
تہران-بیجنگ معاہدے کے خاتمے کی خبریں، خطے میں نئی سفارتی صف بندی کا امکان
دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ معاہدے کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ اس میں ترمیم یا نئے فریم ورک کے تحت دوبارہ تشکیل بھی ممکن ہے
By VOG Urdu News Team
تہران/بیجنگ: ایران اور چین کے درمیان ہونے والے اہم اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کے خاتمے سے متعلق خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں نئی سفارتی اور معاشی صف بندی کے امکانات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مدت پوری ہونے یا شرائط پر نظرثانی کے باعث یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور چین کے درمیان طویل المدتی تعاون کا یہ معاہدہ کئی شعبوں پر محیط تھا، جس میں توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت اور سیکیورٹی تعاون شامل تھے۔ اس معاہدے کو خطے میں طاقت کے توازن اور اقتصادی روابط کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کے خاتمے سے نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ معاہدے کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ اس میں ترمیم یا نئے فریم ورک کے تحت دوبارہ تشکیل بھی ممکن ہے۔ ان کے مطابق چین اپنی بیلٹ اینڈ روڈ حکمت عملی کے تحت خطے میں سرمایہ کاری جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ ایران بھی عالمی پابندیوں کے تناظر میں نئے اقتصادی شراکت داروں کی تلاش میں رہ سکتا ہے۔
سرکاری سطح پر ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ واقعی ختم ہو چکا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ عالمی توانائی منڈی، تجارتی راستوں اور علاقائی سیکیورٹی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اپنی خارجہ پالیسیوں کو اس کے مطابق ڈھالا جا سکے۔




