پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم بے نقاب، جعلی معلومات کے ذریعے امن دشمن عناصر کی نئی کوشش، عطا تارڑ

سکیورٹی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے پیچھے وہ عناصر کارفرما ہیں جو خطے میں امن، استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں سے ناخوش ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف ایک منظم اور مربوط منفی معلوماتی مہم سامنے آئی ہے جسے حکام اور تجزیہ کار خطے میں امن و استحکام کو متاثر کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، غیر مصدقہ ویب سائٹس اور بیرونِ ملک سے چلنے والے بعض نیٹ ورکس کے ذریعے ایسی معلومات پھیلانے کی کوشش کی گئی جن کا مقصد پاکستان کے مؤقف، اس کی سلامتی پالیسی اور خطے میں امن کے لیے اس کے کردار کو مشکوک بنانا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس مہم میں نامعلوم ذرائع، مبہم “عہدیداروں” اور غیر مصدقہ دعوؤں کا سہارا لیا گیا تاکہ عوام میں کنفیوژن پیدا کی جا سکے اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں معلوماتی جنگ روایتی جنگ جتنی اہم ہو چکی ہے، جہاں کسی ملک کی ساکھ، قومی بیانیے اور سفارتی پوزیشن کو متاثر کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی اس حالیہ مہم کا بنیادی مقصد ملک کے امن پسند کردار کو نقصان پہنچانا اور عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو کمزور دکھانا تھا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے کے تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی تعاون میں ہے، بعض عناصر اس بیانیے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کو معلوماتی یا پروپیگنڈا جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر جعلی خبروں، ایڈٹ شدہ ویڈیوز، من گھڑت بیانات اور فرضی دستاویزات کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اس مرتبہ مربوط انداز میں مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی نوعیت کے بیانیے کو آگے بڑھایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس مہم کے پیچھے باقاعدہ منصوبہ بندی موجود تھی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ متعدد معتبر پاکستانی میڈیا اداروں اور حقائق جانچنے والے پلیٹ فارمز نے فوری طور پر ان دعوؤں کا جائزہ لیا اور مختلف پروپیگنڈا مواد کو بے نقاب کیا۔ فیکٹ چیکنگ فورمز نے کئی وائرل پوسٹس، ویڈیوز اور دعوؤں کو غلط، گمراہ کن یا سیاق و سباق سے ہٹ کر قرار دیا۔ میڈیا ماہرین کے مطابق بروقت حقائق کی تصدیق نے اس مہم کے اثرات کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سکیورٹی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے پیچھے وہ عناصر کارفرما ہیں جو خطے میں امن، استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں سے ناخوش ہیں۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے اور اس دوران ملک نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کی کامیاب انسداد دہشت گردی پالیسی اور علاقائی امن کے لیے اس کی سفارتی کوششیں بعض حلقوں کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں، اسی لیے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید دور میں “ہائبرڈ وارفیئر” یعنی مخلوط جنگی حکمت عملی میں صرف عسکری محاذ ہی اہم نہیں رہا بلکہ معلومات، میڈیا، سائبر اسپیس اور رائے عامہ بھی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ کسی ملک کے خلاف غلط معلومات پھیلانا، عوام میں بداعتمادی پیدا کرنا، ریاستی اداروں کو متنازع بنانا اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ پیدا کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ مہم میں خاص طور پر سوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا، جہاں تیز رفتاری سے غیر مصدقہ معلومات پھیلائی گئیں۔ بعض جعلی اکاؤنٹس اور مربوط نیٹ ورکس نے مخصوص ہیش ٹیگز اور منظم پیغامات کے ذریعے ایک ہی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں اکثر بیرونِ ملک سے چلنے والے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کی جاتی ہیں تاکہ اصل ذرائع کو چھپایا جا سکے۔
اطلاعاتی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے ذمہ دار صحافت کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے کئی اداروں نے غیر مصدقہ خبروں کو نشر کرنے سے گریز کرتے ہوئے تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دی، جسے حکومتی اور عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق معلوماتی جنگ کے دور میں میڈیا کا کردار محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی بیانیے کے تحفظ، حقائق کی جانچ اور عوام کو گمراہ کن معلومات سے بچانا بھی اس کی اہم ذمہ داری بن چکی ہے۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک اپنے امن پسند مؤقف، دہشت گردی کے خلاف عزم اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق پاکستان خطے میں تنازعات کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک مسلسل امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کے خلاف اس نوعیت کی منفی مہمات اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اطلاعات اور بیانیے کی جنگ اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ مستقبل میں ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مؤثر سفارتی حکمت عملی بلکہ مضبوط ڈیجیٹل سکیورٹی، میڈیا لٹریسی اور بروقت فیکٹ چیکنگ کی بھی ضرورت ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مہمات وقتی طور پر کنفیوژن پیدا کر سکتی ہیں، لیکن اگر میڈیا، ریاستی ادارے اور عوام ذمہ داری اور شعور کا مظاہرہ کریں تو غلط معلومات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرگرم متعدد فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز کے کردار کو سراہا جا رہا ہے جنہوں نے مختلف جعلی دعوؤں کو بے نقاب کر کے حقائق کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع کا نام نہیں بلکہ معلوماتی میدان میں بھی مؤثر حکمت عملی اور بروقت ردعمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی حالیہ مہم کو اگرچہ مختلف حلقوں نے ناکام قرار دیا ہے، تاہم اس نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں اطلاعات، بیانیے اور عوامی رائے سب سے طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button