پاکستاناہم خبریں

پاکستان کا ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ، دفاعی تیاریوں کا مظاہرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ڈیٹرنس (باز deterrence) کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ تجربہ جنگی مشق "انڈس” کے تحت 3 مئی 2025 کو کیا گیا، جس کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیت اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ابدالی میزائل زمین سے زمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 450 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جدید نیویگیشن اور کنٹرول سسٹمز سے لیس اس میزائل کو پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک اہم جزو قرار دیا جا رہا ہے۔

تجربے کا مقصد اور تکنیکی پہلو

دفاعی حکام کے مطابق اس تجربے کا بنیادی مقصد مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، ہتھیاروں کی درستگی اور جدید ٹیکنالوجی کی کارکردگی کو جانچنا تھا۔ میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم، ہدف پر درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور فیلڈ کنڈیشنز میں کارکردگی کو بھی اس دوران پرکھا گیا۔

دفاعی حکمت عملی میں اہمیت

ماہرین کے مطابق ابدالی میزائل سسٹم پاکستان کی کم فاصلے تک مار کرنے والی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے اور خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے تجربات کا مقصد دفاعی صلاحیت کو اپ ڈیٹ رکھنا اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

علاقائی تناظر

جنوبی ایشیا میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اس نوعیت کے تجربات کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ڈیٹرنس (باز deterrence) کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

عالمی ردعمل اور ماہرین کی رائے

بین الاقوامی دفاعی ماہرین عام طور پر ایسے تجربات کو کسی بھی ملک کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔

نتیجہ

ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور تکنیکی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق ملک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے اور خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے دفاعی نظام کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، جبکہ امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ پالیسیوں کو بھی جاری رکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button