مشرق وسطیٰ

ماڈلنگ کے خواب سے منشیات نیٹ ورک تک، انمول عرف پنکی کی تہلکہ خیز کہانی، تحقیقاتی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات

اس کے مطابق سابق شوہر کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ بریف کیس کے ذریعے منشیات کراچی کے مخصوص افراد تک پہنچاتی رہی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
انمول عرف پنکی نامی خاتون، جو حالیہ دنوں میں منشیات فروشی کے ایک بڑے کیس میں گرفتار ہوئی، کی تحقیقاتی رپورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ابتدائی طور پر ایک عام ماڈلنگ کی خواہشمند لڑکی سمجھی جانے والی انمول عرف پنکی کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک ایسے منظم منشیات نیٹ ورک کی تصویر پیش کی ہے، جس کے روابط مختلف شہروں تک پھیلے ہوئے بتائے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق کراچی سے ہے اور اس نے ابتدائی تعلیم سہراب گوٹھ کے ایک سرکاری گرلز اسکول سے حاصل کی۔ اس کے مطابق بچپن ہی سے اسے ماڈلنگ اور اداکاری کا شوق تھا اور اسی خواب کو حقیقت بنانے کیلئے وہ 2006 میں لاہورمنتقل ہوگئی۔
انمول کے مطابق لاہور پہنچنے کے بعد اس نے شوبز انڈسٹری میں جگہ بنانے کیلئے مختلف فلم ڈائریکٹرز اور پروڈکشن دفاتر کے چکر لگانا شروع کیے۔ اسی دوران مینارے پاکستان کے قریب اس کی ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی، جس کے ساتھ بعد میں اس نے رہائش اختیار کر لی۔ تحقیقات کے مطابق یہی تعلق بعد میں اسے ایسے افراد تک لے گیا، جنہوں نے اسے جرائم کی دنیا میں دھکیل دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انمول عرف پنکی نے دعویٰ کیا کہ اس کی ملاقات ایک سابق پولیس افسر سے فلم ڈائریکر کے دفتر میں ہوئی، جو بعد میں اس کا شوہر بنا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ اسی سابق پولیس افسر نے اسے منشیات فروش گروہ کا حصہ بنایا۔ اس کے مطابق ابتدا میں وہ صرف شوہر کے کہنے پر مخصوص بیگ اور بریف کیس ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی تھی، مگر بعد میں اسے اندازہ ہوا کہ ان میں منشیات موجود ہوتی تھیں۔
انمول نے بتایا کہ اس کے سابق شوہر کے روابط لاہور، کراچی اور راوالپنڈی تک پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ شوہر نے اسے کراچی نیٹ ورک کی ذمہ داری دی اور وہ وہاں منشیات کی ترسیل کے نظام کو سنبھالتی رہی۔ اس کے مطابق ایک گروپ ممبر خاتون، جس کے مبینہ طور پر افریقی باشندے سے تعلقات تھے، اس پورے نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی نے انکشاف کیا کہ مذکورہ خاتون نے ایک سیاہ فام افریقی شہری سے شادی کر رکھی تھی، جو مبینہ طور پر کوکین پاکستان اسمگل کرنے میں ملوث تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس افریقی شہری کے ذریعے بیرون ملک سے کوکین پاکستان لائی جاتی تھی، جسے بعد میں مختلف شہروں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
انمول نے مزید بتایا کہ 2024 میں اسے سی آئی اےنے گرفتار بھی کیا تھا، تاہم اس کے باوجود منشیات نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کے مطابق سابق شوہر کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ بریف کیس کے ذریعے منشیات کراچی کے مخصوص افراد تک پہنچاتی رہی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شوہر سے علیحدگی کے بعد انمول عرف پنکی نے اپنا الگ منشیات نیٹ ورک قائم کر لیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر خواتین اور رائیڈرز پر مشتمل سپلائی چین بنائی، جو مختلف علاقوں میں منشیات پہنچاتے تھے۔ اس کے مطابق کراچی میں اس نے سات رائیڈرز پر مشتمل ایک نیٹ ورک تیار کیا تھا، جن میں سے چار گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ تین اب بھی سرگرم بتائے جا رہے ہیں۔
انمول نے دورانِ تفتیش بتایا کہ منشیات کی ترسیل کیلئے لاہور کی ایک خاتون بھی اس کے ساتھ کام کرتی تھی، جو کوکین سپلائی میں ملوث تھی۔ اس نے اعتراف کیا کہ مالی لین دین چھپانے کیلئے اس نے ایک شخص کے نام پر بینک اکاؤنٹ بھی کھلوایا تھا تاکہ مشکوک ٹرانزیکشنز کو چھپایا جا سکے۔
دوسری جانب پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ کا تاحال باقاعدہ ڈرگ ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ اس کا میڈیکل معائنہ کیا گیا، تاہم خون، یورین اور بالوں کے نمونے حاصل نہیں کیے گئے، جو منشیات کے استعمال کی تصدیق کیلئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈرگ ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہو سکے گا کہ ملزمہ خود بھی منشیات استعمال کرتی تھی یا صرف سپلائی نیٹ ورک چلاتی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس کے دوران ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا، جس میں انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدمات کی ناقص تفتیش کا انکشاف ہوا ہے۔ تحقیقات کے مطابق لاہور میں 2020 اور 2022 کے دوران درج مقدمات میں متعلقہ تفتیشی افسر نے ملزمہ کو گرفتار نہیں کیا تھا اور نہ ہی اسے اشتہاری قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق چالان میں ملزمہ کی گرفتاری کو مؤخر رکھا گیا جبکہ اس کے بھائی ریاض کو مقدمے سے بری کروا دیا گیا۔ حیران کن طور پر برآمد ہونے والی منشیات کا فرانزک ٹیسٹ بھی نہیں کروایا گیا، جسے تفتیشی خامی قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس مقدمے کا تفتیشی افسر نزاکت اب ریٹائر ہو چکا ہے، جبکہ قانونی ماہرین کی رائے کے بعد کیس کی دوبارہ تفتیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس پورے نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ کرداروں، مالی روابط اور بیرون ملک روابط کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔
سکیورٹی اور انسداد منشیات کے ماہرین کے مطابق یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منشیات فروش گروہ کس طرح نوجوان خواتین، شوبز کے خواب دیکھنے والوں اور مالی مشکلات کا شکار افراد کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کی عالمی اسمگلنگ میں اب روایتی طریقوں کے بجائے جدید نیٹ ورکس، سوشل روابط اور پوشیدہ مالی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سماجی حلقوں نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اور شفاف کارروائی کی جائے، جبکہ ایسے مقدمات میں ناقص تفتیش کے ذمہ دار افسران کا بھی احتساب ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں مجرم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button