پاکستانتازہ ترین

بلوچستان میں معدنی راہداری کے تحفظ کیلئے بڑا فیصلہ،رخشان ڈویژن میں خصوصی سیکیورٹی کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت

دہشت گردی کے خاتمے، معدنی منصوبوں کے تحفظ، نوجوانوں کی فلاح اور جدید پولیسنگ پر اہم فیصلے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

شہباز شریف نے بلوچستان میں امن، سرمایہ کاری اور معدنی وسائل کے تحفظ کو قومی ترجیحات قرار دیتے ہوئے حکام کو صوبے کے رخشان ڈویژن میں خصوصی سیکیورٹی کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی اضافی تعیناتی، جدید نگرانی کے نظام، ہائی وے چیک پوسٹس اور سرحدی چوکیوں کے قیام پر زور دیا تاکہ بلوچستان میں جاری معدنیاتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت منعقد ہونے والے صوبائی ایپکس کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بلوچستان میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جاری پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔

اجلاس میں عاصم منیر، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، محسن نقوی، عطاء اللہ تارڑ، جام کمال خان، کے مشیر رانا ثناء اللہ سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

معدنی وسائل کے تحفظ کیلئے خصوصی سیکیورٹی کوریڈور

اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے اور ان وسائل کا تحفظ قومی معیشت کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ رخشان ڈویژن میں ایک منظم اور مربوط سیکیورٹی کوریڈور قائم کیا جائے جس میں اضافی ایف سی ونگز، ہائی وے سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈز، انٹیلی جنس نگرانی اور سرحدی چوکیوں کو شامل کیا جائے تاکہ معدنی منصوبوں، تجارتی راستوں اور اہم تنصیبات کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی صرف صوبے کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معاشی خودمختاری اور مستقبل کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا عزم

وزیراعظم نے اجلاس کے دوران بلوچستان اور ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز پر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لیکن ریاست ہر قیمت پر ان عزائم کو ناکام بنائے گی۔

انہوں نے  سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز اور مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام ریاستی ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت سرگرم عمل ہیں جبکہ حساس علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

جدید پولیسنگ اور نئی ٹیکنالوجی پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے جدید پولیسنگ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات، ڈیجیٹل نگرانی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں سے لیس کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف روایتی سیکیورٹی اقدامات کافی نہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات اور تکنیکی استعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے۔

بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے خصوصی اقدامات

اجلاس میں بلوچستان کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، روزگار اور تکنیکی تربیت سے متعلق جاری منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے جن میں اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز، ڈیجیٹل تربیت، تعلیمی وظائف، کھیلوں کی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت صوبے میں تعلیم، صحت، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں میں بھی ترقی کے ثمرات پہنچ سکیں۔

صحت، تعلیم اور توانائی منصوبوں پر بریفنگ

اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد سے پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو صحت عامہ کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں کینسر انسٹی ٹیوٹ، ڈائیلاسز سینٹرز، ٹراما سینٹرز اور دیگر طبی سہولیات فعال ہو چکی ہیں جبکہ مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔

تعلیم کے شعبے کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سولر انرجی پروگرام کے تحت 15 ہزار سے زائد گھرانوں کو بجلی کی سہولت فراہم کی گئی جس سے اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

گورننس اصلاحات اور میرٹ پر زور

وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینے کے اقدامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح اور گورننس کی بہتری کیلئے جاری اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سیکیورٹی، گورننس اور سماجی ترقی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کیونکہ مضبوط معیشت اور مستحکم معاشرہ ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر دفاع ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button