پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے انڈس واٹرز ٹریٹی پر بھارت کے فیصلے کا نوٹس لینے کا مطالبہ
سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دے کہ وہ فوری طور پر معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے
مدثر احمد-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نیویارک:پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے آج نائب وزیرِاعظم/وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے لکھا گیا خط اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر، بحرین کے سفیر جمال فارس الروایعی کے حوالے کیا۔
اس خط میں سلامتی کونسل کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی (IWT) کو معطل رکھنے کے غیر قانونی فیصلے کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد اس کے سنگین امن و سلامتی اور انسانی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دے کہ وہ فوری طور پر معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے، معاہدے کے تحت تمام تعاون اور ڈیٹا شیئرنگ دوبارہ شروع کرے، پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے، اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی نیک نیتی سے مکمل پاسداری کرے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے صدر کو اس امر سے بھی آگاہ کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے سنجیدہ ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے، بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو دہرایا جا رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک دیرینہ مسئلہ ہے ۔ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہے۔



