں کریں گے نہ ہی ان کے اتحادی کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی و محافظ ہیں کہ جس نے انسانوں کو الم و مصائب میں مبتلا کر رکھا ہے چند لوگ چند خاندان اپنی دولت میں اصافہ کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک دولت انہیں حکمرانی کے اہل بنا دیتی ہے ۔امریکا ایسے ترقی یافتہ اور ”مہذب“ ملک کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ عالمی سطح پر انسانی زندگی کو خوشگوار اور پُر آسائش بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا مگر اس نے اپنے جنگی جنون سے انسانی حیات کو پریشان کر دیا ہے اس کا یہ جنگی جنون اس کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اکیس روز کی جنگ میں اس نے دیکھ لیا ہے کہ ایران جھکا نہیں بلاشبہ اس کا بہت جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے مگر اس نے ڈٹ کر کھڑا ہونے کو ترجیح دی اور یہ دکھا دیا کہ امریکا اور اسرائیل جن کے پاس ایٹم بم اور انتہائی جدید ترین اسلحہ ہے اسے زیر نہیں کر سکے ۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ اتنے دنوں کے بعد ایران جھک جائے گا مگر وہ اپنی جگہ موجود رہا ۔ ایران نے جارحیت کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا ہے اس نے کسی بھی مقام پر بزدلی نہیں دکھائی اور اسرائیلی یلغار کو روکا ‘صرف روکا ہی نہیں اس کا بھر پورجواب بھی دیا جس سے اسرائیل کے عوام حیران رہ گئے وہ تو اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے حفاظتی اقدامات ان پر ایک چنگاری بھی نہیں پڑنے دیں گے مگر ان کے سارے اندازے غلط نکلے ان کی سرکاری عمارتیں منہدم ہو گئیں اور تہہ خانوں میں کہرام مچ گیا لہذا یہ جو حالیہ مزاکرات ہوئے ہیں اور ناکام ہو گئے ہیں دوبارہ اس طرف آنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔جنگ کے شعلے ٹرمپ اور نیتن یاہو اور ان کے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے اسی لئے امریکی عوام نے سڑکوں پر آکر جنگ کی باقاعدہ مخالفت کر دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر امریکا کو تخت سے اتار نے کی تیاریاں ہونے لگی ہیں ایسا صدر جو خوامخواہ پنگے لے رہا ہو اور اپنی معیشت کو برباد کر رہا ہو وہ ملک کی صدارت کے اہل تو نہیں کہلائے گا لہذا بہت جلد رجیم چینج ہو سکتی ہے ۔ کیسی بات ہے کہ ایران میں رجیم چینج کے لئے دو ملک صف آراء ہوئے مگر ناکام ہوگئے اب ان کے اپنے جانے کی ہوا چل پڑی ہے؟
اس کے باوجود کہ ایران ہار نہیں مان رہا اور برابر کی چوٹ لگا رہا ہے ان دونوں قیادتوں کو سمجھ نہیں آرہی وہ اب بھی ایران کو طاقت سے ختم کرکے جنگ جیتنا چاہ رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ترکی بھی آ کھڑا ہوا ہے چین روس اور کوریا تو پہلے ہی اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ کو یہی پریشانی ہے کہ ان کو جو نقصان پہنچ رہا ہے ان طاقتوں کی وجہ سے پہنچ رہا ہے۔ اس لئے جاپان نے بھی چین کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے ۔جاپان کو سرمایہ داری نظام کا سرغنہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اب وہ اپنے دفاعی بجٹ میں بے حد اضافہ کرنے جارہا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگرچین نے تائیوان پر حملہ کیا تو وہ اس کے سامنے موجود ہو گا مگر اسے معلوم نہیں کہ تائیوان میں جاپانی نہیں چینی رہتے ہیں اور وہ خودچین سے ملنا چاہتے ہیں ادھر دونوں کوریا بھی اکٹھے بیٹھنا چاہتے ہیں اس پر سرمایہ داری نظام کی بنیادیں ہل رہی ہیں لہذا اس کے محافظوں کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے کہ ان کا کیا بنے گا ۔ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا اب کیسے لوگ ایک ایسے نظام کے تحت زندگی بسر کریں کہ جو انسانوں کی قدر وقیمت ہی نہیں جانتا۔ یہ درست ہے کہ جن ملکوں میں یہ رائج ہے وہاں کے لوگوں کو کچھ سہولتیں میسر ہیں
مگر وہاں غربت پھر بھی پائی جاتی ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے مجموعی معیشت کمزور پڑ رہی ہے کیونکہ یہ ممالک پنگوں میں پڑنا اپنا فرض سمجھتے ہیں دوسرے چھوٹے اور ترقی پزیر ملکوں کو لوٹنے کے لئے پہلے خوف پھیلاتے ہیں پھران کے قدرتی وسائل کو ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں وہ کُلی طور سے کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ شعور نے مزاحمت کا راستہ دکھا دیا ہے پھر جب مفادات کا تحفظ ہر ایک کی ترجیح ہو تو اسے اپنے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا حق ہے جیسا کہ یورپ نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا کینیڈا نے تو اعلان کر دیا ہے کہ وہ جو ایک ڈالر میں سے ستر سینٹ امریکا کو دے رہا تھا اب نہیں دے گا۔
حرف آخر یہ کہ امریکا کا ایران کو فتح کرنےکا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا لہذا اسے چاہیے کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرے اورحقائق کو تسلیم کر لے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button