پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، خاران اور مستونگ میں 8 دہشت گرد ہلاک، خودکش بمبار بھی مارا گیا

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کامیاب آپریشنز، اسلحہ، بارودی مواد، دیسی ساختہ بم اور موٹر سائیکلیں برآمد، کلیئرنس آپریشن جاری

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں خاران اور مستونگ اضلاع میں دو الگ الگ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائیوں کے دوران ایک خودکش بمبار بھی مارا گیا جبکہ دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (IEDs) اور موٹر سائیکلیں برآمد کر لی گئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں 25 اور 26 جون 2026 کو دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی مہم کے تحت کی گئیں، جس کا مقصد بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔

خاران میں انٹیلی جنس اطلاعات پر کارروائی

بیان کے مطابق پہلی کارروائی 25 جون کو بلوچستان کے ضلع خاران میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کو انٹیلی جنس ذرائع سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع موصول ہوئی۔

اطلاع ملتے ہی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے ایک مربوط آپریشن کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تین دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد مبینہ طور پر بھارتی حمایت یافتہ تنظیم "فتنہ الہندوستان” سے وابستہ تھے اور علاقے میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

مستونگ میں خودکش حملہ ناکام بنانے کے لیے پیشگی آپریشن

دوسری کارروائی 26 جون کو ضلع مستونگ میں کی گئی، جہاں انٹیلی جنس اداروں کو ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

سیکیورٹی فورسز نے اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے لیا۔ آپریشن کے دوران دونوں جانب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک خودکش بمبار سمیت پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث ایک ممکنہ دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا گیا، جس سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکا۔

اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد

آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال مختلف اقسام کا اسلحہ، بڑی مقدار میں گولہ بارود، دیسی ساختہ بم (IEDs)، دھماکہ خیز مواد اور موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔

حکام کے مطابق برآمد ہونے والا سامان دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کیے جانے کا امکان تھا، جبکہ اس کی فرانزک جانچ اور مزید تفتیش جاری ہے۔

کلیئرنس آپریشن جاری

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو گرفتار یا غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

فورسز جدید انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور زمینی سرچ آپریشنز کے ذریعے پورے علاقے کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔

انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری

سیکیورٹی حکام نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت منظور کردہ "ویژن عزمِ استحکام” کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف مربوط اور بلا تعطل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے نظام کا مکمل خاتمہ ہے۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

بیان کے مطابق عوام کے تعاون، مؤثر انٹیلی جنس نظام اور فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں، اور ملک میں امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button