بین الاقوامیاہم خبریں

ایران جنگ: ٹرمپ کردوں کو موردِ الزام کیوں ٹھہرا رہے ہیں؟

ٹرمپ نے کہا، ''ہم نے مظاہرین کو بہت سے ہتھیار بھیجے تھے، اور میرا خیال ہے کہ کردوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے۔‘‘

ڈی پی اے کے ساتھ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کرد فورسز نے وہ امریکی ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے جو ایرانی مظاہرین کے لیے بھیجے گئے تھے تاہم کرد رہنماؤں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

فروری کے آخر میں  ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے پر کے بعد مارچ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر عراق میں سرحد پار موجود ایرانی کرد فورسز تہران کی اسلامی مذہبی حکومت کے خلاف حملے شروع کریں تو یہ ”بہت شاندار‘‘ ہوگا۔

اس کے اگلے ماہ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے کرد معاونت کاروں کے ذریعے ایران کے اندر مظاہرین تک ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا، ”ہم نے مظاہرین کو بہت سے ہتھیار بھیجے تھے، اور میرا خیال ہے کہ کردوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے۔‘‘

مئی میں انہوں نے کہا کہ وہ ”کردوں سے بہت مایوس‘‘ ہیں اور مزید کہا کہ واشنگٹن نے ”کچھ ہتھیار اور گولہ بارود بھیجا تھا، جو آگے پہنچایا جانا تھا لیکن انہوں نے اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا۔‘‘

عراق، ترکی اور شام میں موجود مختلف کرد دھڑوں کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے بات کی اور ان سب نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی کہ انہیں امریکہ کی جانب سے کوئی ہتھیار موصول ہوئے تھے۔

کرد جنگجو پہاڑوں میں
کرد گروہوں، جن میں پی جے اے کے بھی شامل ہے، نے واشنگٹن کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ انہوں نے امریکی ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے تھے [فائل: 17 مارچ 2026]تصویر: Afshin Ismaeli/Aftenposten/NTB/IMAGO

ایرانی کرد رہنماؤں نے ٹرمپ کے الزامات کی تردید کر دی

ایران میں کرد تنظیموں، جن میں مسلح گروہ کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) بھی شامل ہے، نے بھی وائٹ ہاؤس کے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان گروہوں کی قیادت ٹرمپ کے بیانات کو نہ صرف عملی طور پر ناممکن بلکہ سیاسی طور پر نقصان دہ قرار دیتی ہے۔

ایرانی کردستان کی کوملہ پارٹی کی نائب سیکریٹری جنرل فریبہ محمدی نے ان الزامات کو ”نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھیار کبھی بھی کرد سیاسی جماعتوں یا فورسز تک نہیں پہنچے اور اس دعوے کو زمینی حقیقت کے بجائے علاقائی سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کوملہ (کمیونسٹ پارٹی آف ایران) کی مرکزی کمیٹی کے رکن ادیب وطن دوست نے کہا کہ ان کی تنظیم کو ”ایک گولی تک، بلکہ کوئی معمولی رقم بھی‘‘ موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے اس مبینہ کارروائی کو کرد عوام کے حقیقی جمہوری مفادات کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے کی خدمت قرار دیا۔ ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی(کے ڈی پی آئی) کے نائب سیکریٹری جنرل مصطفیٰ مولودی نے کہا کہ عملی اور لاجسٹک اعتبار سے یہ الزامات ناقابلِ عمل ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سخت فوجی نگرانی والی سرحدیں، ایرانی سکیورٹی فورسز کی وسیع موجودگی اور تہران و بغداد کے درمیان حالیہ سخت سکیورٹی معاہدے  اسلحہ کی ایسی کسی بھی سرحد پار منتقلی کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔

ٹرمپ اب یہ دعوے کیوں کر رہے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل سے متعلق ٹرمپ کے متنازع دعوے دراصل سیاسی توجہ ہٹانے کی ایک مثال ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ پر توجہ دینے والے ادارے ‘دی امارگی آؤٹ لیٹ‘ کے ایڈیٹر اِن چیف کمال چومانی نے اس صورتحال کا موازنہ بائبل میں بیان کردہ ‘سنہری بچھڑے‘ کی کہانی سے کیا، جو قیادت کی ناکامیوں اور الزام دوسروں پر ڈالنے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

چومانی کے مطابق ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے شدید متاثر تھے اور انہوں نے اس غلط اور حد سے زیادہ پُرامید اندازے پر کام کیا کہ ایرانی حکومت جلد ہی گرنے والی ہے۔ جب ایسا نہ ہوا تو ٹرمپ کو کسی قربانی کے بکرے کی ضرورت پڑ گئی۔

چومانی نے کہا، ”اس ناکامی کو چھپانے کے لیے ٹرمپ کردوں کو ایک ‘سنہری بچھڑا’ بنا رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”کردوں کو ایران منتقل کرنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں بھیجے گئے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، حتیٰ کہ اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں، ہتھیار پہنچانا تو ایک طرف رہا۔‘‘

یونیورسٹی آف سسیکس میں بین الاقوامی تعلقات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران متین نے بھی اس تجزیے سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا، ”ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی جنگ کی ناکامی، جو اپنے بنیادی اہداف حاصل نہ کر سکی، کا جواز پیش کرنے کے لیے کردوں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ”ایرانی مظاہرین سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا نہ کر سکنے کی ناکامی بھی کردوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ جب ایرانی حکومت مظاہرین کا قتل عام کرے گی تو وہ ان کی مدد کو آئیں گے۔‘‘

کرد جنگجو خواتین تربیت حاصل کر رہی ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل سے متعلق ٹرمپ کے متنازع دعوے دراصل سیاسی توجہ ہٹانے کی ایک مثال ہیںتصویر: Keiwan Fatehi/MEI/SIPA/picture alliance

کرد کون ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات کرد سیاسی معاشرے سے متعلق ان کی بنیادی لاعلمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی صدر ‘کردوں‘ کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں جیسے وہ ایک واحد، متحدہ گروہ ہوں، جو واشنگٹن کے احکامات کا انتظار کر رہا ہو۔ جبکہ تین کروڑ سے زائد کرد آبادی کئی ممالک، خاص طور پر ایران، عراق، ترکی اور شام، میں پھیلی ہوئی ہے۔

ہر ملک کا اپنا پیچیدہ سیاسی منظرنامہ، بائیں بازو سے لے کر قدامت پسند نظریات تک مختلف جماعتیں، اور الگ علاقائی حالات ہیں۔

ڈاکٹر کامران متین نے اس لاعلمی کے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے گفتگو میں کہا،”ٹرمپ کو کرد معاشرے اور سیاست کی بہت محدود سمجھ ہے۔ تمام کردوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرا کر، مختلف کرد گروہوں، جماعتوں اور خطوں کے فرق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، وہ جنگ مخالف اور امریکہ مخالف عوامی جذبات کا رخ کردوں کی جانب موڑ رہے ہیں، جو ان کرد گروہوں  پر خطرناک حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button