تازہ ترینمشرق وسطیٰ

ایران کے ممکنہ پیشگی حملے کا خدشہ، اسرائیل اور امریکہ ہائی الرٹ پر

رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے درمیان ایران کے حوالے سے نقطہ نظر پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : May 22, 2026 at 9:47 AM IST

تل ابیب: یروشلم پوسٹ نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ بندی کے مذاکرات کے درمیان ایران خلیجی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے اچانک میزائل اور ڈرون حملے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق، اعلیٰ فوجی حکام اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز پر مشتمل سیکیورٹی کے جائزے کے دوران پیشگی ایرانی حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران بالواسطہ جنگ بندی پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ رپورٹس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے درمیان ایران کے حوالے سے نقطہ نظر پر اختلافات کا انکشاف بھی کیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق، اس سے پہلے کہ امریکہ اور اسرائیل یہ نتیجہ اخذ کریں کہ سفارتی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور فوجی کارروائی کا فیصلہ کریں، ایران حملے کی کوشش کر سکتا ہے۔ مبینہ طور پر حکام نے ممکنہ آپریشن کا موازنہ آپریشن ایپک فیوری اور آپریشن روئرنگ لائین کے ابتدائی مراحل سے کیا۔

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ اور اسرائیل ڈفینس فورس (آئی ڈی ایف) کے آپریشنز ڈائریکٹوریٹ نے، جس کی سربراہی میجر جنرل ہدائی زیلبرمین کر رہے تھے، نے آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی، جس میں غیر معمولی ایرانی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں انٹیلی جنس شیئرنگ بھی شامل ہے۔

دریں اثنا، آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے دفاعی اور جارحانہ منظرناموں کا احاطہ کرنے والے وسیع تر جائزے کے حصے کے طور پر فوجی کمانڈروں سے مشاورت کی۔

ضمیر امریکی فوجی حکام سے بھی رابطے میں رہے ہیں تاکہ تہران سے حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کو مربوط کیا جا سکے۔

اس جائزے میں مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان میزائل انٹرسیپشن سسٹم، آپریشنل کوآرڈینیشن، تکنیکی انضمام، سافٹ ویئر اپ گریڈ اور فوجیوں کی کمک میں تعاون کو بڑھایا گیا۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیل کو امریکی فوجی ساز و سامان کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر ایران کی جوہری صلاحیتوں کو بے اثر کرنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، "ہمیں وہ (افزودہ یورینیم) مل جائے گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد شاید اسے تباہ کر دیں گے، لیکن ہم انہیں اسے لینے نہیں دیں گے۔”

خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 900 پاؤنڈ انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے مزید بہتر کرنے کی صورت میں ممکنہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا دعویٰ کیا جاتا ہےکہ، ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی عسکری اور سفارتی حکمت عملی کا مرکزی مقصد اس ذخیرے کو دوبارہ حاصل کرنا یا بے اثر کرنا۔

امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ ثقافتی اور مذہبی اختلافات کو دشمنی کی وجہ قرار دیتے ہوئے تمام عالمی فورمز پر ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button