
سیاست ایک نئے موڑ پر آن کھڑی ہے؟…….ناصف اعوان
صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کسی کو صوبائی دفاتر سے کوئی کام کروانا ہوتا ہے تووہ سینکڑوں کلو میٹر کا سفر طے کرکے مشکل راستوں سے ہو کر کوئٹہ پہنچتا ہے
جو لوگ ہر ایک قدم پر عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کا شمار معاشرے کے معتبر و معزز افراد میں ہوتا ہے ۔
اس وقت ہماری سیاست ایک نئے موڑ پر آن کھڑی ہے اسے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ آگے بڑھے یا یہیں پے کھڑی ہو جائے آگے بڑھتی ہے تو بھی الجھاؤ کھڑی رہتی ہے تب بھی ”گُھمن گھیری“ میں پڑنے کا اندیشہ؟
اسے کہتے ہیں مکافات عمل مگر ہمارے حکمران سیاستدان اور اہل اختیار اس کا خیال بہت کم رکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دُود اندیش نہیں ہوتے اگر ہوں توکبھی بھی تلخ صورت حال سے دو چار نہ ہوں مگرنہیں وہ ہمیشہ وقتی اور معمولی مفادات کی خاطر غیر سنجیدگی کی نذر ہو جاتے ہیں بعد میں انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ پٹری سے اترگئے ہیں؟ اب جب نئے صوبوں اور اٹھائیسویں ترمیم کی بات ہو رہی ہے تو آصف علی زرداری کچھ خفا خفا سے دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی خفگی کوئی اہمیت نہیں رکھتی وہ کچھ بھی سوچیں کچھ بھی بیان دیں جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا کیونکہ کسی بھی حکمران جماعت میں اتنی سکت نہیں کہ وہ کوئی لائحہ عمل طے کر سکے لہذا صوبے بنیں گے اور اٹھائیسویں ترمیم بھی ہو گی کیونکہ ان کی انتظامی ضرورت ہے بڑے صوبوں نے عوام کو کیا دیا ہے اٹھہتر برس میں وہ ترقی نہیں ہو سکی جس کی ضرورت تھی اور توقع تھی البتہ سربراہوں نے اپنی ترقی ضرور کر لی آج بھی وہ شاہراہ ترقی پر گامزن ہیں اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی بڑا خرچہ کیا جا رہا ہے جبکہ خزانہ اس کی اجازت نہیں دیتا جسے قرضوں سے بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو بھی وہ نہیں بھر رہا اگرچہ بھاری ٹیکس بھی لگائے جا رہے ہیں مگر پھر بھی بات نہیں بن رہی کیونکہ جن ذرائع سے سرمایہ اکٹھا ہوتا ہے وہ تو محدود ہیں سکڑ سمٹ چکے ہیں پھر موجود دولت میں بھی ہیرا پھیری ہوتی ہے کروڑوں نہیں اربوں روپے اِدھر سے اُدھر ہو جاتے ہیں؟
بہرحال کسی بھی سیاسی جماعت کو نئے صوبے بننے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اب دیکھیے صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کسی کو صوبائی دفاتر سے کوئی کام کروانا ہوتا ہے تووہ سینکڑوں کلو میٹر کا سفر طے کرکے مشکل راستوں سے ہو کر کوئٹہ پہنچتا ہے اگر اس کا کام نہیں ہوتا تو اسے وہیں ٹھہرنا پڑتا ہے اگر اس کے قریب صوبائی دفاتر ہوں تو وہ چند گھنٹوں میں آ بھی سکتا ہے اور واپس جا بھی سکتا ہے لہذا اس پہلو کے پیش نظر نئے صوبوں کا قیام لازمی ہے جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اٹھائیسویں ترمیم کے لئے ہو رہا ہے تو وہ درست نہیں کہتے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وقت تھم جائے ارتقاءکو آگے بڑھنا ہی ہوتا ہے اور پھر اس میں کچھ نیا بھی ہوتا ہے۔ آج اگر پی پی پی کو اپنی سیاسی بقا کا مسلہ درپیش ہے تو یہ اس کی ناکام حکمت عملی کا نتیجہ ہے اسے سوچنا چاہیے کہ اس نے عوام کے دل جیتنے کی کیوں کوشش نہیں کی اس نے وڈیروں جاگیر داروں اور سرداروں پر ہی کیوں انحصار کیا اور سنجیدہ سیاست سے ہٹ گئی لہذا اسے جو آئندہ سیاسی منظر تبدیل ہونے کا خوف ہے تو وہ ہو کر رہے گا اس طرح دوسرے صوبے بھی سوچ رہے ہوں گے مگر پنجاب میں قدرے صورت حال مختلف ہے کیونکہ اس میں بھلے بنیادی کام بہت کم ہو رہا ہے مگر وقتی اعتبار سے کافی کچھ ہو رہا ہے لہذا جب مزید صوبے بنتے ہیں تو ان پر زیادہ تر ایک جماعت کی حکومت ہوسکتی ہے مگر یہ تجزیہ غلط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر جب اختیارات مرکز کے پاس ہوں گے تو صوبائی حکومتیں آج کی طرح من مرضی نہیں کر سکیں گی اور مرکز سے جو فنڈز انہیں ملیں گے ان کا استعمال ناپ تول کر کریں گی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا خاصا مشکل ہو گا۔
ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر حکمرانوں کی نیت عوام کی خدمت کرنا نہیں تو ہر بڑا شہر بھی صوبہ بن جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں لہذا جب تک عوام کو شریک اقتدارنہیں کیاجاتا ان کی خواہشات کا احترام ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا ان کے دن نہیں پِھر سکتےلہذا سب سے پہلے انتخابی اصلاحات ہونی چاہیں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے عام انتخابات کے نتائج کو پس پشت نہ ڈالا جائے مگر یہ بھی ہے کہ اگر ہم نے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا ہے تو ظاہر ہے ان کی ہی شرائطِ پر عمل کرنا ہو گا اور وہ کبھی بھی عوام کی نہیں اپنی سوچتے ہیں اسی لئے ہی ترقی وہی ہو رہی ہے جسے وہ چاہتے ہیں اور اس ترقی پر سرمایہ لگ تو رہا ہے واپس کچھ نہیں آرہا جس سے ہمیں قدم قدم پر مزید سرمائے کی ضرورت پڑ رہی ہےجو یہ دے رہے ہیں اس سے ہماری معیشت مستحکم پھر بھی نہیں ہو رہی۔حل یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تنہا پرواز کے خیال کو ذہن سے نکال دیں مل بیٹھیں اور جس کو نکرے لگا رکھا ہے اس سے کوئی گفت و شنید کرکے آگے بڑھنے کا پروگرام ترتیب دیں دوسرے سٹیک ہولڈر بھی اس میں شامل ہوں ان کی بھی ذمہ داری ہے اس اکٹھا سے ہی عوام کو کوئی فایدہ پہنچ سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ جماعتیں بتا سکتی ہیں کہ اس وقت جب ملک کے چار صوبے ہیں اور اٹھائیسویں ترمیم بھی نہیں ہوئی ہے انہوں نے ایسے کتنے اور کون سے منصوبے بنائے ہیں جس سے غربت میں کمی آتی ہو عوام کو سستا اور آسان انصاف ملتا ہو انہیں اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو
وڈیروں سرداروں اور زمینداروں نے کمزوروں پر دست شفقت رکھ دیا ہو اور تھانوں میں عام آدمی جاتے وقت خوف محسوس نہ کرتا ہو ایسا کچھ نہیں ہوا کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی ”سٹیٹس کو“برقرار ہے اقتدار چند ہاتھوں میں ہی ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کے پاس اختیارات زیادہ سے زیادہ ہوں فنڈز کی بھر مار ہو جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال میں لائیں اگر زیادہ صوبے بنتے ہیں تو فنڈز تقسیم ہوں گے اور یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی جماعت کی ہر صوبے میں حکومت ہو اسی لئے ہی سیاسی جماعتوں میں ہل چل ہے مگر ہم اوپر بھی بیان کر چکے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا کیونکہ پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ بر سر اقتدار جماعتوں میں سے ایک نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مل جائے تاکہ حکومت کی جا سکے ایسا اب نہیں ہونے والا کیونکہ پی ٹی آئی اس نظام کے ساتھ نہیں چل سکتی اگر چلتی بھی ہے تو بات وہی نمک کی کان میں نمک ہونے کے مترادف ہو گا خیر دیکھتے ہیں کہ گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہے یا پھر ٹیڑھی انگلی سے اگلے چند دنوں میں سب واضح ہو جائے گا ؟


