پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

جو اساتذہ نقل مافیا کا حصہ بنیں، سالہا سال سکول نہ آئیں، میں ان کا دفاع کیسے کروں؟ وزیر تعلیم

بیان پر قائم ہوں، جو کہا شواہد موجود ہیں، پیش کر سکتا ہوں،میرے مخاطب بدعنوانی، نقل، غیر حاضری اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر ہیں۔ رانا سکندر حیات

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ میں نے جس تناظر میں بات کی، میرے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ جو کہا اس پر قائم ہوں، کسی کو ضرورت ہو تو مخاطب اساتذہ کے نام بھی پیش کر سکتا ہوں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ میں نے جنہیں متوجہ کیا وہ میری بات سمجھ چکے ہیں۔ میری گفتگو سے مرضی کا حصہ نکال کر وائرل کرنا ان کی بدنیتی واضح کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تنقید تمام اساتذہ پر نہیں، بلکہ صرف بدعنوان عناصر پر ہے۔ میرا ہدف وہ ہیں جو بچوں کے مستقبل اور ریاست کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ میرے مخاطب بدعنوانی، نقل، غیر حاضری اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر ہیں۔ میری گفتگو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنے سے ایسے عناصر خود کو چھپا نہیں سکتے۔ رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ سرکاری نظام، طلبہ کے مستقبل اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانا ناقابل معافی ہے۔ جو اساتذہ نقل مافیا کا حصہ بنیں، سالہا سال سکول نہ آئیں، میں ان کا دفاع کیسے کروں؟۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سکولوں میں نہ آنا اور بچوں کی تعلیم کا حرج کرنا بھی خیانت ہے۔ صوبے کے 80 فیصد اساتذہ دیانتدار اور ہمارا فخر ہیں۔ مخلص، محنتی اور باکردار اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتا اور ان کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن برے اساتذہ کا احتساب اب کرنا ہوگا۔ قوم کے بچوں کو برے اساتذہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ بہترین اساتذہ کو ٹریننگ کیلئے بیرون ممالک بھیجنا ہم نے ہی شروع کیا۔ غلط کام کو صرف اس لیے درست نہیں کہا جا سکتا کہ کرنے والا استاد ہے۔ مقدس پیشے کی آڑ میں بدعنوانی کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ اپنے بیان میں وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ کئی اساتذہ امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے۔ جنہوں نے ہر سال بورڈ امتحانات میں نتائج تبدیل کر کے ہونہار بچوں کے مستقبل سے کھیلا، انہیں بھی عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔ اپنے بیان میں وزیر تعلیم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بدعنوانی، غفلت اور بے ضابطگی کرنے والوں کی تعلیمی نظام میں کوئی جگہ نہیں۔ بچوں کے مستقبل اور قومی اثاثوں سے کھیلنے والوں کا احتساب ہر صورت ہوگا۔ محنتی اساتذہ کی عزت اور بدعنوان عناصر کا احتساب ساتھ ساتھ چلے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button