آبنائے ہرمز کی بندش: عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل، مستقبل کی جنگ فوسل فیول بمقابلہ گرین انرجی؟
خلیج فارس میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اور بڑی جنگ جاری ہے، جو توانائی کے عالمی مستقبل پر غلبے کی ہے۔ یہ مقابلہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں, امریکہ اور چین, کے درمیان ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے، جہاں تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں اور عالمی انرجی سسٹم فوری طور پر معمول پر واپس نہیں آ سکے گا۔
تیل و گیس کی ترسیل متاثر، قیمتوں میں تاریخی اضافہ
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ بحران کے باعث نہ صرف تیل بلکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔
توانائی بحران نے ایک نئی حقیقت بے نقاب کر دی
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر رہا ہے کہ روایتی ایندھن (فوسل فیول) پر حد سے زیادہ انحصار عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی اب ایک ضرورت کے طور پر سامنے آ رہی ہے، نہ کہ صرف ماحولیاتی ترجیح کے طور پر۔
توانائی کے مستقبل پر عالمی طاقتوں کی خاموش جنگ
خلیج فارس میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اور بڑی جنگ جاری ہے، جو توانائی کے عالمی مستقبل پر غلبے کی ہے۔ یہ مقابلہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں, امریکہ اور چین, کے درمیان ہے۔
امریکہ: فوسل فیول کے ذریعے عالمی اثر و رسوخ
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے تیل اور گیس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکمت عملی کا محور فوسل فیول کے ذخائر کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں جیوپولیٹیکل اثر و رسوخ کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
امریکی انرجی سیکرٹری کرس وائٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ دنیا کا سب سے بڑا آئل اور گیس برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ فریکنگ ٹیکنالوجی کی بدولت امریکہ نے پیداوار میں بے مثال اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اب سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے زیادہ تیل پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اب توانائی کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جہاں یورپی ممالک کو کم ٹیرف کے بدلے زیادہ امریکی تیل و گیس خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ جرمنی جیسے ممالک کو طویل المدتی ایل این جی معاہدوں میں باندھا جا رہا ہے۔
چین: گرین انرجی میں تیزی سے ابھرتا عالمی رہنما
دوسری جانب چین نے گزشتہ دہائی میں خود کو ماحول دوست توانائی کے میدان میں ایک عالمی رہنما کے طور پر منوایا ہے۔ انرجی ماہر آندریاس گولڈتو کے مطابق چین کی حکمت عملی مکمل طور پر ڈی کاربنائزیشن، کلین ٹیکنالوجی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے۔
چین نے درج ذیل شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے:
- شمسی توانائی (Solar Energy)
- بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی
- الیکٹرک گاڑیاں
- رئیر ارتھ میٹلز کی پروسیسنگ
اعداد و شمار کے مطابق:
- دنیا کی 60 سے 70 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چین میں تیار ہو رہی ہیں
- عالمی سولر سپلائی چین کا تقریباً 80 فیصد چین کے کنٹرول میں ہے
- ونڈ ٹربائنز مارکیٹ میں چین کا حصہ 72 فیصد تک پہنچ چکا ہے
2020 سے 2025 کے درمیان چین کی گرین ٹیک برآمدات میں چار گنا اضافہ ہوا، جبکہ 2025 میں ماحول دوست توانائی اس کی معیشت کا ایک تہائی حصہ بن چکی تھی۔
توانائی کی دوڑ: ماحول یا مفاد؟
اگرچہ چین تیزی سے قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم اس کی 60 فیصد توانائی اب بھی کوئلے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کی رفتار اور سرمایہ کاری اسے مستقبل کی توانائی کی دوڑ میں نمایاں برتری دے رہی ہے۔
عالمی رجحان: قابل تجدید توانائی کی طرف جھکاؤ
توانائی ماہرین کے مطابق دنیا کا رجحان واضح طور پر قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایران-امریکہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں نے اس تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
آندریاس گولڈتو کے مطابق:
"اگر آج کسی ایک ماڈل پر شرط لگانی ہو تو وہ ایسا ملک ہوگا جو فوسل فیول کے بجائے الیکٹرک اور گرین ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہو۔”
نتیجہ: بحران یا موقع؟
آبنائے ہرمز کا بحران جہاں عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، وہیں یہ دنیا کے لیے ایک موقع بھی فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی توانائی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔
موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی معیشت صرف تیل اور گیس پر نہیں بلکہ متبادل اور پائیدار توانائی کے ذرائع پر منحصر ہوگی۔ آنے والے برسوں میں یہی تبدیلی عالمی طاقتوں کے درمیان نئے توازن کا تعین کرے گی۔



