یورپاہم خبریں

اقوامِ متحدہ اجلاس سے قبل برطانیہ کا سخت مؤقف: ایران کو واضح پیغام

برطانیہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کی حمایت کرتا ہے، تاہم خلیج میں ایران کے اقدامات کے حوالے سے واضح حدود (ریڈلائنز) بھی مقرر کرنا ضروری ہے,سٹیفن ڈوٹی

نیویارک:
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے قبل برطانیہ نے ایران کے حوالے سے اپنا دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے خلیج میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔


سفارت کاری کی حمایت، مگر واضح ریڈلائنز

برطانیہ کے یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے وزیرِ مملکت سٹیفن ڈوٹی نے کہا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کی حمایت کرتا ہے، تاہم خلیج میں ایران کے اقدامات کے حوالے سے واضح حدود (ریڈلائنز) بھی مقرر کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو خطے میں حملے روکنے ہوں گے اور وہ عالمی بحری راستوں، خصوصاً  آبنائے ھرمز تک رسائی محدود نہیں کر سکتا۔


آبناؤں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں گفتگو کرتے ہوئے سٹیفن ڈوٹی نے کہا کہ ایران نہ تو بحری جہازوں پر حملے کر سکتا ہے، نہ اتحادی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے اور نہ ہی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا:

“ایران آبناؤں کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔”


مذاکرات اور جنگ بندی پر زور

برطانوی وزیر نے کہا کہ لندن تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کا حامی ہے اور جنگ بندی کا تسلسل چاہتا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری مسلسل جاری ہے اور اس کا مقصد آبناؤں کو دوبارہ کھولنا ہے تاکہ عالمی تجارت بحال ہو سکے۔


عالمی معیشت پر خطرات

سٹیفن ڈوٹی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں خلل عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

  • توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے
  • عالمی سپلائی چینز دباؤ کا شکار ہیں
  • مختلف ممالک کی معیشتیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں

اتحادی ممالک سے قریبی رابطہ

برطانیہ اس معاملے پر اپنے اتحادیوں، بشمول فرانس اور بحرین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے International Maritime Organization میں برطانیہ کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔


بین الاقوامی اتحاد اور حکمت عملی

برطانیہ تقریباً 90 ممالک پر مشتمل ایک عالمی اتحاد کا حصہ ہے جو اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس اتحاد میں سفارتی اور فوجی سطح پر ہم آہنگی جاری ہے جبکہ امریکہ سمیت دیگر شراکت داروں سے بھی قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔


ایران کے اقدامات پر سخت تنقید

برطانوی وزیر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ:

  • بحری جہازوں پر حملے کر رہا ہے
  • خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے
  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


انسانی اور معاشی اثرات

انہوں نے کہا کہ اس بحران کے نتیجے میں:

  • ملاح متاثر ہو رہے ہیں
  • تجارت متاثر ہو رہی ہے
  • توانائی کی فراہمی خطرے میں ہے

انہوں نے انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے قیام کی کوششوں کا خیر مقدم کیا، تاہم اصل ہدف مکمل بحری رسائی کی بحالی ہے۔


سلامتی کونسل اجلاس سے توقعات

پیر کو United Nations Security Council کے اجلاس میں اس بحران پر مزید غور کیا جائے گا۔ عالمی برادری کشیدگی کم کرنے اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہے۔


نتیجہ

برطانیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایک طرف سفارتی حل چاہتا ہے، تو دوسری جانب ایران کے لیے سخت حدود بھی مقرر کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ عالمی معیشت اور بحری سلامتی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں یہ بحران بین الاقوامی سیاست کا اہم مرکز بنا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button