
عبوری امن معاہدہ خطرے میں: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر تازہ حملے، خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی
ایران کا امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام، امریکی مفادات سے منسلک اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ؛ واشنگٹن کا بھی جوابی کارروائی کا اعلان
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر فوجی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر تازہ حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جس سے خطے میں جنگ بندی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
تازہ پیش رفت میں ایران نے امریکہ پر عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں امریکی افواج اور ان سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایرانی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں اور ان کا مقصد مزید کشیدگی کے بجائے اپنے مفادات اور اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا۔
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا تصادم
یہ تازہ جھڑپیں اس عبوری امن معاہدے کے چند ہی دن بعد سامنے آئی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور جامع مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا تھا۔ معاہدے میں فریقین نے فوجی کارروائیاں روکنے اور مستقل سیاسی حل کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا تھا۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے "دفاعی حق” استعمال کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوج سے وابستہ تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی پالیسی پر قائم ہے اور اگر امریکہ نے مزید کارروائیاں کیں تو اس کے نتائج کی ذمہ داری واشنگٹن پر ہوگی۔
امریکہ کا ردعمل
امریکی حکام نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے محدود نوعیت کی کارروائیاں صرف ان واقعات کے بعد کیں جن میں ایران پر خطے میں تجارتی جہازوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد تنازع کو مزید وسعت دینا نہیں بلکہ اپنے فوجیوں، اتحادی ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
آبنائے ہرمز میں خطرات بڑھ گئے
تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچا جبکہ بعض بحری جہازوں نے حفاظتی خدشات کے باعث اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، شپنگ انڈسٹری اور سپلائی چین پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی برادری کی تشویش
تازہ صورتحال پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو حالیہ عبوری امن معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے اور خطہ دوبارہ وسیع پیمانے پر عسکری تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے، جبکہ جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز کی نگرانی اور خطے میں مسلح گروہوں کے کردار جیسے بنیادی تنازعات ابھی تک حل طلب ہیں۔
مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود سفارتی ذرائع دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ عبوری امن معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے پورے خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔



