پاکستاناہم خبریں

پاکستان: وزیردفاع خواجہ آصف کا اہم بیان، افغانستان بھارت کی پراکسی ہے، بھارت نے خطے میں پراکسی وار شروع کر رکھی ہے

"ہم خطے میں جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔"

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کو بھارت اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پراکسی جنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔


افغانستان اور بھارت کے کردار پر تحفظات

وزیردفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے، اور یہ صورتحال خطے میں پراکسی وار کو جنم دے رہی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہوسکتے ہیں۔


امن اور ہمسائیگی کی پالیسی پر زور

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور اچھے ہمسایہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات استوار کیے جائیں۔

وزیردفاع نے کہا:

"ہم خطے میں جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔”


قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اپیل

خواجہ آصف نے سیاسی و سماجی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔


پاک فوج کی صلاحیتوں پر اعتماد

وزیردفاع نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ان کے مطابق پاک فوج نے ہمیشہ ملک کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ کسی جارحیت کی جرات نہیں کرے گا، کیونکہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری

آخر میں وزیردفاع نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ یہی راستہ دیرپا امن کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔


نتیجہ:
وزیردفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال حساس ہے۔ ان کے خیالات پاکستان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button