صحتتازہ ترین

سن اسکرین اور جلد کے کینسر کا تعلق؟ ماہرین نے سوشل میڈیا کے دعوے مسترد کر دیے

 اس دعوے کو بنیاد بنا کر سن اسکرین کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ایجنسیاں

یورپ سمیت دنیا بھر میں کئی ممالک کو گرمی کی شدید لہر کا سامنا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ سن اسکرین یا دھوپ سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں جلد کے سرطان کا سبب بنتی ہیں۔

 کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سن اسکرین نہ صرف جسم کو سورج کی روشنی جذب کرنے سے روکتی ہے بلکہ جلد کے کینسر، خصوصاً میلانوما کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ یہ بحث نئی نہیں ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں اور گرم ہوتے موسم کی وجہ سے یہ سوال دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔

نیدرلینڈز،  آئی ماؤڈن کے ساحل کے داخلی راستے پر ایک کھمبہ نصب ہے جس پر آنے والوں کے لیے مفت سن اسکرین دستیاب ہے تاکہ وہ دھوپ سے جھلسنے سے بچ سکیں۔
نیدرلینڈز، آئی ماؤڈن کے ساحل کے داخلی راستے پر ایک کھمبہ نصب ہے جس پر آنے والوں کے لیے مفت سن اسکرین دستیاب ہے تاکہ وہ دھوپ سے جھلسنے سے بچ سکیں۔تصویر: Dingena Mol/ANP/IMAGO

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ایک دعوی یہ ہے کہ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 1940ء میں سن اسکرین کے استعمال کے آغاز کے بعد سے میلانوما کے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس دعوے کو بنیاد بنا کر سن اسکرین کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

متعدد سائنسی مطالعات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ سن اسکرین کا باقاعدہ استعمال جلد کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ کنیکٹیکٹ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ کی ترجمان بریٹنی شیفر کے مطابق سن اسکرین کے استعمال اور کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان کوئی سائنسی تعلق موجود نہیں۔

یہ بات بھی غلط ہے کہ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ نے کبھی یہ کہا ہو کہ سن اسکرین کی وجہ سے میلانوما کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میلانوما کے قابل اعتماد اعداد و شمار 1975ء سے دستیاب ہیں اور 1975ء سے 2023ء  تک اس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 220 فیصد تک اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن اس اضافے کا دھوپ سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی کریموں یا سن اسکرین سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

جرمنی، فرینکفرٹ 2026،  ایک شخص شدید گرمی کی لہر کے دوران دریائے مائن کے کنارے چھتری کے سائے میں لیٹا ہے۔
جرمنی، فرینکفرٹ 2026، ایک شخص شدید گرمی کی لہر کے دوران دریائے مائن کے کنارے چھتری کے سائے میں لیٹا ہے۔تصویر: Matias Basualdo/ZUMA/picture alliance

سوال یہ ہے کہ پھر میلانوما کے کیسز کیوں بڑھ رہے ہیں؟

سن 2023 میں امریکہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور ہنگری کے سائنس دانوں کی مشترکہ تحقیق نے اس اضافے کی کئی ممکنہ وجوہات پیش کیں۔ ان میں بہتر تشخیص اور رپورٹنگ، لوگوں کا زیادہ وقت دھوپ میں گزارنا اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اوزون کی تہہ کو پہنچنے والا نقصان شامل ہیں۔ یو وی شعاعوں میں اضافہ بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سن اسکرین کا استعمال درست طریقے سے نہیں کرتے۔ مختلف ممالک میں کیے گئے مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ سن اسکرین صرف گرمیوں میں یا براہ راست دھوپ میں استعمال کرتے ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا روز استعمال ضروری ہے۔

جرمنی میں 2024ء کے ایک سروے کے مطابق 51 فیصد افراد صرف گرمیوں میں سن اسکرین لگاتے ہیں اور 17 فیصد کبھی اس کا استعمال ہی نہیں کرتے۔ امریکہ میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ایک سروے میں 33 فیصد بالغ افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی سن اسکرین کا استعمال ہی نہیں کیا۔

ایک مزدور سخت گرمی کے دوران غروب آفتاب کے وقت نہاتے ہوئے سورج کے سامنے سائے کی صورت دکھائی دے رہا ہے۔
ایک مزدور سخت گرمی کے دوران غروب آفتاب کے وقت نہاتے ہوئے سورج کے سامنے سائے کی صورت دکھائی دے رہا ہے۔تصویر: Mukesh Gupta/AFP

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)، جو سن اسکرین کی حفاظت اور اس کے موثر ہونے کو یقینی بناتی ہے، واضح طور پر تجویز کرتی ہے کہ سن اسکرین کا استعمال روزانہ کیا جائے، چاہے موسم ابر آلود ہی کیوں نا ہو یا آپ گھر کے اندر ہی موجود کیوں نا ہوں۔

ماہرین کے مطابق سن اسکرین جلد کو نقصان دہ یو وی شعاعوں سے بچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات لوگوں کو حقیقی خطرات سے دور اور گمراہ کر سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button