وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات
فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ محفوظ رہے، یہ واقعہ اس عشائیے کے دوران پیش آیا، جس میں ان کے اعلیٰ وزراء اور معاونین بھی موجود تھے۔
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں منعقدہ سالانہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران ایک خطرناک سیکیورٹی واقعہ پیش آیا، جب ایک مسلح شخص نے تقریب کے مقام میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے باعث صورتحال اچانک کشیدہ ہو گئی۔
یہ عشائیہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں جاری تھا، جہاں ایک 31 سالہ شخص، جس کی شناخت کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی، مبینہ طور پر پستول اور چھریوں کے ساتھ ہال کے باہر لابی تک پہنچ گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی
عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم خفیہ سروس کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے گھیر لیا اور حراست میں لے لیا۔ اس دوران کچھ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے ہال میں موجود مہمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ایک اہلکار کو گولی لگی، تاہم اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے باعث وہ محفوظ رہا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے تصدیق کی کہ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولیوں کے خول برآمد ہوئے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
صدر اور دیگر شخصیات محفوظ مقام پر منتقل
واقعے کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو خفیہ سروس نے اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ اس موقع پر نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی تقریب میں موجود تھے، جنہیں فوری طور پر نکال لیا گیا۔
مہمانوں میں خوف و ہراس
فائرنگ کی آوازیں سن کر ہال میں موجود سینکڑوں مہمان میزوں کے نیچے چھپ گئے، جبکہ کچھ افراد نے “لیٹ جاؤ” اور “راستہ دو” کی آوازیں لگائیں۔ بعض افراد نے اس شور کو ابتدائی طور پر برتن گرنے کی آواز سمجھا، تاہم بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ گولیوں کی آوازیں تھیں۔
مہمانوں کو بعد ازاں ہال سے باہر نکالا گیا، جہاں انہیں ٹوٹے ہوئے شیشوں اور برتنوں کے درمیان سے گزرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ نیشنل گارڈ نے عمارت کے اندر اور باہر پوزیشن سنبھال لی۔
حکام کا مؤقف
واشنگٹن کی میئر موریل باؤزر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک اکیلا حملہ آور تھا اور عوام کے لیے کسی بڑے خطرے کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ صورتحال قابو میں ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “جب آپ بااثر ہوتے ہیں تو ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے”، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ “ہم کسی کو اپنے معاشرے پر کنٹرول نہیں کرنے دیں گے”۔
تحقیقات جاری، مقدمات کی تیاری
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ ملزم کے خلاف جلد الزامات عائد کیے جائیں گے اور کیس کی نوعیت واقعے کی سنگینی کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
عشائیہ منسوخ، نئی تاریخ کا اعلان متوقع
ابتدائی طور پر تقریب دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث عشائیہ منسوخ کر دیا گیا۔ ویجیا جیانگ نے کہا کہ اس تقریب کو دوبارہ منعقد کیا جائے گا اور نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
پس منظر اور اہمیت
وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کا یہ سالانہ عشائیہ امریکی سیاست اور صحافت کے درمیان ایک اہم روایت سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً آزادی اظہار اور جمہوری اقدار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ تاہم اس سال پیش آنے والے واقعے نے سیکیورٹی کے انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ واقعہ 2024 کے بعد تیسرا موقع ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قریبی ماحول میں سیکیورٹی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد ماہرین مزید سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
نتیجہ
ہفتہ کی شب پیش آنے والا یہ واقعہ امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ بروقت کارروائی سے ایک ممکنہ سانحہ ٹل گیا، تاہم اس نے اعلیٰ سطحی تقریبات میں سیکیورٹی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔







