یورپتازہ ترین

یونان: نئی سیاسی پارٹی کا قیام، اہم ایجنڈا ٹرانسپورٹ سیفٹی

اب تک کسی سیاستدان پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، جبکہ متاثرین کے اہلِ خانہ حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

روئٹرز کے ساتھ

ماریا کاریستیانو، جن کی بیٹی 2023 میں یونان کے بدترین ٹرین حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی، نے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں اس پارٹی کا مقصد ٹرانسپورٹ تحفظ، بدعنوانی کا خاتمہ اور شفافیت کو فروغ دینا بتایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس اقدام کے ذریعے وزیرِاعظم متسوتاکیس کائریاکوس کی حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔

کاریستیانو اس وقت انصاف کے لیے چلائی جانے والی مہم کی نمایاں رہنما بن کر سامنے آئیں جب ٹیمپی ٹرین حادثے میں 57 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ان کی 20 سالہ بیٹی مارتھی بھی شامل تھی۔ اس سانحے نے یونان کے سیاسی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔

گزشتہ سال کاریستیانو نے ملک بھر میں لاکھوں افراد کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا۔ تب ہونے والے مظاہرے کئی برسوں میں ہونے والے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شامل تھے، جن میں حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔

اس حادثے کے سلسلے میں اس وقت 36 ملزمان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے، جن میں ایک اسٹیشن ماسٹر، ریلوے مینیجرز اور سابق ریلوے آپریٹر کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔ ان پر ٹریفک میں خلل ڈالنے سے لے کر غفلت کے باعث قتل اور جسمانی نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اب تک کسی سیاستدان پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، جبکہ متاثرین کے اہلِ خانہ حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ٹیمی ٹرین حادثے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے
ٹیمی ٹرین حادثے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھےتصویر: Costas Baltas/Anadolu/picture alliance

یہ نئی پارٹی پارلیمنٹ پہنچ سکتی ہے

جمعرات کو ماریا کاریستیانو نے تھیسالونیکی کے ایک کھچا کھچ بھرے سنیما ہال میں اپنی جماعت ”ہوپ فار ڈیموکریسی‘‘ کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ جماعت پارلیمان میں نشستیں حاصل کر سکتی ہیں اور آئندہ 12 ماہ میں متوقع انتخابات سے قبل یونان کی منتشر اپوزیشن میں موجود خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

53 سالہ کاریستیانو نے روئٹرز کو بتایا، ”مجھے احساس ہوا کہ غیر جانبدار یا لاتعلق رہنے کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ”اس چیز کے لیے لڑنا ہے جو مجھ سے چھین لی گئی، یعنی قانون کا نفاذ‘‘۔

کاریستیانو پیشے کے اعتبار سے بچوں کی ڈاکٹر ہیں اور انہیں سیاست کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں۔ جنوری میں ایک میڈیا انٹرویو میں انہوں نے اسقاطِ حمل کے معاملے پر اپنی تقسیم شدہ رائے کا اظہار کیا تھا، جس پر بائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ ان کے خیالات خواتین کے قانونی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ عورت کے حقِ انتخاب کو تسلیم کرتی ہیں۔

اس کے باوجود کاریستیانو کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی تجربہ نہ ہونا دراصل ایک فائدہ ہے، کیونکہ ان کے مطابق موجودہ سیاسی نظام ایسے ‘مرغوں کی لڑائی‘ سے بھرا ہوا ہے جہاں سیاسی مخالفین اقتدار میں آنے کے بعد ایک جیسی پالیسیاں نافذ کرتے ہیں۔

 ٹیمپی ٹرین حادثے میں 57 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ماریا کاریستیانو کی 20 سالہ بیٹی مارتھی بھی شامل تھی
ٹیمپی ٹرین حادثے میں 57 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ماریا کاریستیانو کی 20 سالہ بیٹی مارتھی بھی شامل تھیتصویر: Sakis Mitrolidis/AFP/Getty Images

پارٹی کا ایجنڈا کیا ہے؟

جمعرات کو جب لوگ سنیما ہال کے اندر اور باہر بڑی اسکرین پر کاریستیانو کی تقریر دیکھ رہے تھے، انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی جماعت ٹرانسپورٹ کی حفاظت، صحت اور تعلیم میں اصلاحات، بدعنوانی کے خلاف جنگ، اور سرکاری معاہدوں و بینکاری نظام میں شفافیت کو فروغ دینے پر توجہ دے گی۔

اس ماہ الفا ٹی وی کے لیے الکو پولسٹرز کے ایک سروے میں 15 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ماریا کاریستیانو کی قائم کردہ جماعت کو ووٹ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔

اگر یہ حمایت ووٹوں میں تبدیل ہو جاتی ہے تو کاریستیانو ایک بااثر سیاستدان بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وزیرِاعظم  کائریاکوس کی جماعت ‘نیو ڈیموکریسی‘ کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ اس کمی کی وجہ بدعنوانی کے اسکینڈلز اور ٹیمپی ٹرین حادثہ ہے، جس کے بارے میں تفتیش کاروں نے کہا کہ یہ حفاظتی ناکامیوں اور یونان کے ریلوے نظام کی دہائیوں پر محیط غفلت کا نتیجہ تھا۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق میتسوتاکس کی جماعت نیو ڈیموکریسی کو 23 سے 29 فیصد تک حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ یہ اب بھی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے، لیکن 2023 کے انتخابات میں حاصل کیے گئے 41 فیصد ووٹوں کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے۔

کاریستیانو نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”میں آج آپ کے سامنے اس لیے نہیں کھڑی کہ میں نے کوئی سیاسی راستہ اختیار کیا۔ میں کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں رہی، نہ ہی میرا تعلق کسی سیاسی خاندان سے ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”آج یہاں ایک ماں، اس ملک کی ایک شہری کے طور پر کھڑی ہوں، ایک ایسے انسان کے طور پر جسے ان خرابیوں کا براہِ راست سامنا کرنا پڑا جنہیں ہم سب برسوں سے جھیل رہے ہیں، مگر بہت کم لوگ ان کا نام لیتے ہیں۔‘‘

ان کے اس بیان کو ممکنہ طور پر میتسوتاکس اور دیگر موروثی سیاستدانوں کی جانب اشارہ سمجھا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button