بین الاقوامیاہم خبریں

بیجنگ سربراہی اجلاس: امریکہ اور چین نئی سرد جنگ سے بچ پائیں گے؟

پہلے دنیا میں فوجی طاقت اور ایٹمی ہتھیار برتری کی علامت سمجھے جاتے تھے، لیکن اب AI، ڈیٹا، چپس اور سپر کمپیوٹنگ عالمی طاقت کا نیا پیمانہ بن چکے ہیں

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ کئی دہائیوں سے قائم اپنی عالمی برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب China خاموش لیکن مسلسل انداز میں عالمی سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی جگہ مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی نظام کے مستقبل سے جڑا ایک اہم واقعہ ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب دنیا بیک وقت کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، یوکرین جنگ، عالمی مہنگائی، توانائی بحران، مصنوعی ذہانت کی دوڑ، عالمی سپلائی چین کی مشکلات اور تائیوان کے مسئلے نے بین الاقوامی ماحول کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی نظریں بیجنگ پر مرکوز تھیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں جس انداز سے “تعاون” اور “شراکت” پر زور دیا، وہ محض سفارتی جملے نہیں تھے بلکہ ایک سوچے سمجھے عالمی پیغام کا حصہ تھے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دنیا کو تصادم نہیں بلکہ مذاکرات کی ضرورت ہے، اور یہ کہ چین اور امریکہ اگر مل کر چلیں تو پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔ یہ الفاظ بظاہر نرم اور مفاہمانہ لگتے ہیں، لیکن ان کے اندر ایک بڑی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ چین اب خود کو امریکہ کے برابر عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، نہ کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جو مغرب کے بنائے ہوئے نظام کے تابع ہو۔
شی جن پنگ نے تائیوان کے مسئلے کو امریکہ چین تعلقات کا سب سے حساس نکتہ قرار دے کر دراصل واشنگٹن کو واضح پیغام دیا کہ چین اس معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ چین کے لیے تائیوان صرف جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری، تاریخی شناخت اور سیاسی وقار کا معاملہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ تائیوان کو ایشیا میں اپنے تزویراتی مفادات کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طاقتوں کے درمیان اصل کشیدگی تجارتی جنگ سے زیادہ تائیوان کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ملاقات کے دوران شی جن پنگ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “عظیم رہنما” قرار دیا، اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعلقات کا بار بار ذکر کیا۔ بظاہر یہ نرم سفارتی ماحول تھا، لیکن اس کے پیچھے دونوں ممالک کی سخت مفادات کی سیاست موجود تھی۔ امریکہ اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، داخلی سیاسی تقسیم اور بڑھتی مہنگائی نے واشنگٹن کی پوزیشن کو پہلے جیسا مضبوط نہیں رہنے دیا۔ دوسری طرف چین اگرچہ معاشی سست روی کا شکار ہے، لیکن سیاسی استحکام اور صنعتی قوت کے باعث وہ اب بھی عالمی معیشت میں ایک مرکزی کردار رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بیجنگ اجلاس میں تجارت، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور سپلائی چین جیسے موضوعات کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین امریکی مصنوعات، خصوصاً زرعی اجناس، بوئنگ طیارے اور توانائی خریدے تاکہ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے۔ چین اس کے بدلے میں امریکی ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز اور AI ٹیکنالوجی پر امریکی پابندیاں چین کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی جنگ دراصل نئی سرد جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پہلے دنیا میں فوجی طاقت اور ایٹمی ہتھیار برتری کی علامت سمجھے جاتے تھے، لیکن اب AI، ڈیٹا، چپس اور سپر کمپیوٹنگ عالمی طاقت کا نیا پیمانہ بن چکے ہیں۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ اگر چین کو جدید AI چپس اور ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی مل گئی تو وہ صرف معاشی نہیں بلکہ عسکری میدان میں بھی امریکہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن ٹیکنالوجی پر پابندیوں کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتا ہے۔
اس ملاقات کا ایک اور اہم پہلو ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چین واقعی ایران پر دباؤ ڈالے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران چین کے لیے صرف تیل فراہم کرنے والا ملک نہیں بلکہ امریکہ کے مقابلے میں ایک اہم تزویراتی شراکت دار بھی ہے۔ چین مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کو متوازن رکھنے کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات کو اہم سمجھتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ چین واشنگٹن کی خواہش کے مطابق تہران پر کھل کر دباؤ نہیں ڈالے گا۔
بیجنگ اجلاس نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل رہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا تھا، لیکن اب چین نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سفارتی اور عسکری سطح پر بھی امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی صدر نے اپنے خطاب میں “تھوسیڈائڈز ٹریپ” کا حوالہ دیا۔تھوسیڈائڈس ٹریپ دراصل اس خوف کی عکاسی کرتا ہے کہ جب ایک نئی طاقت تیزی سے ابھرتی ہے اور پرانی طاقت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اکثر تصادم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

شی جن پنگ نے سوال اٹھایا کہ کیا چین اور امریکہ اس تاریخی جال سے بچ سکتے ہیں؟ یہ سوال دراصل پوری دنیا کے لیے اہم ہے، کیونکہ اگر دونوں طاقتیں تصادم کی راہ پر چل پڑیں تو اس کے اثرات صرف ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، تجارت، توانائی اور سلامتی متاثر ہوگی۔
اس اجلاس میں امریکی کاروباری شخصیات کی موجودگی بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔ ایلون مسک اور جینسن ہوانگ جیسے بڑے ناموں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی کارپوریٹ دنیا چین کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی۔ امریکی کمپنیاں جانتی ہیں کہ چین نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے بلکہ عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود معاشی روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوری صورتحال پر بھارت بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے گزشتہ چند برسوں میں بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم تزویراتی شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن اگر واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو نئی دہلی کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اس ملاقات کے نتائج کو صرف سفارتی خبر کے طور پر نہیں بلکہ اپنے علاقائی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات اب مکمل دشمنی یا مکمل دوستی کے دائرے میں نہیں سمجھے جا سکتے۔ دونوں ایک دوسرے کے سب سے بڑے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور سب سے بڑے تزویراتی حریف بھی۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خوفزدہ بھی ہیں۔ یہی پیچیدگی موجودہ عالمی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت بن چکی ہے۔
بیجنگ اجلاس نے وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے بحال رکھنے کا پیغام ضرور دیا ہے، لیکن بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ تائیوان، ٹیکنالوجی، عالمی قیادت، عسکری برتری اور بحرالکاہل میں اثرورسوخ کی جنگ مستقبل میں بھی دونوں طاقتوں کے تعلقات کو متاثر کرتی رہے گی۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اور چین میں مقابلہ ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ مقابلہ تعاون کے ساتھ جاری رہے گا یا کسی مرحلے پر خطرناک تصادم میں تبدیل ہو جائے گا۔
دنیا اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے۔ اب صرف فوجی قوت کافی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت، مصنوعی ذہانت، سپلائی چین اور سفارتی اثرورسوخ بھی عالمی طاقت کے بنیادی عناصر بن چکے ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات اسی بدلتی ہوئی دنیا کی ایک جھلک تھی، جہاں دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو حریف بھی سمجھتی ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر عالمی نظام کو مستحکم رکھنے میں خود کو نامکمل بھی محسوس کرتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button